مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 25 Jun 2009
ڈیرہ کے جواں سالہ پاکستانی بابر اقبال نے کمپیوٹر کی فیلڈ میں دبئی میں ہونیوالے امتحان میں چوتھا ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق بارہ سالہ بابر اقبال جن کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے پہلے ہی مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل’ سرٹیفائیڈ انٹرنیٹ ویب’ سرٹیفائیڈ وائرلیس نیٹ ورکنگ ایڈمن فیلڈ میں تین ورلڈ ریکارڈ بنا چکے ہیں نے اب حال ہی میں دبئی میں ہونیوالے مائیکرو سافٹ ٹیکنیکل اسپیشلسٹ ڈیولپرکے امتحان میں 91% نمبر حاصل کر کے چوتھا ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ بابر اقبال نو سال کی عمر سے ورلڈ ریکارڈ قائم کرتے چلے آ رہے ہیں۔ انہوں نے چوتھا ورلڈ ریکارڈ قائم کرکے پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ ان کی اعلیٰ کارکردگی کی بناء پر وزیراعلیٰ سرحد نے انہیں بیس ہزارروپے نقد انعام دیا تھا۔
لنک
زمرہ : پاکستان | 3 تبصرے »
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 17 Jun 2009
زمرہ : پاکستان | 5 تبصرے »
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 16 Jun 2009
جنرل پرویز مشرف کی طرف سے میاں نواز شریف کو دی گئی ١٤ سال قید با مشقت کی سزا معاف کرنے کیلئے صدر سے اپیل
چیف ایگزیکٹوسیکرٹریٹ ، اسلام آباد
عنوان: معافی کی منظوری
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعہ ٤٥ کے تحت صدر کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ :
(الف ) سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے ٣٠ اکتوبر ٢٠٠٠ء کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ٤٠٢-بی اور سیکشن ٧ کے تحت خصوصی اے ۔ ٹی اپیل نمبر ٤٣ اور انسداد دہشت گردی ایکٹ ١٩٩٧ء میں میاں محمد نواز شریف کو سنائی گئی عمر قید کی سزا معاف کی جائے۔
( ب ) احتساب عدالت اٹک قلعہ کی جانب سے ٢٢ جولائی ٢٠٠٠ء کو قومی احتساب بیورو آرڈیننس ١٩٩٩ ء کی شق ٩(اے) (وی) ، ریفرنس نمبر ٢ کے تحت میاں محمد نواز شریف کو سنائی گئی ١٤ سال قید با مشقت کی سزا معاف کی جائے۔
جنرل پرویز مشرف
چیف ایگزیکٹو آف پاکستان اور
چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف
اینڈ چیف آف آرمی اسٹاف
صدر مملکت:
درخواست منظور کی جاتی ہے، سزائیں معاف کر دی گئیں
(دستخط )
صدر کے نام سزا معاف کرنے کی اپیل
دی چیف ایگزیکٹو
نمبر ٢٢٩/٣/(اے)/ڈائر-سی/٢٠٠٠ بتاریخ ١٠ دسمبر ٢٠٠٠ء
بخدمت جناب صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان
ڈیئر سر
یہ کہ درخواست گزار نمبر ایک پر دیگر کے ہمراہ کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک میں انسداد دہشت گردی ایکٹ ١٩٩٧ ء کی شق نمبر ٦/٧ اور تعزیرات پاکستان کی دفعات نمبر ١٢٠ بی, ١٢١, ١٢١ اے, ١٢٣, ٣٦٥, ٤٠٢ بی, ٣٢٧ کے تحت جرائم پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔
درخواست گزار نمبر ایک کے دیگر شریک ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا لیکن درخواست گزار نمبر ایک کو مذکورہ عدالت کی جانب سے سنائے جانے والے فیصلے کے تحت ٦ اپریل ٢٠٠٠ء کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ ٤٠٢ اور انسداد دہشت گردی ایکٹ ١٩٩٧ء کی شق ٧ کے تحت جرائم پر سزا سنائی گئی اور مندرجہ ذیل سزائیں سنائی گئیں۔
تعزیرات پاکستان کی دفعہ ٤٠٢-بی کے تحت جرائم پر:) (١) عمر قید با مشقت (٢) پانچ لاکھ روپے جرمانہ ( عدم ادائیگی کی صورت میں )
(٣) تمام جائیداد کی ضبطی
انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ ٧ کے تحت جرائم:(١) عمر قید (٢) پانچ لاکھ روپے جرمانہ ( عدم ادائیگی کی صورت میں پانچ سال قید با مشقت ) (٣) پرواز نمبر پی کے ٨٠٥ کے تمام مسافروں کو مساوی شرح سے ٢٠ لاکھ روپے ہرجانے کی ادائیگی
٣۔ یہ کہ درخواست گزار نمبر ایک کی جانب سے فیصلے کے خلاف اپیل پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ ٤٠٢-بی اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ ٧ پر سزا برقرار رکھی گئی ہے لیکن سزا میں مندرجہ ذیل تبدیلی کی گئی ہے (١) عمر قید (٢) پانچ لاکھ روپے جرمانہ ( جرمانے کی عدم ادائیگی پر پانچ سال قید با مشقت ) (٣) جائیداد کی ضبطی (٥٠ کروڑ کی مالیت کی حد تک منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد )
٤۔ یہ کہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے نیب آرڈیننس ١٩٩٩ء کے تحت دائر کئے گئے ریفرنس میں درخواست گزار نمبر ایک پر احتساب عدالت اٹک قلعے میں مقدمہ چلایا گیا اور نیب آرڈیننس کی دفعہ ٩(اے) (وی) کے تحت سزا سنائی گئی اور مندرجہ ذیل سزائیں دی گئیں۔ ( ١) ١٤ سال کیلئے قید با مشقت (٢) ٢ کروڑ روپے جرمانہ ( جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں تین سال کی قید با مشقت ) (٣ ) حکومت پاکستان کی آئینی یا مقامی اتھارٹی یا کسی عوامی عہدے کی نمائندگی یا بطور رکن نامزد یا مقرر، منتخب کئے جانے کیلئے ٢١ سال تک نااہلی ۔
٥۔ یہ کہ درخواست گزار نمبر ایک کو صحت کے سنگین مسائل درپیش ہیں۔ یہ کہ درخواست گزار نمبر ایک اور درخواست گزار نمبر دو سے چار تک کے طرز عمل کے خلاف تحقیقاتی ایجنسیوں کے پاس بعض انکوائریز اور تحقیقات زیر التواء ہیں اور تحقیقات کے نتیجے میں سزا ہو سکتی ہے۔
مندرجہ بالا نکات کے پیش نظر یہ درخواست کی جاتی ہے کہ درخواست گزار نمبر ایک کی قید کی سزا معاف کر دی جائے تا کہ وہ علاج کیلئے بیرون ملک جانے کے قابل ہو سکے اور درخواست گزاروں کو ماضی کے کسی مبینہ طرز عمل کے حوالے سے سزا نہ دی جائے۔
دستخط :
درخواست گزار نمبر ایک : میاں محمد نواز شریف
درخواست گزار نمبر دو: میاں شہباز شریف
درخواست گزار نمبر تین: میاں عباس شریف
درخواست گزار نمبر چار : حسین نواز
خفیہ اور ضررسے پاک قرار دینے کا معاہدہ
میں زیر دستخطی محمد نواز شریف تسلیم کرتا ہوں کہ میں نے اپنی جانب سے پاکستان میں قید سے اپنی رہائی کیلئے ” جنٹلمین “ کی مذاکرات میں معاونت کرنے کی منظوری دی ہے۔ میں زیر دستخطی مزید تسلیم کرتا ہوں کہ میں اپنی جانب سے مذاکرات کے نتائج اور تسلسل سے پوری طرح مطمئن ہوں، یہ کہ مجھ سے مذاکرات پر پوری طرح مشورہ کیا جاتا رہا ہے، یہ کہ میں مذاکرات کے ہر مرحلے سے پوری طرح اتفاق کرتا ہوں اور یہ کہ میں نتائج سے پوری طرح متفق اور اسے تسلیم کرتا ہوں۔ میں نے جس ملک میں جانا منظور کیا ہے وہاں اپنی آمد پر، میں زیر دستخطی عہد اور اتفاق کرتا ہوں کہ میں ١٠ سال تک کے عرصے کیلئے پاکستان میں اپنی قید کے حوالے سے یا پاکستان کے مفادات کے خلاف کسی بھی نوعیت کی سرگرمیوں، سیاسی یا کاروباری سرگرمیوں میں شمولیت اختیار نہیں کروں گا۔ مزید یہ کہ میں زیر دستخطی پاکستان سے باہر، جس ملک میں رہائش پزیر ہونا میں نے منظور کیا ہے، ١٠ سال تک قیام کروں گا لیکن میں اس شرط پر سفر کر سکوں گا کہ میں اپنی جائے قیام پر واپس آؤں گا۔ میں زیر دستخطی مزید اتفاق کرتا ہوں کہ میں ماسوا پہلے سے حاصل کردہ تحریری منظوری کے پاکستان سے اپنی رہائی اور منظور شدہ مقام پر اپنے قیام میں شامل نہ تو ” جنٹلمین “ اور نہ ہی ملک کا نام کسی فریق پر منکشف کروں گا۔ مزید یہ بھی کہ میں زیر دستخطی خاص طور سے تمام شامل فریقوں کو پاکستان سے اپنی رہائی، میری جانب سے ” جنٹلمین “ کے مذاکرات اور میرے منظور کردہ ملک میں رہائش کے حوالے سے خواہ کسی بھی نوعیت کے دعوے ہوں یا رہے ہوں بری الذمہ کرتا ہوں۔
٢ دسمبر٢٠٠٠ء کے دن دستخط کئے گئے۔
خفیہ اور ضررسے پاک قرار دینے کا معاہدہ
میں زیر دستخطی محمد شہباز شریف تسلیم کرتا ہوں کہ میں نے اپنی جانب سے پاکستان میں قید سے اپنی رہائی کیلئے ” جنٹلمین “ کی مذاکرات میں معاونت کرنے کی منظوری دی ہے۔ میں زیر دستخطی مزید تسلیم کرتا ہوں کہ میں اپنی جانب سے مذاکرات کے نتائج اور تسلسل سے پوری طرح مطمئن ہوں، یہ کہ مجھ سے مذاکرات پر پوری طرح مشورہ کیا جاتا رہا ہے، یہ کہ میں مذاکرات کے ہر مرحلے سے پوری طرح اتفاق کرتا ہوں اور یہ کہ میں نتائج سے پوری طرح متفق اور اسے تسلیم کرتا ہوں۔ میں نے جس ملک میں جانا منظور کیا ہے وہاں اپنی آمد پر، میں زیر دستخطی عہد اور اتفاق کرتا ہوں کہ میں ١٠ سال تک کے عرصے کیلئے پاکستان میں اپنی قید کے حوالے سے یا پاکستان کے مفادات کے خلاف کسی بھی نوعیت کی سرگرمیوں، سیاسی یا کاروباری سرگرمیوں میں شمولیت اختیار نہیں کروں گا۔ مزید یہ کہ میں زیر دستخطی پاکستان سے باہر، جس ملک میں رہائش پزیر ہونا میں نے منظور کیا ہے، ١٠ سال تک قیام کروں گا لیکن میں اس شرط پر سفر کر سکوں گا کہ میں اپنی جائے قیام پر واپس آؤں گا۔ میں زیر دستخطی مزید اتفاق کرتا ہوں کہ میں ماسوا پہلے سے حاصل کردہ تحریری منظوری کے پاکستان سے اپنی رہائی اور منظور شدہ مقام پر اپنے قیام میں شامل نہ تو ” جنٹلمین “ اور نہ ہی ملک کا نام کسی فریق پر منکشف کروں گا۔ مزید یہ بھی کہ میں زیر دستخطی خاص طور سے تمام شامل فریقوں کو پاکستان سے اپنی رہائی، میری جانب سے ” جنٹلمین “ کے مذاکرات اور میرے منظور کردہ ملک میں رہائش کے حوالے سے خواہ کسی بھی نوعیت کے دعوے ہوں یا رہے ہوں بری الذمہ کرتا ہوں۔
٢ دسمبر ٢٠٠٠ء کے دن دستخط کئے گئے۔
حلف نامہ
مجھے، میاں شہباز شریف ،ہنگامی طور پر محض علاج کیلئے سعودی عرب سے امریکا جانے کی ضرورت ہے کیونکہ میری بیماری آپریشن کی متقاضی ہو سکتی ہے اور یہ سہولت سعودی عرب میں دستیاب نہیں ہے۔ میں حامی بھرتا ہوں کہ میں اپنے علاج کی تکمیل پر فوری طور پر سعودی عرب واپس آ جاؤں گا۔ میں مزید حامی بھرتا ہوں کہ امریکا میں اپنے قیام کے دوران میں اور میرے ہمراہی کوئی انٹرویو دیں گے نہ میڈیا سے رابطہ کریں گے اور نہ ہی میں اپنی موجودہ یا سابقہ حیثیت کے حوالے سے یا پاکستان اس کی موجودہ حکومت ، سیاسی حالات یا پاکستان اور اس کی حکومت کے کسی بھی معاملے کے حوالے سے خواہ اس کی نوعیت کچھ بھی ہو کوئی عوامی بیان جاری نہیں کروں گا۔
بتاریخ ٢٦ جنوری ٢٠٠٣ء
میاں شہباز شریف

بشکریہ جنگ
زمرہ : پاکستان | 3 تبصرے »