یہ تحریر 17 Jun 2009 کو 6:46 pm بجے پاکستانکے زمرے میں شائع کی گئی ۔
آپ اس تحریر پر کیے جانے والے تبصروں سے آگاہ رہنے کے لیے RSS فیڈ استعمال کر سکتے ہیں ۔
آپ اس تحریر پر تبصرہ کر سکتے ہیں اور ٹریک بیک استعمال کر سکتےہیں ۔
5 تبصرے to “پاکستانی بچے …. آہ ہماری نوجوان نسل!!!”
منیر صاحب اس نسل کی تباہی اور بربادی میں ان ہی لوگوں کا ہاتھ ہے جو پہلے تو حقوق غصب کیئے بیٹھے رہے عوام کے مال پر عاشیاں کرتے رہے اور جب عوام کی برداشت سے باہر ہونے لگی تکلیفیں تو کبھی اس سے کہا تمھارا دشمن انڈیا ہے اس کے خلاف ہمیں مضبوط کرو خود پیٹ پر پتھر باندھ لو اور اسلحے کے نام پر دبا کر کرپشن کی اگر کسی نے ان کا ہاتھ روکنا چاہا تو اس کا اوپر پہنچانے میں دیر نہ لگائی اور اس کی خوب بدنامی بھی کروائی کیونکہ میڈیا تو ان کے گھر کی لونڈی تھا مشرف اسی لیئے تو برا لگتا ہے کمبخت میڈیاکو آزاد کر گیا جو جھوٹ سچ یہ عوام کو سنایا کرتے تھے اس سے محروم ہوگئے،پھر اس نے ان سروس مینز کو ایکس سروس مینز بنا دیا اسی لیئے اسے راستہ سے ہٹانے کی ہر ہر کوشش کرڈالی مگر جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ،مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہے،تو کبھی عوام کو آپس میں لڑوا ڈالا،ایک کو دوسرے کا دشمن ثابت کرتے رہے،
جماعت کے غبارے کی ہوا تو نکل ہی گئی ہے اب آخری داؤ بچا ہے نواز لیگ مگر اب نہ تو 80 کی دہائی ہے اور نہ 90 کی اس لیئے اب پچھتاوے کیا ہووت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت،اب عوام کو حقوق دیئے بغیر نہ کسی کی جان چھوٹے گی اور نہ سیاہ ست چلے گی،
ایک اطلاع آپ حضرات کو دینا ہے کسی سعودی عرب میں رہنے والے انتہائ تعصبی شخص نے فرحان دانش کا بلاگ یہاں بلاک کروادیاہے،دیکھ لیں کس قدر خوف زدہ ہیں یہ متحدہ کی طاقت سے کیونکہ اس کی طاقت عوام ہیں میں سمجھ تو گیا ہوں کہ یہ کون شخص ہو سکتا ہے مگر وہ بھول گیا ہے کہ سچائی کو نہ تو زیادہ دیر تک چھپایا جا سکتا ہے اور نہ ہی دبایا جاسکتا ہے،ایک حسن نثار ہی کیا بے شمار پڑھے لکھے لوگ اور صحافی متحدہ کے نظریات کو پسند کررہے ہیں اور فالو کررہے ہیں،بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اب اس ملک میں وہی سیاست کرسکے گا جو متحدہ کی طرح عوام کی بات کرے گا،
صاحب آپ ناراض نہ ہوں مگر جو کام آپ نے کیا ہے، اسے سادہ الفاظ میں چوری ہی کہتے ہیں۔ کم از کم اس ویبسائٹ کا لنک ہی دے دیتے جہاں سے یہ تصاویر آپ نے لی ہیں۔ ویسے اگر آپکو علم نہیں تو بوسٹن گلوب کی سائٹ دیکھ لیجئے۔ یہ اخباری ویبسائٹ انتہائی معیاری فوٹوگرافی پر مشتمل ایک بلاگ چلا رہی ہے جو آپ خود بھی دیکھ سکتے ہیں۔ http://www.boston.com/bigpicture/2009/06/children_in_pakistan.html
یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی آپ جیسے پڑھے لکھے اور مہذب شخص کے اخلاق کا اجزائے ترکیبی ہیں۔ اگر میرے الفاظ برے لگے ہوں تو تہہ دل سے معافی کا خواستگار ہوں۔
ناراضگی کیسی فیصل بھائی بلکہ آپ کا بیحد شکریہ کہ آپ نے یہ لنک فراہم کیا ہے، دراصل یہ تمام تصاویر مجھے ایک دوست نے میل کی تھیں، جسے میں نے بلاگ پر لگا دیں، اب اسے میرا نکما پن یا نااہلی سمجھیے کہ میں نے اس کا اصل جانے بغیر بلاگ پر لگا دیں۔ بہرحال آپ کا ایک بار پھر بیحد شکریہ
تو جناب ثابت یہ ہوا کہ کہہ میں بھی غلط نہیں رہا تھا ،البتہ یہ خوشی کی بات ہے کہ آپ کو اللہ نے ان خبیثوں میں شامل ہونے سے محفوظ رکھا اپنے اور بہت سے پسندیدہ بندوں کی طرح،میرا ارد گرد ایسی ہی کہانیوں سے بھرا پڑا ہے اسی لیئے ہمارے پورے خاندان کا شمار عزت کے ساتھ روکھی سوکھی کھا کر خوش ہونے والوں میں ہوتا ہے اور ہمیں یہی سکھایا جاتا ہے کہ عزت کی سوکھی روٹی ذلت کے مرغ مسلم سے کہیں بہتر ہے الحمد للہ،
بس اس ملک میں ایسے لوگ کم تعداد میں نہیں اکثریت میں ہونے چاہیئیں تاکہ یہ ملک خداداد واپس اس راستے پر لوٹ جائے جس کے لیئے اسے حاصل کیا گیا تھا،آمین،
منیر صاحب یہ تبصرہ مینے اجمل صاحب کی پوسٹ سرکاری تابعداری یا غداری پر کیا ہے مگر احتیاط کے طور پر آپ کے بلاگ پر بھی پوسٹ کر دیا ہے کہ اگر وہاں انکو نہ مل سکے تو یہاں پڑھ لیں :)
شکریہ
18 Jun 2009 بوقت 4:31 am
منیر صاحب اس نسل کی تباہی اور بربادی میں ان ہی لوگوں کا ہاتھ ہے جو پہلے تو حقوق غصب کیئے بیٹھے رہے عوام کے مال پر عاشیاں کرتے رہے اور جب عوام کی برداشت سے باہر ہونے لگی تکلیفیں تو کبھی اس سے کہا تمھارا دشمن انڈیا ہے اس کے خلاف ہمیں مضبوط کرو خود پیٹ پر پتھر باندھ لو اور اسلحے کے نام پر دبا کر کرپشن کی اگر کسی نے ان کا ہاتھ روکنا چاہا تو اس کا اوپر پہنچانے میں دیر نہ لگائی اور اس کی خوب بدنامی بھی کروائی کیونکہ میڈیا تو ان کے گھر کی لونڈی تھا مشرف اسی لیئے تو برا لگتا ہے کمبخت میڈیاکو آزاد کر گیا جو جھوٹ سچ یہ عوام کو سنایا کرتے تھے اس سے محروم ہوگئے،پھر اس نے ان سروس مینز کو ایکس سروس مینز بنا دیا اسی لیئے اسے راستہ سے ہٹانے کی ہر ہر کوشش کرڈالی مگر جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ،مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہے،تو کبھی عوام کو آپس میں لڑوا ڈالا،ایک کو دوسرے کا دشمن ثابت کرتے رہے،
جماعت کے غبارے کی ہوا تو نکل ہی گئی ہے اب آخری داؤ بچا ہے نواز لیگ مگر اب نہ تو 80 کی دہائی ہے اور نہ 90 کی اس لیئے اب پچھتاوے کیا ہووت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت،اب عوام کو حقوق دیئے بغیر نہ کسی کی جان چھوٹے گی اور نہ سیاہ ست چلے گی،
ایک اطلاع آپ حضرات کو دینا ہے کسی سعودی عرب میں رہنے والے انتہائ تعصبی شخص نے فرحان دانش کا بلاگ یہاں بلاک کروادیاہے،دیکھ لیں کس قدر خوف زدہ ہیں یہ متحدہ کی طاقت سے کیونکہ اس کی طاقت عوام ہیں میں سمجھ تو گیا ہوں کہ یہ کون شخص ہو سکتا ہے مگر وہ بھول گیا ہے کہ سچائی کو نہ تو زیادہ دیر تک چھپایا جا سکتا ہے اور نہ ہی دبایا جاسکتا ہے،ایک حسن نثار ہی کیا بے شمار پڑھے لکھے لوگ اور صحافی متحدہ کے نظریات کو پسند کررہے ہیں اور فالو کررہے ہیں،بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اب اس ملک میں وہی سیاست کرسکے گا جو متحدہ کی طرح عوام کی بات کرے گا،
18 Jun 2009 بوقت 12:31 pm
صاحب آپ ناراض نہ ہوں مگر جو کام آپ نے کیا ہے، اسے سادہ الفاظ میں چوری ہی کہتے ہیں۔ کم از کم اس ویبسائٹ کا لنک ہی دے دیتے جہاں سے یہ تصاویر آپ نے لی ہیں۔ ویسے اگر آپکو علم نہیں تو بوسٹن گلوب کی سائٹ دیکھ لیجئے۔ یہ اخباری ویبسائٹ انتہائی معیاری فوٹوگرافی پر مشتمل ایک بلاگ چلا رہی ہے جو آپ خود بھی دیکھ سکتے ہیں۔
http://www.boston.com/bigpicture/2009/06/children_in_pakistan.html
یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی آپ جیسے پڑھے لکھے اور مہذب شخص کے اخلاق کا اجزائے ترکیبی ہیں۔ اگر میرے الفاظ برے لگے ہوں تو تہہ دل سے معافی کا خواستگار ہوں۔
18 Jun 2009 بوقت 6:54 pm
ناراضگی کیسی فیصل بھائی بلکہ آپ کا بیحد شکریہ کہ آپ نے یہ لنک فراہم کیا ہے، دراصل یہ تمام تصاویر مجھے ایک دوست نے میل کی تھیں، جسے میں نے بلاگ پر لگا دیں، اب اسے میرا نکما پن یا نااہلی سمجھیے کہ میں نے اس کا اصل جانے بغیر بلاگ پر لگا دیں۔ بہرحال آپ کا ایک بار پھر بیحد شکریہ
پاکستانی’s last blog post..پاکستانی بچے …. آہ ہماری نوجوان نسل!!!
19 Jun 2009 بوقت 9:51 pm
ناراض نہ ہونے کا شکریہ
(-:
24 Jun 2009 بوقت 8:11 am
تو جناب ثابت یہ ہوا کہ کہہ میں بھی غلط نہیں رہا تھا ،البتہ یہ خوشی کی بات ہے کہ آپ کو اللہ نے ان خبیثوں میں شامل ہونے سے محفوظ رکھا اپنے اور بہت سے پسندیدہ بندوں کی طرح،میرا ارد گرد ایسی ہی کہانیوں سے بھرا پڑا ہے اسی لیئے ہمارے پورے خاندان کا شمار عزت کے ساتھ روکھی سوکھی کھا کر خوش ہونے والوں میں ہوتا ہے اور ہمیں یہی سکھایا جاتا ہے کہ عزت کی سوکھی روٹی ذلت کے مرغ مسلم سے کہیں بہتر ہے الحمد للہ،
بس اس ملک میں ایسے لوگ کم تعداد میں نہیں اکثریت میں ہونے چاہیئیں تاکہ یہ ملک خداداد واپس اس راستے پر لوٹ جائے جس کے لیئے اسے حاصل کیا گیا تھا،آمین،
منیر صاحب یہ تبصرہ مینے اجمل صاحب کی پوسٹ سرکاری تابعداری یا غداری پر کیا ہے مگر احتیاط کے طور پر آپ کے بلاگ پر بھی پوسٹ کر دیا ہے کہ اگر وہاں انکو نہ مل سکے تو یہاں پڑھ لیں :)
شکریہ