Pakistani


دوست کو ارسال کریں Print This Post 123 بار دیکھا گیا ٹیگز:,,,,,,

اب تو لمحوں کی بھی فرصت نہیں، آرام کہاں؟

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 11 Nov 2009

لے کے آیا ہے کہاں وقت کا گرداب مجھے
کر دیا اپنے ہی خیالات نے غرقاب مجھے

پھر مخاطب ہوں شبِ ہجر کی تنہائی سے
اے سحر! اور کوئی گی کوئی خواب مجھے

درد ہی درد ملے ہاتھ کی ریکھاؤں میں
کم نصیبی نے دئیے حیف یہ اسباب مجھے

اب تو لمحوں کی بھی فرصت نہیں، آرام کہاں؟
زندگی اور سکھائے گی کچھ آداب مجھے

خشک سالی کا یہ عالم ہے کہ شاہین اب تو
اپنے دریا میں بھی پانی ملے، نایاب مجھے

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

متعلقہ تحاریر


اپنی رائے دیجیے

درج ذیل خانوں میں آپ اردو لکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی لکھنے کے لیے Control اور Space کے بٹن ایک ساتھ دبائیے

XHTML: ان ٹیگز کے استعمال کی اجازت ہے: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>



CommentLuv Enabled