Pakistani » Blog Archive » بنیاد پرست

Pakistani


تحریر کا پرنٹ نکالیں دوست کو ارسال کریں Visited 1131 Times

بنیاد پرست

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 18 جولائي 2007

نائن الیون کے بعد سے اب تک مسلسل بنیاد پرستی کا لفظ استعمال ہو رہا ہے اور ہماری حکومت روشن خیالی کے چکر میں طرح طرح ہھتکنڈے اور اقدامات کر رہی ہے، ناسمجھ بنیاد پرستی کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے یہ بھول جانتے ہیں کہ مسلمان تو ہوتا ہی بنیاد پرست ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہوتے ہیں، وہ منافق کہلاتے ہیں.


ملتی جلتی تحریریں

  • “بنیاد پرست“ پر محترم ساجد صاحب کا تبصرہ
  • روشن خیال مسلمان
  • ایک اور نمازِ جمعہ
  • اور بھی غم ہیں زمانے میں
  • مسلمانی

  • 8 تبصرے to “بنیاد پرست”

    1. اجمل کا کہنا ہے کہ:

      سب سے زیادہ بنیاد پرست ۔ انتہاء پسند اور متعصب یہودی اور عیسائی ہیں ۔
      ہمارے لوگ ذاتی اغراض کی وجہ سے دین سے دور جا چکے ہیں اسلئے ان کی عقلیں ماؤف ہو چکی ہیں اور نظریں مغرب کی بے حیاء چمک سے خیرہ ہو گئی ہیں

    2. ساجداقبال کا کہنا ہے کہ:

      بنیاد پرست، روشن خیال یہ سب ڈھکوسلے ہیں. جو نماز پڑھے وہ بنیاد پرست اور جو کلب میں ناچے وہ روشن خیال…

    3. نعمان کا کہنا ہے کہ:

      آجکل بنیاد پرستی کی اصلاح اتنی مقبول نہیں اس کی جگہ اسلام پسند، شدت پسند، دہشت گرد، طالبان وغیرہ لے چکے ہیں۔ اور مجھے یہ ماننے میں عار نہیں کہ یہ سب الفاظ سننے میں انتہائی کڑوے اور دلیل میں انتہائی بے وزن ہیں۔ اسلام پسند ضروری نہیں کہ تشدد پسند انتہاپسند دہشت گرد بھی ہو۔

      ساجد اقبال ۔۔ میں ایسے کئی روشن خیالوں کو جانتا ہوں جو پنج وقتہ نمازی، شرع کے پابند، تعلیمیافتہ اور خوف خدا رکھنے والے ہیں۔ جس طرح بنیادپرستی کی تعریف میں سقم ہے اسی طرح روشن خیالی کی آپ کی تعریف بھی انتہائی بھدی ہے۔

      اجمل کا یہ کہنا کہ سب سے زیادہ متعصب یہودی اور عیسائی ہوتے ہیں بذات خود بدترین تعصب کی ایک مثال ہے۔ لوگوں کی نظریں بے حیائی سے خیرہ نہیں ہوئی ورنہ بے حیائی اور بدقماشی سری لنکا میں بھی ہے، مالدیب میں بھی اور مشرق وسطی میں بھی۔ لیکن ہمارے لوگ بے حیائی اپنانا نہیں چاہتے۔ لوگوں کی نظریں انصاف، مساوات، تعلیم و فن اور انسانی معاشرے کی ترقی میں مغرب کی برتری سے خیرہ ہیں۔ وہ یہی مساوات، انصاف، تعلیم و فن کی ترقی اور معاشرتی بہبود اپنے معاشرے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس خواہش کو بے حیائی اور فحاشی کے عذر لنگ سے روند ڈالنا حماقت ہی نہیں خودکشی ہے۔

    4. Ajnabee01 کا کہنا ہے کہ:

      مولوی حضرات پچھلے ساٹھ برسوں ميں حاصل کی گئی طاقت کو برقرار رکھنے کے لئيے ہر غير اسلامی حربہ قتل، خودکش بمباری وغيرہ استعمال کر رہے ہيں- اسلام کا نام حسب معمول صرف عوام کو بيوقوف بنانے اور انکی ہمدردياں حاصل کرنے کے ليئے ليا جا رہا ہے- حکومت کو پوری قوت سے اس فتنہ کو کچل دينا چاہيئےتاکہ ہميشہ کے لئيےعوام کی جان ان منافقوں سے چھوٹ جائے-

    5. ساجد کا کہنا ہے کہ:

      آخر یہ کیوں فرض کر لیا گیا ہے کہ دوسروں کے مذہب پر لعن طعن کر کے ہی ہم اپنی مسلمانی کا اظہار کرسکتے ہیں؟ جس طرح سے مسلمانوں میں سبھی لوگ برے نہیں اسی طرح کسی بھی مذہب کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کے ماننے والے برے ہیں یا متعصب ہیں ایک نہایت نا معقول رویہ ہے اور اسلامی تعلیمات اور نبی پاک (علیہ صلوۃ والسلام) کے ارشادات کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی۔ ہمارا یہی وہ رویہ ہے جس کو اختیار کر کے ہم نے پوری دنیا کو اپنا دشمن بنا رکھا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہودیت اور عیسائیت بھی اسلام کی طرح سے آسمانی مذاہب ہیں اور اللہ کے پاک پیغمبروں کے ذریعہ سے لوگوں تک پہنچے۔ اسلام کے آ جانے کے بعد اگرچہ ان مذاہب کی شریعت پر عمل کی ضرورت نہیں لیکن ان پر انگلی اٹھانا بھی مناسب نہیں۔ دوسری بات یہ کہ اگر ہم اس کو عیسائیت کہتے ہیں جو آج کل یورپ ، امریکہ ، افریقہ کے ممالک اور آسٹریلیا میں عیسائیت کے نام پر اور اسرائیل میں یہودیت کے نام پر رائج ہے تو مجھے کہنے دیجئیے کہ ان دونوں نظاموں کا عیسائیت اور یہودیت سے دُور کا بھی واسطہ نہیں۔ بُش اینڈ کمپنی اور اسرائیل خونخواری اور بربریت کا بد ترین مظاہرہ کر کے اپنے تئیں عیسائیت اور یہودیت کی جو خدمت کر رہے ہیں اُس کی ان دونوں مذاہب میں نہ تو گنجائش ہے اور نہ ہی ان مذاہب کی تعلیم۔ یہ شیطان ملعون کے نظریات کی پیروی ہے اللہ اور اس کے انبیاء کا بھیجا ہوا دین ہرگز نہیں۔ اور جب یہ لوگ عیسائیت اور یہودیت کی اصلی تعلیمات پر عمل ہی نہیں کرتے تو ان کے قبیح اعمال کی وجہ سے ان دونوں آسمانی مذاہب کو بدنام کرنا بھی مناسب نہیں۔
      اب آئیے اسلام کی طرف جو سراسر امن اور سلامتی کا دین ہے۔ تاریخ دیکھئیے کہ مسلمانوں نے تلوار اس صورت میں اٹھائی جب ان پر لڑائی مسلط کی گئی۔ اگرچہ کچھ مسلمان فاتحین آپ کو ایسے بھی ملیں گے کہ جنہوں نے صرف اقتدار کے حصول یا مال و زر کی طلب میں مسلمان یا غیر مسلم ممالک کو زیر و زبر کیا لیکن اس کا اسلام سے تعلق نہیں جوڑا جا سکتا۔بالکل ویسے ہی جیسا میں درج بالا سطور میں اسرائیل اور بش کمپنی کی خونخواری پر مبنی کرتوتوں پر عرض کر چکا ہوں اسی طرح سے ان کے عمل کو بھی اسلامی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیوں کہ اسلام اس طرز عمل کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لئیے اگر کوئی غیر مسلم، دہشت گردی یا تشدد کا تعلق اسلام سے جوڑ کر سب مسلمانوں کو مؤرد الزام ٹھہراتا ہے وہ بالکل بکواس کرتا ہے۔ اور جو کلمہ گو تشدد، دہشت گردی اور لا قانونیت کو اپنے تئیں احیائے اسلام کے لئیے جائز سمجھتا ہے اس کے اس عمل کو ہمیں قظعی رد کر دینا چاہئیے۔ وہ نہ صرف ایک مسلم معاشرے میں فساد کا سبب بنتا ہے بلکہ اللہ کے اس دین کو بد نام کرنے کا باعث بھی بنتاہے۔ اس کے اس پر تشدد عمل کو بہانہ بنا کر غیر مسلموں کو نہ صرف ہمارے دین پر انگلی اٹھانے کا موقع ملتا ہے بلکہ اس تشدد کے نتیجے میں بہت سارے بے گناہ بھی اپنی جان سے جاتے ہیں۔ اور اس تشدد کو جہاد کا نام دینا تو اور بھی غلط ہے۔ مزید یہ کہ جہاد صرف تلوار ہی سے نہیں کیا جاتا۔ فی الوقت بھی ہمارے پاکستان کو اس تلواری اور کلاشنکوفی جہاد کی نہیں تعلیمی اور حِرفی جہاد کی شدید ضرورت ہے۔
      ساتھیو ، ہاں ہمیں ایک بنیاد پرست مسلمان ہونا چاہئیے۔ لیکن وہ کون سی بنیاد ہے کہ جس پر ہم ایک مسلم معاشرے کی پر شکوہ عمارت کھڑی کر سکتے ہیں؟ وہ بنیاد ہمارے رب نے اپنے پاک پیغمبر پر حضرت جبریل کے ذریعے اتاری گئی وحی کے اولین لفظ “اقراء“ کی شکل میں بہت وضاحت سے بیان فرما دی۔ نبی پاک (علیہ صلوۃ والسلام) کی پوری تبلیغ اور دعوت حق اسی لفظ “اقراء“ کی بہترین عملی تفسیر ہے۔ یہاں تک کہ غیر مسلم جنگی قیدیوں کے لئیے بھی یہ رعایت دی گئی کہ جو قیدی ایک مسلمان کو پڑھنا لکھنا سکھائے گا اس کو چھوڑ دیا جائے گا۔ حضرات ، یہ ہے وہ بنیاد پرستی جو ہم میں سے ہر ایک کو اپنانا چاہئیے اور اس پر فخر کرنا چاہئیے۔ کیوں کہ یہ ہمارے دین “وحی“ کی بنیاد ہے۔ یہ ہمارے پیارے نبی کا طریقہ ہے۔
      اور ایک مسلمان سے زیادہ روشن خیال کون ہو سکتا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد (علیہ صلوۃ والسلام) تک تمام انبیائے کرام پر ایمان۔ سابقہ آسمانی مذاہب اور شارعین کا احترام۔ اور ان کے ناموں پر اپنے بچوں کے نام۔ دشمنوں کے ساتھ بھی حسن سلوک۔ بلا تفریق مذہب تمام نوع انسانی کو ایک باپ (آدم) کی اولاد جانتے ہوئے ان سے محبت کرنا۔ یہ سب روشن خیالی نہیں تو کیا ہے؟ مغرب کی نام نہاد این - جی -اوز اور روشن خیالی کی علمبردار تنظیمیں کیا ایسی ایک بھی مثال پیش کر سکتی ہیں۔ ان کی تان اپنے مفادات کے لئیے مسلمانوں کو دہشت گرد کہنے سے شروع ہوتی ہے اور اپنے آقاؤں سے مال بٹورنے پر ٹوٹتی ہے۔
      یہی ان کی جہالت ہے جو دنیا کا امن برباد کئیے ہوئے ہے۔ ان کا منافقانہ رویہ اور دوہرا معیار آج نہ صرف مسلم ممالک بلکہ پوری دنیا کے لئیے درد سر بنتا جا رہا ہے۔
      وقت آ گیا ہے کہ ہم کو سطحی باتوں سے آگے بڑھنا چاہئیے۔ معاملات کو تشدد کا رنگ دینے سے پہلے سوچنا چاہئیے کہ اس سازش کے پیچھے کون ہے۔ اور اگر ہم اسی طرح جذباتیت کا مظاہرہ کرتے رہے تو یہ سازشی ہمیں ایک دوسرے سے لڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانیں دیں گے۔ عراق میں جب ایک دن میں سو دو سو مسلمان اپنی جان سے جاتے ہیں تو کون شمار کرتا ہے کہ ان میں سے کتنے بنیاد پرست تھے اور کتنے بے بنیاد؟ کتنے شیعہ تھے اور کتنے سنی؟ کتنے کرد تھے اور کتنے عرب؟ کتنے پانچ وقت کے نمازی تھے اور کتنے کلبوں میں ڈانس کرنے والے؟ خونخوار بھیڑیوں کا کام ہے خونخواری اور تہذیبوں کی بربادی اور وہ اپنا کام کئیے جا رہے ہیں۔ ان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ خونخواری افغانستان میں ہو یا عراق میں، لبنان میں ہو یا فلسطین میں، چاڈ میں ہو یا دارفور میں، سوڈان میں ہو یا ایتھوپیا میں ، صومالیہ میں ہو یا گھانا میں۔ اور اب ان کا نیا نشانہ اسلام آباد ہے۔ اس لئیے فی الوقت ہم کو ایک دوسرے کے ذاتی کردار اور اس کے اندر موجود اسلام کے تناسب کے تجزیات کی بجائے اپنی بقا کی فکر کرنا چاہئیے۔

    6. ساجد کا کہنا ہے کہ:

      اجمل صاحب ، سچی بات کہوں تو یہ کہنا پڑے گا کہ میں آج کل سعودیہ میں مقیم ہوں اور یہاں صرف مسلم ممالک سے ہی نہیں غیر مسلم ممالک کے لوگ بھی حج اور عمرہ کا شرف حاصل کرنے کے لئیے آتے ہیں۔ چونکہ میں مدینہ منورہ میں رہایش پذیر ہوں اس لئیے کافی زیادہ ممالک کے معتمرین اور حجاج کرام سے ملاقات رہتی ہے۔ اور اپنے معلومات میں اضافے کے ٹھرک کے ہاتھوں مجبور مَیں مختلف ممالک کے لوگوں کی عادات کا غور سے مشاہدہ کرتا ہوں۔ مَیں نے یہ دیکھا ہے کہ جو لوگ مغرب بقول آپ کے (بے حیاچمک) کے ماحول سے یہاں آتے ہیں ان کا رویہ اور انداز اپنے دیسی ممالک کے جدی پشتی اور ثقہ بند مسلمانوں سے کہیں بہتر ہوتا ہے۔ جب ہم اپنے روز مرہ کے معاملات میں شامل صرف جھوٹ کے عنصر کا ہی ان سے مقابلہ کریں تو ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ ان کے اندر وہ اچھی صفات جو ایک مسلمان کا خاصہ ہیں ہم سے زیادہ پائی جاتی ہیں۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ نہ تو ان صفات پر غرور کرتے ہیں اور نہ ہی بات بات پر ہماری طرح اپنی مسلمانی کے بلند بانگ دعوے کر کے اپنی ان صفات کا توا لگاتے ہیں۔ اگر مغرب کی “بے حیا“ چمک کا وجود اتنا ہی پر اثر ہے تو یہ فارمولا ان پر کیوں فٹ نہیں آتا؟ ابھی پچھلے ہی حج پر یہاں منیٰ میں افغانی حجاج نے رات کو قریب میں لیٹے ہوئے حجاج کے کمبل چوری کئیے اور اگلے دن یہ خبر اخبارات میں آئی۔اور شرمندگی کی بات یہ تھی کہ ان میں سے اکثر کے پاس پاکستان کے جعلی پاسپورٹ تھے۔ کیا ساری برائیاں مغرب کی بے حیائی میں ہیں؟ نہیں محترم ہم بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ چھپے رستم ہیں۔ یہاں اپنے اکثر لوگ حرم شریف کے اندر بھی آنکھیں سینکنے سے باز نہیں آتے حالانکہ یہ پاکستانی ، بنگلہ دیشی اور بھارتی ان سے کم “بے حیا“ ماحول سے تشریف لاتے ہیں۔
      محترم ،ضرورت ہے تو ہمیں اپنے معاشرے کو سدھارنے کی دوسروں کے کردار پر انگلی اٹھانے کی نہیں۔ اگر ہمارے لوگوں کی (بقول آپ کے) عقلیں ماؤف ہو گئیں ہیں تو کیا آپ اس کی وجہ بتائیں گے کہ کیوں ایسا ہوا؟ وہ دین سے دور ہیں تو کیوں ہیں؟ وہ کون سے ذاتی مفادات ہیں جو دین پر عمل کرنے سے روکتے ہیں؟
      ان سب سوالوں کا ایک ہی جواب ہے کہ ہمارے اندر منافقت کی جڑیں بہت گہری ہو گئی ہیں۔ اور ہم ایسے اڑیل ٹٹو کی مانند ہو چکے ہیں جس کو جتنے بھی ڈنڈے پڑیں وہ ٹس سے مس نہیں ہونے والا۔

    7. پاکستانی | “بنیاد پرست“ پر محترم ساجد صاحب کا تبصرہ کا کہنا ہے کہ:

      […] مدنیہ منورہ میں مقیم محترم ساجد صاحب نے “بنیاد پرست“ پر بے لاگ تبصرہ کیا ہے۔ جسے میں قارئین کی سہولت کے لئے […]

    8. پاکستانی » Blog Archive » روشن خیال مسلمان کا کہنا ہے کہ:

      […] کا بائیکاٹ کریںکمزور مقابل ہو تو فولاد ہے جرنیلبنیاد پرستٹو ان وناور لائن کٹ […]

    اپنی رائے دیجیے

    درج ذیل خانوں میں آپ اردو لکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی لکھنے کے لیے Control اور Space کے بٹن ایک ساتھ دبائیے

    XHTML: ان ٹیگز کے استعمال کی اجازت ہے: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>


    پاکستانی بلاگ CommentLuv plugin استعمال کر رہا ہے، جو کوشش کرے گا آپ کی سائٹ کی فیڈ کو تلاش کرنے اور آپ کی آخری پوسٹ کے لنک کو پیش کرنے کی، اس لیے براہ کرم انتظار فرمائیں جب تک یہ کام کیا جا رہا ہے۔
    
     
    Close
    E-mail It