سارہ منیر کی سالگرہ
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 31 اگست 2007
میری پیاری بیٹی سارہ منیر اللہ کے فضل و کرم سے پورے تین سال کی ہو گئی ہے۔ بیٹیاں اللہ کی رحمت ہوتیں ہیں اس لئے پیاری بھی بہت لگتی ہیں۔ سارہ جوں جوں بڑی ہوتی جا رہی ہے اس کے معصوم اور نرم گرم سوال بھی بڑے ہوتے جا رہے ہیں، اس لئے اب کوئی کام کر لے تو فورا کہتی ہے “دیکھو بابا میں بڑی ہو گئی ہوں“ اور بابا اس کی اس معصوم ادا پر صدقے واری ہو کے رہ جاتا ہے۔
١٤ اگست کی رات کو بازار میں بڑی بھیڑ ہوتی ہے اور اہم عمارات کو دلہنوں کی طرح سجایا ہوا تھا میں طٰہ اور سارہ کو گھماتے ہوئے جب الفلاح بینک اور میزان بینک کی عمارتوں کے سامنے پہنچا (دونوں عمارتیں واقعی دلہن کی سجی سنوری ہوئیں تھیں) تو سارہ نے کہا
بابا آج کس کی شادی ہے؟ (اس نے اب تک شادی بیاہ پر ہی عمارتوں کو سجا ہوا دیکھا تھا)
آج پاکستان کی شادی ہے بابا، ١٤ اگست ہے نا، آزادی کا دن اس لئے
کس کا ١٤ اگست؟
ہمارا ١٤ اگست، پاکستان کا ١٤ اگست
خوش ہو کے، ”ہمارا ١٤ اگست ہے، ہمارا پاکستان ہے۔”
![]() |
![]() |
| |
![]() |
![]() |
![]() |
![]() |
![]() |
![]() |
![]() |
بیٹیاں پھولوں کی طرح ہوتی ہیں
بیٹیوں کے بارے میں دو نظمیں
تپتی زمیں پر آنسوؤں کے پیار کی صورت ہوتی ہیں
چاہتوں کی صورت ہوتی ہیں
بیٹیاں خوبصورت ہوتی ہیں
دل کے زخم مٹانے کو
آنگن میں اتری بوندوں کی طرح ہوتی ہیں
بیٹیاں پھولوں کی طرح ہوتی ہیں
نامہرباں دھوپ میں سایہ دیتی
نرم ہتھیلیوں کی طرح ہوتی ہیں
بیٹیاں تتلیوں کی طرح ہوتی ہیں
چڑیوں کی طرح ہوتی ہیں
تنہا اداس سفر میں رنگ بھرتی
رداؤں جیسی ہوتی ہیں
بیٹیاں چھاؤں جیسی ہوتی ہیں
کبھی بلا سکیں، کبھی چھپا سکیں
بیٹیاں اَن کہی صداؤں جیسی ہوتی ہیں
کبھی جھکا سکیں، کبھی مٹا سکیں
بیٹیاں اناؤں جیسی ہوتی ہیں
کبھی ہنسا سکیں، کبھی رلا سکیں
کبھی سنوار سکیں، کبھی اجاڑ سکیں
بیٹیاں تو تعبیر مانگتی دعاؤں جیسی ہوتی ہیں
حد سے مہرباں، بیان سے اچھی
بیٹیاں وفاؤں جیسی ہوتی ہیں
پھول جب شاخ سے کٹتا ہے بکھر جاتا ہے
پتّیاں سوکھتی ہیں ٹوٹ کے اُڑ جاتی ہیں
بیٹیاں پھول ہیں
ماں باپ کی شاخوں پہ جنم لیتی ہیں
ماں کی آنکھوں کی چمک بنتی ہیں
باپ کے دل کا سکوں ہوتی ہیں
گھر کو جنت بنا دیتی ہیں
ہر قدم پیار بچھا دیتی ہیں
جب بچھڑنے کی گھڑی آتی ہے
غم کے رنگوں میں خوشی آتی ہے
ایک گھر میں تو اُترتی ہے اداسی لیکن
دوسرے گھر کے سنورنے کا یقیں ہوتا ہے
بیٹیاں پھول ہیں
ایک شاخ سے کٹتی ہیں مگر
سوکھتی ہیں نہ کبھی ٹوٹتی ہیں
ایک نئی شاخ پہ کچھ اور نئے پھول کھِلا دیتی ہیں۔۔۔۔












.jpg)
.jpg)

.jpg)
.jpg)
31 اگست 2007 بوقت 8:15 am
مبارکباد.
اللہ سائیں اس کے نصیب اچھے کرے.
آمین.
31 اگست 2007 بوقت 10:16 am
اللہ بچی کو تین سال مبارک کرے ۔ سدا صحتمند و تندرست اور خوش و خوشحال رکھے ۔
31 اگست 2007 بوقت 10:57 am
سارہ کو سالگرہ بہت بہت مبارک ہو. اور ایسی ہزاروں تندرستی سے بھرپور سالگرہ دیکھے.
31 اگست 2007 بوقت 12:42 pm
آمین
شاکر عزیز، اجمل صاحب اور جہانزیب آپ سب کا سارہ بٹیا کے لئے نیک تمناؤں کے اظہار کے لئے بہت بہت
31 اگست 2007 بوقت 2:11 pm
بڑی پیارئ ہے! اللہ سدا خؤش رکھے!
31 اگست 2007 بوقت 3:30 pm
اللھ خوشیاں عطا کرے اور والدین کے لئیے قرت
31 اگست 2007 بوقت 3:32 pm
اللہ اسے خوشیاں عطا کرے اور والدین کے لئیے قرت العین بنائے (امین)
31 اگست 2007 بوقت 6:17 pm
بیٹی کو رب العزت کوئی غم نہ دکھائے
بیٹی پر ہمارا بھی ایک شعر ہے
زندہ مثال ہےجہاں میں صبر و شکر کی
سسرال جیسا بھی ہوبیٹٰی نباہ کرتی ہے
01 ستمبر 2007 بوقت 7:10 am
سارہ منیر کو سالگرہ کی بہت بہت مبارکباد
خُدا ہماری بھتیجی کو عمرِ خضر عطا فرمائے۔
01 ستمبر 2007 بوقت 1:24 pm
شعیب صفدر صاحب، اسماء صاحبہ، افضل صاحب اور ساجد صاحب آپ سب کا بیحد شکریہ
01 ستمبر 2007 بوقت 4:15 pm
گو دیر سے سہی لیکن ہماری طرف سے بھی سارہ بٹیا کو مبارکباد…………..اور ہاں اپنے پلے سے سارہ کیلیے میری طرف سے تحفہ(چاکلیٹ) لینا نہ بھولیے گا. ;)
01 ستمبر 2007 بوقت 5:06 pm
شکریہ ساجد اقبال ….. تحفہ دینے کے لئے پاکٹ میری اور پھر بھی اتنی کنجوسی … سارہ آپ سے بہت ناراض ہے.
06 ستمبر 2007 بوقت 11:32 pm
بہت پیاری ہے ۔ ۔۔ ۔ ۔خوش رہے بہت
07 ستمبر 2007 بوقت 1:01 am
شکریہ امید