Pakistani » Blog Archive » جاوید احمد غامدی

Pakistani


تحریر کا پرنٹ نکالیں دوست کو ارسال کریں Visited 1087 Times

جاوید احمد غامدی

مصنف : فرخ نور :: بتاریخ 19 اکتوبر 2007

 

رکیئے! اسے پڑھنے سے پہلے “مربوط سلسلہِ ربط“ کو بمعہ تبصرہ جات کے پڑھ لیں تاکہ آپ کو اس تحریر کو پڑھنے اور سمجھنے میں آسانی ہو ۔۔۔ شکریہ

میں یہ جانتا تھا کہ یہاں یہ سوال ضرور اُٹھے گا۔ تبھی میں نے ( ) میں اسکا جواب بھی دیا کہ اللہ کرے یہ سلسلہ گمنام ہاتھوں کے جاری رہے۔ میرا اختلاف غامدی کے رویہ اور نقطہ نظر سے ہے۔ غامدی کی ذات اور علم سے نہیں۔ میں خود بھی ذاتی طور پر غامدی، ذاکرنائیک، اسرار احمد جیسے افراد سے اُُنکے چند معاملات پر متفق نہیں ہوں، جسکو متضاد نقطہ نظر کہا جاسکتا ہے، اختلاف بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ اُن کا علم مجھ سے بہت زیادہ ہے۔ میں اُنکے پاسوں برابر بھی نہیں۔ غامدی کو میں نے پی-ٹی-وی پر سنا تو اُسکے ہر پروگرام میں ایک مسئلہ محسوس ہوا۔ سوال چاہے روشن خیالی کا ہوتا ہے یا پاکستان کی اسلامی، تہذیبی روایات کی پاسداری کا ہوتا ہے تو غامدی صاحب بات کو بالکل ٹھیک اور خوبصورت انداز میں لے کر چل پڑتے ہیں۔ جب اُنکی بات peak پر جا پہنچتی ہے تو ٹھیک جا رہی ہوتی ہے۔ جونہی peak نیچے آنا شروع ہوتی ہے تو وہ ایسی بات کر جاتے ہیں جو روشن خیال ہو۔ جب کہ وہاں اُنکے وہ ایک یا دو جملے مکمل جانبدار ہوتے ہیں۔ یوں سننے والا اُس بات میں پھنس کر رہ جاتا ہے اور غامدی کا یہ انداز عام سامعین کی سمت کو غلط سمت پر لے جاسکتا ہے۔ خاصے لوگوں کو confusion کا شکار بھی کر دیتے ہیں۔ علم رکھنے والا جانبدار نہیں ہوتا، نہ ہی ابہام پیدا کرتا ہے۔ بلکہ وہ غلط فہمیاں دور کرتا ہے۔ اگر غامدی صاحب کو علمی حوالے سے دیکھا جائے۔ اُنکی علمی قابلیت دیکھی جائے تو میں اُسکا برملا اقرار کرتا ہوں کہ وُہ ایک علمی شخصیت ہیں مگر وُہ اپنے اس انداز جانبداری کے باعث قابل مستند نہیں رہے۔ جبکہ اُنکے قریبی دوستوں اور احباب میں سے بیشتر اپنے اپنے شعبہ کے مستند نام ہے۔ غامدی صاحب پر میں کبھی بھی اپنی رائے نہ دیتا مگر سوال کیا گیا تو جواب دینا ضروری محسوس کیا گیا۔ اس پلیٹ فارم کے طوسل سے میں غامدی صاحب سے یہ درخواست کروں گا کہ وُہ صرف اُن چند جملوں سے اپنی اہمیت کو متاثر نہ کرے۔ اُنکی بات یہی ہوتی ہے کہ تعصب سے ہٹ کر رہو، مثبت انداز سے سوچو مگر اُنکے وہی چند جملے جو ذہن بدلتے ہیں وُہ اُنکی تمام گفتگو کو نفی کردیتے ہیں۔ اب رہی بات مربوط سلسلہ ربط میں غامدی کا تذکرہ کیوں ہوا? اور وہ بھی اقبال کے ساتھ؛ میں نے غامدی کو اقبال نہیں کہا۔ اس سلسلہ کو اُنھوں نے جاری رکھا ہے۔ وہ اقبال نہیں میلہ تو لگنا تھا۔ تو وہ غامدی نے لگا دیا۔ اشفاق احمد اور واصف علی واصف میں بڑا فرق تھا۔ سوچ کا فرق ایک بات ہوتی ہے۔ دونوں کے عمل میں بڑا فرق تھا۔ غامدی کو سلسلے کی ایک کڑی کہا ہے۔ جو سلسلہ چل رہا ہے۔ کبھی کبھی نااہل جانشین بھی ہوجاتا ہے۔ اب غامدی کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اہل ہے یا نااہل۔ اہلیت غامدی میں ہے۔ بس وہ صحیح سمت پر رہتے ہوئے غلطturn کر کےexpose ہوگئے ہیں۔ جیو پر میں نے اُنکو جتنا سنا اُس پر وُہ mistakes بہت کم کرتے ہیں۔ زیادہ تر پروگرامز ٹھیک رہتے ہیں۔ مگر ptv کے تقریبا” ہر پروگرام میں مسئلہ ہوتا ہے۔ بس غامدی کو سلسلے کی کڑی کہا جاسکتا ہے؛ جو سلسلہ چلا آرہا ہے۔ سلسلہ نہیں ہے وہ۔ بادشاہوں میں بھی نااہل کو مورد الزام ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔ اور تاریخ میں برے الفاظ میں ہی یاد رکھا جاتا ہے۔ غامدی کو تاریخ میں کہیں جلال الدین اکبر نہ کہا جائے۔ قابلیت ہے۔ مگر direction غلط ہے۔ نوٹ: یہ تمام میری ذاتی رائے ہے، ہوسکتا ہے کہ میں بہت سو کی نگاہوں میں غلط ہوں۔ میں نے کسی کی بات نہیں کہی۔ اپنی بات بیان کی۔ جو میں نے محسوس کیا وُہ لکھا۔ میں غامدی کو اتنا جانتا ہوں کہ وُہ ٹیلیویژن پر آتا ہے۔ اس سے زیادہ میں اُسکا تعارف نہیں جانتا۔(فرخ)


ملتی جلتی تحریریں

  • مربوط سلسلہِ ربط
  • اصل مددگار
  • ایمان فروشی
  • زندگی کیا ہے؟
  • ٹام ٹینکریڈو اور ابرہہ کا واقعہ

  • 12 تبصرے to “جاوید احمد غامدی”

    1. عدنان احمد صدیقی کا کہنا ہے کہ:

      پڑھنے والے یہ ضرور جا ننا چاہیں گے کہ آپ کس بنا پر غامدی سے اختلاف رکھتے ہیں۔

      عدنان احمد صدیقی last blog post..JesOS™-Operating system for Christians only

    2. ME کا کہنا ہے کہ:

      Jinaab “janabdaaree” say aapkee kiyya murad hai? yanee Gamdee sahib aap say jitefaaq na karain to “janabdaar” thehray? agar aap yah ajmal sahib koi muayyan mauzoo aur us pay gamdi sahib kee raay ka zikar kartay to is maslay ka ilmee indaaz main jaiza liyya ja sakat tha lekin app donon nay koi muayyan baat nahain keee aur khas kar ajmal sahib nay tu siraf keechar uchaalee hai. agar koi masla hai to ilmee andaaz main us pay baat honee chaheeay warna yeah tasleem karain kay jo aap kay established nazriyyat (abau ajdaad kay deen) say ikhtilaaf karay ga usay aap naapasand karaar day detay hain. arstoo nay bhee zameen ko gol kaha tha aur is pay ulema nay usko wajabul qatl qaraar day diyya. kam uz kam ikeesween sadee main aisa nahain hona chaheeay.

    3. ME کا کہنا ہے کہ:

      ” جیو پر میں نے اُنکو جتنا سنا اُس پر وُہ mistakes بہت کم کرتے ہیں۔ زیادہ تر پروگرامز ٹھیک رہتے ہیں۔ ”

      yanee jo raay aap rakhtay hain siraf wohee tekh hai us say ikhtilaaf karnay wala automatically mistake par hai :)

    4. فرخ نور کا کہنا ہے کہ:

      pehli baat tu yeh hey key meri baat ko interpret ker dia giya hey. murad wrong andaz dey dia gia hey. Is ka siaq-o-sabaq samjhiyee. key mey ney yeh baat kio kee. mey ney “Marboot Silsala-e-Rabt” likha….. us per mujh sey yeh poocha gia key mey ney Iqbal key sath kio Ghamdi ko khara kia hey. Mey sirf itni baat ka jawab dey raha ho.
      Rahi baat Ikhtelaf kee tu woh her bandey kee her aik sey rehti hey. Rahi baat key ghamadi meri marzi kee baat kerey tu woh wrong hey. Baat aisi nahi hoti key woh meri marzi kee baat kerey. Baat yeh hoti hey key hey kia? mey ney ghamadi sey ikhtelaf sirf un key chund jumloo sey kia. mujh sey sirf ghamdi sahib key barey mey rae lee gai key mey ney un ko kio barrey names mey shumar kia.
      merey khiyaal sey meri baat mey tazaad nahi hey. mey Ghamdi ko bara manta ho. magar mey apni us baat per bhi qaim ho key woh sometimes chund jumley bol ker confusion peda ker jatey hey. Rahi baat example kee. tu merey zehan mey yeh baat thee. key deni chahiye. But jub koi baat suni howi purani ho jae tu phir aik raee reh jati hey; example kum hi yaad rehti hey.
      Aik tu meri is web-site key owner sey request hey key mera yeh reply; replies mey hi rehney dia jae seprate topic na banaya jae. Bcz is sey log confuse ho gey. aur problems peda ho gee. Mey jis baat per ikhtelaf rakhta ho. tu PTV per app un ka program sun ley. meri peak wali baat ko mind mey bus rakh ker; khuley zehan sey suniyee ga. tu app meri baat samajh sakoo gey.

    5. پاکستانی کا کہنا ہے کہ:

      فرخ بھائی اسلام علیکم
      میں نے اسے یہاں صرف اس لئے پوسٹ کیا ہے تاکہ اختلاف رکھنے والے دوستوں کو آپ کا نقتہ نظر سمجھنے میں آسانی ہو، اگر آپ غور کریں تو اس پوسٹ میں ‘مربوط سلسلہِ ربط’  کا ربط بھی دیا گیا ہے، تاکہ اس تحریر کو اس ‘مربوط سلسلہِ ربط’  کا ربط سمجھا جائے۔

    6. زکریا کا کہنا ہے کہ:

      ٹی‌وی پر غامدی کو دیکھنے کی بجائے کچھ مضامین پڑھیں۔

      غامدی کی سائٹ پر ان کی کئی تصنیفات موجود ہیں۔ ان کا رسالہ اشراق بھی آن‌لائن ہے۔ انگریزی رسالہ Renaissance کا اپنا سائٹ ہے اور ایک دہائی سے زیادہ کے مضامین وہاں موجود ہیں۔ المورد انسٹیٹیوٹ کے سائٹ پر بھی کافی مواد ہے۔

      اور اگر غامدی کے بارے میں پڑھنا چاہیں تو اعتراض پر اس بارے میں دو مضامین ہیں۔ ابومحمد بھی اس بارے میں دو بار لکھ چکے ہیں۔

    7. اجمل کا کہنا ہے کہ:

      فرخ صاحب نے جو کچھ لکھا وہ تقریر کو انہماک سے سننے والا ہی لکھ سکتا ہے ۔
      کسی آدمی کا باعلم ہونا اور صحیح علم کا حامل ہونا دو فرق فعل ہیں ۔ ایک زمانہ تھا [آدھی صدی قبل] کہ میں غلام احمد پرویز کے مضامین سے انہیں بلند پایہ مسلم محقق سمجھنے لگا ۔ پھر ایک وقت آیا کہ مجھے انہی مضامین میں قرآن و سنت میں انحراف نظر آنے لگا ۔ وجہ یہ تھی کہ اللہ سبحانہ و تعالٰی نے مجھےقرآن و سنّت کے علم کے حصول کی طرف راغب کر دیا ۔ عالم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ جو وہ کہتا ہے سب ٹھیک ہے ۔ غامدی جیسے کئی عالم آئے اور چلے گئے ۔ اگر ہم مسلمان ہیں تو ہمیں سب سے پہلے قرآن اور پھر سنّت کو دیکھنا ہے اور اگر کوئی عالم ان دونوں میں سے کسی ایک میں موجود بات سے انحراف کرتا ہے تو گمراہی کی طرف مائل ہے ۔

      اجمل’s last blog post..ضروری اطلاع

    8. ME کا کہنا ہے کہ:

      phir bhee koi ilmee bhaat ho jati to achaa tha..kisee muayyan ilmee iterraz kay na honay say yeah sab propaganda sa lagta hai

    9. woli کا کہنا ہے کہ:

      فرخ آپ نے درست لکھا-

      woli’s last blog post..Motorola Debuts Special Edition of the New RAZR2 in Time for Holidays

    10. تاینا رھمان کا کہنا ہے کہ:

      غامدی صاحب کے لیے اتنا ھی کہوں گی ۔ اللہ تعالی ان کو لمبی عمر عطا کرے۔ کیا خوب بولتے ھیں۔ اور کیا علم رکھتے ھیں

    11. صاف گو کا کہنا ہے کہ:

      غامدی صرف لعنتی۔۔۔

      حکومت کا اک اعتدال پسند مسخرا

    12. ثمینہ خان کا کہنا ہے کہ:

      غامدی صاحب خوب بولتے ہیں۔ لیکن انہوں نے بولنے میں اتنا ملکہ حاصل کیا ہے کہ اب وہ قرآن و حدیث کو منطق کی کسوٹی پر رد کرنے سے نہیں چونکتے ۔ یہاں ایک تبصرہ نگار نے بجا طور پر کہا کہ غامدی صاحب سے پہلے غلام احمد پرویز بھی بلند پائے کے عالم سمجے جاتے تھے۔ کاش غامدی صاحب امریکا کا کام کرنے کے بجائے دین کی خدمت کرکے صحیح علم لوگوں تک پہنچاتے تو وہ سب علمائ میں زیادہ دعائوں کے مستحق ہوتے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے تاہم کئی ایک مثالیں ایسی دی جاسکتی ہیں جن کی بنیاد پر آپ غامدی صاحب کے عالم برائے شر کہہ سکتے ہیں۔

    اپنی رائے دیجیے

    درج ذیل خانوں میں آپ اردو لکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی لکھنے کے لیے Control اور Space کے بٹن ایک ساتھ دبائیے

    XHTML: ان ٹیگز کے استعمال کی اجازت ہے: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>


    پاکستانی بلاگ CommentLuv plugin استعمال کر رہا ہے، جو کوشش کرے گا آپ کی سائٹ کی فیڈ کو تلاش کرنے اور آپ کی آخری پوسٹ کے لنک کو پیش کرنے کی، اس لیے براہ کرم انتظار فرمائیں جب تک یہ کام کیا جا رہا ہے۔
    
     
    Close
    E-mail It