گونگوں کا شہر
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 29 Oct 2007
کچھ نہ پوچھو کہ یہ شہر گونگوں کا ہے
لوگ سن کر بھی یاں کچھ نہیں بولتے
دیکھتے ہیں مگر لب نہیں کھولتے
ان کو ڈر ہے یہی، وہ جو بولے کبھی
ان کی آواز بھی
ان صداؤں میں شامل کہی جائے گی
ہم نے گر کچھ کہا (ان کو ڈر ہے یہی)
نام ان کے تبھی
ان گواہوں کی فہرست میں خودبخود
لکھ لئے جائیں گے
جو کہ حق کی گواہی میں مارے گئے
سچ کی دیوی کے چرنوں پہ وارے گئے
اس لئے لوگ یاں سچ نہیں بولتے
دیکھ کر بھی زبانیں نہیں کھولتے
ہم کہ اس شہر میں
زہر امروز پی کر
اگر چپ رہے
کل ہماری نسوں میں یہی زہر
آگ بن کر اتر جائے گا
پھر یہ آتش فشاں
خامشی کے نشاں
کون جانے کہ کب پھٹ پڑیں
کون لیکن سنے ہم اگر کچھ کہیں
اس لئے چپ رہیں
کچھ نہ بولیں کہ یہ شہر بہروں کا ہے
کچھ نہ پوچھیں کہ یہ شہر گونگوں کا ہے
عائشہ نگہت



