Pakistani


دوست کو ارسال کریں Print This Post 200 بار دیکھا گیا

ایمرجنسی ۔ صدر کا خطاب

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 04 Nov 2007

صدر جنرل پرویز مشرف نے قوم سے خطاب کر تے ہو ئے کہا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود وزیراعظم،سینیٹ،اسمبلیاں ،گورنرز ووزراء اعلیٰ بدستور کام کرتے رہیں گے۔ ہفتے کی شب قوم سے خطاب میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے لیے گئے فیصلے کے حوالے سے صدرجنرل مشرف نے کہا کہپاکستان میں پہلی بار ایک حکمت عملی کے تحت یہ مرحلے عبور کئے، لیکن بڑے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ کچھ عناصر جمہوری عمل میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں جب صرف 3 ماہ رہ گئے ہیں، تیسرے مرحلے کے خاتمے میں ۔صدر مشرف نے کہا کہ ذاتی مفاد، سیاسی مفاد اور ملک کے نقصان میں خلفشار پیدا کیا جارہا ہے۔ ان رکاوٹوں کی وجہ سے پاکستان کی معاشی حالت جو اوپر جارہی تھی اب نیچے کی طرف جانے کے اشارے مل رہے ہیں۔ سرمایہ اور سرمایہ دار ملک میں آرہے تھے اب وہ رک گئے ہیں ،وہ دیکھ رہے ہیں کہ یہاں سرمایہ لگایں کہ نہیں۔صدرجنرل مشرف نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے نا امید ہیں، ہمت ہار چکے ہیں، ان کے افسران کو سزائیں دی جارہی ہیں۔وہ ایکشن نہیں لے پار ہے۔صدر مشرف کا کہنا تھا کہ میری نظر میں پاکستان کی سالمیت کو کھلا چیلنج ہے۔ حکومتی نظام مفلوج ہوچکا ہے۔،افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کے دل اسلام آباد میں بھی انتہا پسندی پھیل گئی ہے۔ لوگ تشویش میں مبتلا ہیں۔ انتہا پسندوں نے رٹ آف گورنمنٹ ہاتھ میں لے رکھی ہے۔ یہ انتہا پسنداپنے فرسودہ اور مذہبی خیالات اعتدال پسندوں پر مسلط کرنا چاہ رہے ہیں۔دہشت گردی اور انتہا پسندی انتہا پر ہیں۔ خودکش حملے ملک بھر میں ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر سب سے پہلے پاکستان ہے ،قوم بھی ایسے ہی سوچے گی۔صدر نے کہاقوم کی تاریخ میں تکلیف دہ فیصلوں کا وقت آتا ہے، پاکستان کو بھی اہم اور تکلیف دہ فیصلے کرنا ہوں گے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

Random Posts


اپنی رائے دیجیے

درج ذیل خانوں میں آپ اردو لکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی لکھنے کے لیے Control اور Space کے بٹن ایک ساتھ دبائیے

XHTML: ان ٹیگز کے استعمال کی اجازت ہے: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>



CommentLuv Enabled