خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 04 Sep 2007
خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں ، میری انتہا کیاہے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
مقام گفتگو کیا ہے اگر میں کیمیا گر ہوں
یہی سوزِ نفس ہے اور میری کیمیا کیا ہے
نظر آئیں مجھے تقدیر کی گہرائیاں اس میں
نہ پوچھ اے ہمنشین مجھ سے وہ چشمِ سرمہ سا کیا ہے
اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے میں
تواقبال اس کو سمجھتا مقامِ کبریا کیا ہے
نوائے صبحگاہی نے جگر خوں کردیا میرا
خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے وہ خطا کیا ہے
اقبال



