Pakistani


دوست کو ارسال کریں Print This Post 63 بار دیکھا گیا

اب قلم سے‘ اِزار بند ہی ڈال

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 27 Nov 2007

قوم کی بہتری کا‘ چھوڑ خیال
فکرِ تعمیرِ ملک‘ دل سے نکال
تیرا پرچم ہے‘ تیرا دستِ سوال
بے ضمیری کا اور کیا ہو مآل؟
اب قلم سے‘ اِزار بند ہی ڈال
……………
تنگ کردے غریب پر‘ یہ زمیں
خَم ہی رکھ‘ آستانِ زر پہ جبیں
عیب کا دَور ہے‘ ہنر کا نہیں
آج حسنِ کمال‘ کو ہے زوال
اب قلم سے ازار بند ہی ڈال
……………
لاکھ ہونٹوں پہ دَم ہمارا ہو
اور دِل‘ صُبح کا سِتارا ہو
سامنے‘ موت کا نظارا ہو
لکھ یہی‘ ٹھیک ہے مریض کا حال
اب قلم سے اِزار بند ہی ڈال

 

حبیب جالب

متعلقہ تحاریر


اپنی رائے دیجیے

درج ذیل خانوں میں آپ اردو لکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی لکھنے کے لیے Control اور Space کے بٹن ایک ساتھ دبائیے

XHTML: ان ٹیگز کے استعمال کی اجازت ہے: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>



CommentLuv Enabled