اب قلم سے‘ اِزار بند ہی ڈال
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 27 Nov 2007
قوم کی بہتری کا‘ چھوڑ خیال
فکرِ تعمیرِ ملک‘ دل سے نکال
تیرا پرچم ہے‘ تیرا دستِ سوال
بے ضمیری کا اور کیا ہو مآل؟
اب قلم سے‘ اِزار بند ہی ڈال
……………
تنگ کردے غریب پر‘ یہ زمیں
خَم ہی رکھ‘ آستانِ زر پہ جبیں
عیب کا دَور ہے‘ ہنر کا نہیں
آج حسنِ کمال‘ کو ہے زوال
اب قلم سے ازار بند ہی ڈال
……………
لاکھ ہونٹوں پہ دَم ہمارا ہو
اور دِل‘ صُبح کا سِتارا ہو
سامنے‘ موت کا نظارا ہو
لکھ یہی‘ ٹھیک ہے مریض کا حال
اب قلم سے اِزار بند ہی ڈال
حبیب جالب



