جنرل کو کیا ملے گا؟
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 02 Dec 2007
سروس کے آخری دن وہ خاصے آزردہ تھے۔ اور آخر کیوں نہیں؟ آخر انہوں نے پاک فوج میں اتنے دن گزارے ہیں اور اس ادارے نے ان کے ساتھ خاصا اچھا سلوک کیا ہے۔
آپ اس کا اندازہ اس سے لگائیں کہ انہیں گھر جاتے وقت بھی خالی ہاتھ نہیں بھیجا گیا۔ پینشن تو خیر کوئی خاص مراعات میں سے نہیں۔ یہ تو ہر سول اور فوجی ملازم کو ملتی ہے۔ پاکستان حکومت ہر سال کوئی پینتیس بلین (ارب) روپے فوجی پینشن کی مد میں خرچ کرتی ہے اور اس کا بڑا حصہ بڑے افسران کے کھاتے میں جاتا ہے کیوں کہ وہ ہی سب سے زیادہ وقت فوج میں گزارتے ہیں جب کہ فوج کا ایک بڑا حصہ کپتان یا میجر تک پہنچتے پہنچتے ریٹائر ہو جاتا ہے۔ سب سے زیادہ سروس جرنیل کی ہوتی ہے خاص طور پر اس جرنیل کی جو حکومت پر حکمراں ہو جاتا ہے۔
مثلاً پرویز مشرف تقریباً تیس لاکھ روپے نقد لے کرگھر جائیں گے اور ان کی ماہانہ پینشن بھی کوئی پینتالیس یا پچاس ہزار کے لگ بھگ ہو گی۔ پینشن کی رقم کا زیادہ دار و مدار اس بات پر ہوتا ہے کہ افسر نے کتنے سال سروس میں گزارے۔
اس کے علاوہ ریٹائر ہونے والے ہر چیف کو ایک بڑی گاڑی درآمد کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ تمام پرانے سروس چیفس کے پاس ایک مرسیڈیز پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تین یا چار ملازم جو تا حیات رہتے ہیں اور جن کی تنخواہ اور کھانا سرکار دیتی ہے۔ فوجی کلبوں کی ممبر شپ، مفت علاج اور ایک گھر اس شہر میں جہاں وہ رہنا چاہیں ملتا ہے۔
لیکن قصہ یہیں ختم نہیں ہو جاتا۔ ہر فوجی افسر کو ملازمت کے کچھ عرصے کے بعد کوئی نہ کوئی شہری یا زرعی جائیداد ملتی ہے۔ پہلی جائیداد پندرہ سال کی سروس کے بعد، دوسری پچیس سال، تیسری اٹھائیس سال اور آخری تینتیس سال کی سروس کے بعد ملتی ہے۔
اس کے علاوہ مختلف ہاؤسنگ سکیموں کے بھی اپنے مزے ہیں۔ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ صدر صاحب اس وقت کروڑوں کی جائیداد کے مالک ہیں۔ ان کی جائیداد کا تخمینہ کوئی چالیس سے پینتالیس کروڑ کے لگ بھگ ہے۔
ارے کوئی ہمیں بھی فوج میں ملازمت دلوا دے۔
ڈاکٹر عائشہ صدیقہ دو کتابوں کی مصنفہ ہیں جبکہ کئی تحقیقی مقالے بھی لکھ چکی ہیں۔ انہوں نے لندن کے کنگز کالج سے وار سٹڈیز میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ وہ1998 سے لے کر 1999 تک پاکستان ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کے ادارے میں ڈیفینس آڈیٹر کے طور پر کام بھی کر چکی ہیں۔ ان کی آخری کتاب پاکستانی فوج کی معیشت پر تھی۔
بشکریہ ۔




03 Dec 2007 بوقت 2:21 am
جنرل کو تو وہی ملے گا جو اس سے پہلے کے تمام جنرلوں کو ملتا رہا ہے سوال یہ ہے کہ ان کی ریٹائر منٹ سے آپکو(عوام)کو کیا ملے گا؟؟؟؟؟؟
03 Dec 2007 بوقت 12:50 pm
ہمیں بھی وہی عبداللہ صاحب جو پہلے کے جنرلوں سے ملتا آیا ہے۔