صبحِ نوید
مصنف : فرخ نور :: بتاریخ 31 Dec 2007
ہر روز اِک نئی اُمنگ لئے پھرتے ہیں
ہر شام اُداسیاں اور مایوسیاں لئے پھرتے ہیں
یونہی سال دورِ اختتام پہ
نیا سال آن پہنچا
٢٠٠٧ء زوال سے عروج کی جانب اِک سفر
آغاز عید تھی، اختتام بھی عید رہی
رواں برس قربانی کی تعلیم تھا
سالِ گزشتہ کا بیڑہ طوفانوں سے نبردآزما تھا
منافقت کی تکمیل سے بھرپور
نئی جدوجہد عملی ناکام کوشش لئے
٢٠٠٨ء آغاز پہ آن پہنچا
اقتدار کے معنی لئے
بربادی سے بھرپور
سورج کو سلام کرنے والوں کا سال
٣١ دسمبر خاموشی بھی، آخری سانسوں کے لمحات بھی
مگر بڑا ہی اہم
یوم احتساب ہوا تو!
مستقبل کی اِک نوید ہو گا ۔۔۔
دُعا کیجیئے!
اقتدار کا یہ سال ۔۔۔
نئے سورج کا اِک نیا طلوع ہو!
کیا خوبصورت قدرت کا کرشمہ ہوا
محرم و جنوری اس نئی راہ کا افتتاح ۔۔۔۔
اے اللہ ہم پہ اپنا رحم کیجیو!
ہمارے اعمال صراط مستقیم پہ رکھیئو!
ہم پہ اپنا کرم فرما دے!
ہمیں باعمل اچھا اور نیک انسان بنا دے!
سال مبارک
(فرخ نور)







