ڈنمارک کا بائیکاٹ کریں
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 23 فروري 2008
ڈنمارک نے جس طرح مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کیا ہوا ہے اس کے جواب تمام مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ احتجاجاََ وہاں سے اپنے سفیر واپس بلا لیں، مسلم امہ کو بھی چاہیے کہ وہ ڈنمارک کی پروڈکٹ کا بائیکاٹ کریں۔
یاد رہے کہ ڈنمارک کا پروڈکٹ کنٹری بارکوڈ (barcode) ٥٧٠ سے ٥٧٩ تک کا ہے جس کی ایک مثال نیچے تصویر میں دی گئی ہے اور نیچے ڈنمارک کی چند مشہور پروڈکٹ دی گئی ہیں۔
















23 فروري 2008 بوقت 5:12 pm
جس دن میرے مسلمان بھائی خاص طور پر تاجر حضرات یہ تمام اشیاء اپنے ملک میں بنانا شروع کر دیں گے میں بھی بائیکاٹ کر دوں گا ۔ ۔ ۔ مگر کیا کروں کہ میرے تاجر مسلمان بھائی ۔ ۔ ایسی کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ ۔ اور باقی مسلمان ہمارے ہاں صرف فتویٰ کے سرٹیفیکیٹ کی پیداوار میں مصروف ہیں ۔ ۔ جو پانچ وقت کے نمازی ہیں وہ دس وقت دنیاداری نبھاتے ہیں ، اور جو کچھ اللہ رسول(ص) جانتے ہیں ۔ ۔ ۔ انہیں کوئی کوئی ہی “افورڈ” کر سکتا ہے ۔ ۔ اسکا ثبوت ہے ہمارے نعت خواں جنکی ثنا خوانی کی قیمت اتنی ہے کہ اس سے کتنی ہی غریب بچیوں کی شادی ہو جائے ۔ ۔
ڈنمارک بے چارے کا کیا قصور ۔ ۔ بھائی وہ تو ہیں ہی کافر اور کافروں سے اچھائی کی امید کیوں رکھتے ہیں ۔۔ میں تو ڈنمارک والوں کو اچھا کہتا ہوں کہ چلو ان میں اتنی ہمت تو ہے وہ کھٌل کر سامنے آ رہے ہیں ۔ ۔ باقی جو ہمیں ہمارا قرآن کہتا ہے وہ بائکاٹ کیوں نہیں کرتے ۔ ۔ صاف آیت ہے کہ یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست مت بناؤ مگر ۔ ۔ ۔ ہم ہیں کہ ۔ ۔ ۔۔
بس بائیکاٹ کر سکتے ہیں وہ بھی ۔ ۔۔ ان چیزوں کا جن سے ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ ۔ ارے میرے بھائی کوئی مسلمان ملک انکا تیل کیوں بند نہیں کرتا ۔ ۔ کیوں اپنی ۔ ۔۔ مصنوعات کو بند نہیں کرتا ادھر بھیجھنا ۔ ۔ ۔
یعنی اللہ رسول (ص) صرف عوام کا ۔ ۔ ۔ اور خواص کے لئے سب معاف؟؟؟؟؟؟
23 فروري 2008 بوقت 5:34 pm
ہممم بالکل صحیح کہا آپ نے اظہر صاحب، میں بھی یہی سوچ رکھتا ہوں، اسی سلسلے کی ایک تحریر یہاں ملاحظہ کیجیئے۔ مقابلہ یا بائیکاٹ
باقی رہی مسلمان ملکوں کی طرف سے تیل بند کرنا تو بھائی جان بات وہی کہ مسلمان تو بن گئے مگر مسلمانوں والے اعمال پیدا نہ کر سکے ۔۔۔ اب کیا کیا کہوں، دل دکھتا ہے ایسی باتوں سے ۔۔۔۔ اللہ رحم کرے ہم سب پر ہم نے تو ویسے ہی اپنے اوپر رحم کرنا چھوڑ دیا ہے۔
24 فروري 2008 بوقت 12:04 am
اسلام علیکم،
دوستو میں آپ دونوں بھائیوں کی بات سے متفق نہیں ہوں۔ آپ کے بات کرنے سے تو یہی ظا ہر ہوتا ہے کہ جب تک ہمارے خواص کوئی ایکشن نہیں لے گے ہم بھی کچھ نہیں کریں گے۔ یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی۔ اس کے لیے آپ کو ایک مثال دیتا ہوںشاید آپ کو بری لگے لیکن معذرت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر کوئی آپ کے والدین کو گالی دے تو کیا آپ خاموشی سے بیٹھے رہیں کہ میرے بڑے بھائیوں نے تو کچھ نہیں کیا میں کیوں کچھ کہوں؟ بلکہ وہ گالی دینے والا بھی آپ کی نظر میں اچھا ہوگا کیوں کہ وہ کھل کے سامنے آگیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ یاں پھر آپ کوئی حکمت عملی طے کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اگر ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو کیا آپ کی نظر میں نبی(ص ) عزت آپ کے والدین کے برابر بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ (نعوذ با اللہ )
عدنان زاہد’s last blog post..برکاتِ الیکشن
24 فروري 2008 بوقت 1:52 am
بائیکاٹ اچھا آپشن ہے لیکن ہم پاکستان میں یہ اشیاء استعمال نہیں کرتے۔
24 فروري 2008 بوقت 12:18 pm
عدنان آپ نے غلط سمجھا ، ہم ایکشن لینے کی ہی بات کر رہے ہیں ، اور خواص سے مراد ہمارے بڑے نہیں ۔ ۔ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے نوازا ہے دنیاوی دولت سے ۔ ۔ وہ اگر اس فتنے میں ساتھ دیں تو شاید ہم کچھ کر سکیں ، ورنہ دوسری صورت میں تو ۔ ۔ ۔ہم کچھ بھی نہیں کر پائیں گے ۔ ۔
اور میں نے خواص کی بات اسلئے کی کہ ادھر یو اے ای میں پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے کہ ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا گیا ، جسکے نتیجے میں گلف اور انڈیا سے غیر معیاری پراڈکٹ آنی شروع ہو گئیں جو عام لوگ استعمال کرنے لگے تھے مگر کچھ بڑے اسٹورز پر جیسے اسپنیز اور مارک وغیرہ پر یہ سب اشیاء موجود رہیں ۔ ۔ اور خواص نے وہاں سے یہ چیزیں لینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی ۔۔
اور ہاں ایک دوسری بات ۔۔ ۔ کہ نبی (ص) کی شان میں گستاخی بُری طرح کھًلتی ہے اسلئے لکھتے ہیں ۔ ۔ اور جنکو نہیں فکر وہ نہیں لکھتے ۔۔ تا کہ کوئیں انہیں ۔ ۔ ۔ طعنہ نہ دے سکے
24 فروري 2008 بوقت 9:38 pm
اسلام علیکم،
آپ کا کیا خیال ہے اس سلسلے میںکیا کرنا چاہیے ؟ جس سے اس کا کوئی مستقل حل ہوسکے۔ آخر ان کو کیسے روکا جائے؟
اگر کسی بھائی کی سمجھ میں ہوتو ضرور بتائے، جس حد تک ہوسکا ہم اشاءاللہ اس پر عمل بھی کریں گے۔
عدنان زاہد’s last blog post..برکاتِ الیکشن
24 فروري 2008 بوقت 9:56 pm
بھائی سیدھی سی بات ہے، مسلم ممالک یا ملکی حد اور خواص لیول تک تو کچھ نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ سب اپنے اپنے مفادات سے وابستہ ہیں، اس سلسلے میں کیوں نہ اپنی بات کریں، ہم عوام مل کر ان کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کریں اور ہر پلیٹ فارم پر ان کے خلاف ایک محاذ بنائیں تاکہ انہیں احساس دلایا جا سکے۔
پاکستانی’s last blog post..ڈنمارک کا بائیکاٹ کریں