تم ہنستی اچھی لگتی ہو
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 22 Mar 2008
اے دوست میری کیوں روتی ہو
کیوں دکھ کو من میں بوتی ہو
یوں دل کو رنجور نہ کرو
اور آنکھوں سے غم دور کرو
غم بن مانگے مل جاتے ہیں
سب جھولی بھر کے پاتے ہیں
تم جوں جوں اس کو پاؤ گی
کندن بنتی جاؤ گی
تم جب بھی دکھ کو سہتی ہو
اور تنہا تنہا رہتی ہو
میں بھی تنہا ہو جاتی ہوں
اور غم کے تحفے پاتی ہوں
یہ جو تمھاری آنکھیں ہیں
یہ مجھ کو کتنی پیاری ہیں
تم جانتی اگر اے دوست میری
یوں چپکے چپکے نہ روتیں
جس کو پی پی کر تم جیتی ہو
یہ تم کو توڑ کے رکھ دیں گے
اور تنہا چھوڑ کے چل دیں گے
میں اسی لئے تو کہتی ہوں
تم ہنستی اچھی لگتی ہو
صباء رشید ۔۔ تونسہ شریف، ڈیرہ غازیخان



