Pakistani


دوست کو ارسال کریں Print This Post 92 بار دیکھا گیا

یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 19 Apr 2008

 

یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا
یہ انسان کے دشمن سماجوں کی دنیا
یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے؟

ہر اک جسم گھائل ہر اک روح پیاسی
نگاہوں میں الجھن دلوں میں اداسی
یہ دنیا ہے کہ عالم بدحواسی

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے؟

یہاں اک کھلونا ہے انسان کی ہستی
یہ بستی مردہ پرستوں کی بستی
یہاں پر تو جیون سے موت ہے سستی

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے؟

جلا دو اسے پھونک ڈالو یہ دنیا
مرے سامنے سے ہٹا لو یہ دنیا
تمھاری ہے تم ہی سنبھالو یہ دنیا

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے؟

ساحرلدھیانوی

متعلقہ تحاریر


اپنی رائے دیجیے

درج ذیل خانوں میں آپ اردو لکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی لکھنے کے لیے Control اور Space کے بٹن ایک ساتھ دبائیے

XHTML: ان ٹیگز کے استعمال کی اجازت ہے: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>



CommentLuv Enabled