موجودہ اور سابقہ حکومت ۔۔۔ اعداد و شمار کیا کہتے ہیں
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 28 Apr 2008
میں نے منو بھائی کے پچھلے چند کالموں میں سے نئی اور پرانی حکومتوں کے چند اعداد شمار اکھٹے کئے ہیں جنہیں پاکستانی بلاگ کے قارئین کے لئے یہاں پیش کئے جا رہے ہیں۔
صدر مشرف کی زیرنگرانی چلنے والی شوکت عزیز و نگران حکومت نے تمام تر قواعد و ضوابط نظر انداز کر کے قومی اسمبلی سے منظور کرائے بغیر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور تیل کی سرمایہ کار کمپنیوں کو ١٣٦ ارب روپے کی سبسڈی دے دی، ان کمپنیوں کے لئے قومی بجٹ ٨۔٢٠٠٧ میں وزیرمملکت برائے خزانہ عمر ایوب خان نے گزشتہ سال جون میں بجٹ تقریر کے دوران ١٥ ارب روپے کی سبسڈی دینے کا اعلان کیا تھا۔ سابق حکومت کے ان اقدامات کی وجہ سے نئی حکومت کو بجٹ سے قبل ہی ٣٩٦ ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے اور موجودہ مالی سال کے دوران کے لئے دیے جانے والے محاصل کے ہدف ١٠٢٥ ارب روپے میں بھی ابھی تک ٣٥ ارب سے زائد کی کمی کا سامنا ہے۔
قومی بجٹ کے حوالے سے شوکت عزیز حکومت کے ٣ سالہ پالیسیوں پر مبنی بجٹ کی تیاری کی منصوبہ بندی نے ملک کی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے اور نئی حکومت ایک بار پھر قرضوں کی ری شیڈولنگ کر کے قوم پر مزید قرضوں اور سود کا بوجھ لادنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔
گزشتہ ٨ سالوں کے دوران حکومت نے مجموعی طور پر سود کی مد میں ١٩ ارب روپے کی رقم غیر ملکی اداروں اور بینکوں کو ادا کی ہے، یہ رقم مل کر اور اصل قرضوں کی شرح ٤٢ ارب روپے ڈالر سے بہت زیادہ ہے۔ قرضوں کی ری شیڈولنگ کی وجہ افراط زر میں اضافہ کے باعث روپے کی قدر مسلسل کم ہو رہی ہے مگر حکومت جان بوجھ کر روپے کی قدر ڈالر کے مقابلہ میں باقاعدہ کم ہونے کا اعلان نہیں کر رہی۔ روپے کی قدر کم ہونے کے اعلان سے زرمبادلہ میں کمی اور غیر ملکی تجارتی ادائیگیوں کی شرح میں بے تحاشہ اضافہ ظاہر کرنا پڑے گا۔
اس وقت حکومت کو ٢٥ ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے اور تیل کی کمپنیوں کے کاروبار میں شریک سرمایہ کاروں نے گزشتہ برس ٢٠٠ ارب روپے کا منافع کمایا اور حکومت کو ٥٤ ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔







