حج اور عمرہ کرایوں میں اضافہ
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 04 Jun 2008
پی آئی اے کے ایم ڈی اعجاز ہارون نے کہا ہے کہ رواں سال حج اور عمرے کے کرایوں میں سو فیصد اضافے کا امکان ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قرار دیا ہے۔ اس بارے انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے پہلے ہی خسارے میں ہے اور مزید خسارہ برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
پی آئی اے کے ایم ڈی اعجاز ہارون کا یہ بیان انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے کہ حج اور عمرے کے کرایوں میں سو فیصد اضافہ ہو گا اور ان کی یہ منطق بھی سمجھ سے باہر ہے کہ یہ سب کچھ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہے جو انتہائی غیر معقول اور ناقابل قبول ہے۔ موصوف سے پوچھنے والا کوئی نہیں کہ تیل کی قیمتوں تو ابھی ایک دو ماہ سے بڑھنا شروع ہوئی ہیں اور پھر ان میں کمی کا اندیشہ بھی بدستور موجود ہے۔ آپ ان سے آج کی بڑھی ہوئی تیل کی قیمتوں سے کرایہ وصول کر رہے ہیں جبکہ حاجیوں کی روانگی چھے ماہ بعد ہو گی۔
ابھی یکم مئی کو پی آئی اے نے عمرہ کرایوں میں ٦٣٠٠ اور اس کے بعد ٢٦ مئی کو ٧٨٠٠ روپے کا یکمشت اضافہ کیا ہے۔ جس کی وجہ سے عمرہ کرایہ ٣٤٠٠٠ سے بڑھ سے ٤٨٠٠٠ ہو گیا ہے اور ٹھیک انہی دنوں میں پی آئی اے کے ایم ڈی کا یہ کہنا کہ کرایوں میں سو فیصد اضافہ یعنی ٤٨٠٠٠ کا دگنا ٩٦٠٠٠ کر دیا جائے، انتہائی ظالمانہ سوچ اور استحصالی نظام کی عکاس ہے۔ جو پی آئی اے کے ارباب و اختیار کی لوٹ مار اور کرپشن کو واضح کرتی ہے۔
حیران کن بات یہ کہ بنگلہ دیش کی ائیرلائن بیمان ائیر اور انڈیا کی ائیرلائن ائیرانڈیا بھی اسی مارکیٹ اور آئل کمپنیوں سے تیل خرید کرتی ہیں جہاں سے پی آئی اے کرتی ہے مگر ان ائیرلائیز کا کرایہ پاکستان سے انتہائی کم ہے جبکہ سفر پاکستان سے بہت زیادہ۔ انتہائی اہم بات یہ بھی کہ انڈیا نے گزرے سال میں ایک لاکھ دس ہزار عازمین کو حج کے لئے روانہ کیا اور اس پر تین ارب کی سبسڈی دی جو پاکستان جیسے اسلامی ملک کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ خود میں بارہ سال سے اس فیلڈ سے منسلک ہوں۔ ان بارہ سالوں میں میں نے لندن، پیرس، نیویارک اور دیگر سیکٹر کے کرایوں میں اتنی تیزی اور تسلسل سے اضافہ کبھی نہیں دیکھا جتنی تیزی سے حج اور عمرے کے کرایوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
کیا تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت کا اطلاق صرف حج اور عمرے کی سعادت حاصل کرنے والوں پر ہوتا ہے؟
کیا لندن، پیرس، نیویارک اور دیگر سیکٹر کی پروازوں خصوصی ڈسکاؤنٹ ملتا ہے؟
پی آئی اے کے ایم ڈی کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی آئی اے پہلے ہی خسارے میں ہے اور مزید خسارہ برداشت نہیں کیا جاسکتا تو کیا یہ سارا خسارہ مذہبی فریضے کی ادائیگی کرنے والوں سے پورا کیا جائے گا؟۔ پی آئی اے نے دگنے اضافے کی جو سمری بھجوائی ہے اس میں صرف حج اور عمرے پر جانے والی پروازوں میں دگنے اضافے کا ذکر ہے جبکہ دیگر ممالک میں جانے والی پروازں کے کرایوں میں اضافے کا کوئی ذکر نہیں۔
انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔ مقامی سطح پر چلنی والی ائیرلائیز ائیربلیو اور شاہین ائیر پی آئی اے سے انتہائی کم کرایہ لینے کے باوجود انتہائی منافع بخش کاروبار کر رہی ہیں جبکہ پی آئی اے اپنے زیادہ کرایہ کے ساتھ بھی نقصان میں جا رہی ہے۔ اصل میں اس وقت پی آئی اے وہ سونے کی مرغی بن چکی ہے جسے ہر کوئی ہڑپنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔ اس وقت کرایوں میں اضافے کی بجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے جو پی آئی اے کی آمدنی، اخراجات اور گوشواروں کا جائزہ لے اور یہ پتہ لگائے کہ عوام کے خون پسینے کی کمائی آخر کہاں جا رہی ہے۔




04 Jun 2008 بوقت 2:50 am
کچھ عرصہ پہلے سننے میںآیا تھا کے پی آئی اے کے چیرمین نے اپنی کار اوپر کی منزل پر لے جانے کے لیے اپنے آفس تک ایک لفٹ نصب کروائی تھی۔ یہ صرف ایک مثال ہے جس کا مقصد یہ بتانا تھا کے اس ادارے کے ارباب اختیار کی سوچ کس قسم کی ہے۔ خیر ائیر لائنز انڈسٹری کا حقیقتا برا حال ہے لیکن کیونکہ پی آئی اے نے عیاشیوں کے لیے پہلے ہی کرائے انتہائی ظالمانہ رکھے ہوئے تھے چناچہ اب تیل کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کے ساتھ انہیں عیاشیوںکو جاری رکھنے کے سبب یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ کیونکہ حج اور عمرہ میں لوگوں کے پاس متبادل راستے قلیل ہوتے ہیں چناچہ حاجیوں کی بلیک میل کر کے پی آئ اے اپنا خسارہ پورا کرتی ہے۔ یہاں امریکن ایر لائن نے بھی تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے ہر قسم کے سامان پر اضافی پیسے وصول کرنے شروع کردیے ہیں۔۔ لیکن یہاںکرائے پہلے ہی اتنے کم تھے کے پی آئی اے میں لاہور سے کراچی جانے کی قیمت میںلاس اینجلس سے نیویارک جایا جاسکتا تھا جو کراچی سے جدہ جیسے روٹ کے ڈبل سے بھی زیادہ ہے۔۔ پی آئی اے زیادہ دن اتنی مسابقت بھری مارکیٹ کا ساتھ نہیںدے سکے گا اور اگر فوری طور پر ان بدمعاشیوں کا خاتمہ نہ کیا گیا تو پھر نہ معلوم کسی دن لوگ جہاز ہی نہ جلا دیں
راشد کامران’s last blog post..کتنے آدمی تھے ۔۔۔
09 Jun 2008 بوقت 11:47 pm
پاکستانی بھیا، منظر نامہ کی طرف سے آپ کو میل کی تھی۔ ملی کیا؟
ماوراء’s last blog post..فٹ بال کھلاڑی:D
11 Jun 2008 بوقت 12:33 am
معذرت چاہوں گا۔ چند مصروفیت کے باعث میں جواب نہیں دے سکا، آج ہی انشاءاللہ آپ کو رپلائی مل جائے گا۔
11 Jun 2008 بوقت 2:24 am
کوئی بات نہیں ۔ میں نے صرف اس لیے پوچھا کہ میں نے آپ کو ٹھیک ای میل ایڈریس پر ہی میل بھیجی تھی نا۔
ماوراء’s last blog post..فٹ بال کھلاڑی:D