مسجد قرطبہ
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 30 جون 2008
ہسپانیہ میں اموی سلطنت کے بانی عبدالرحمٰن اول نے آٹھوین صدی کے اواخر میں یہ مسجد تعمیر کی۔ المنصور اور دیگر حکمرانوں نے گراں قدر اضافے کئے۔ رمضان کی راتوں میں مسجد اسلام کی عظمت کا مظہر ہوتی، پیتل کے شمع دانوں میں ان گنت بتیاں جگمگاتیں۔ حق کے متوالوں سے صحن اور دالان پُر ہوتے۔ تسبیح تراویح کے ترنم اور عنبر کی خوشبو سے فضا مہک اٹھتی۔
نصرانی ہونے کے باوجود اہل قرطبہ میں کلیسا بنانے کی مخالفت تھی۔ وہ آخر دم تک کہتے رہے کہ کلیسا کی تعمیر سے مسجد کی خوبصورتی تباہ ہو جائے گی لیکن آرچ بشپ نے اُن کے خلاف فیصلہ دے دیا۔ دو برس بعد آرچ بشپ کا وہاں سے گزرا تو اُسے پہلی مرتبہ مسجد دیکھنے کا اتفاق ہوا، اپنے کئے پر متاسف ہوا اور کہا ‘‘اگر مجھے معلوم ہوتا کہ مسجد اتنی حسین و جمیل ہے تو کبھی کلیسا کی تعمیر کا حکم نہ دیتا‘‘ یہ روایت قرطبہ کے میونسپل ہال میں ایک دستاویز کی شکل میں محفوظ ہے۔
سلطان سعود ہسپانیہ کا سرکاری دورہ کر رہے تھے، وہ اپنی جماعت کے ساتھ مسجد قرطبہ میں داخل ہوئے تو نماز کا وقت آ گیا۔ سلطان نے نماز ادا کرنے کے لئے پروٹوکول کے افسران سے اجازت چاہی۔ انہوں نے یہ کہہ کر معذرت چاہی کہ مسجد اب کلیسا میں تبدیل ہو چکی ہے۔ سلطان کا چہرہ تمتا اٹھا انہوں نے کہا ‘‘میں اُس رسول کی اُمت سے ہوں جس نے نصرانیوں کے وفد کو مسجد نبوی میں عبادت کرنے کی اجازت دی اور تم مجھے اپنی مسجد میں نماز ادا کرنے سے روکتے ہو؟‘‘ سلطان نے ایک مصاحب کو اِذن اذان دینے کو کہا اور یوں سات صدیوں بعد مسجد کی خاموش فضاؤں میں ازان کی صدا گونجی۔







