تنہا تنہا مت سوچا کر
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 01 Jul 2008
تنہا تنہا مت سوچا کر
مر جائے گا مت سوچا کر
اپنا آپ گنوا کر تو نے
پایا ہے کیا مت سوچا کر
دھوپ میں تنہا کر جاتا ہے
کیوں یہ سایہ مت سوچا کر
پیار گھڑی بھر کا بھی بہت ہے
جھوٹا، سچا مت سوچا کر
راہ کٹھن اور دھوپ کڑی ہے
کون آئے گا مت سوچا کر
وہ بھی تجھ سے پیار کرے ہے
پھر دُکھ ہو گا مت سوچا کر
خواب حقیقت یا افسانہ
کیا ہے دنیا مت سوچا کر
موندے آنکھیں اور چلا چل
منزل رستہ مت سوچا کر
جس کی فطرت ہی ڈسنا ہو
وہ تو ڈسے گا مت سوچا کر
دنیا کے غم ساتھ ہیں تیرے
خود کو تنہا مت سوچا کر
جینا دو بھر ہو جائے گا
جاناں! اِتنا مت مت سوچا کر
مان مرے شہزاد وگرنہ
پچھتائے گا مت سوچا کر
فرحت شہزاد




02 Jul 2008 بوقت 11:53 am
کم از کم آدھی صدی سے اکیلے ہی سوچ رہا ہوں مگر میں مرا نہیں ۔ چلیں آپ آ جائیے پھر اکٹھے سوچیں گے
اجمل’s last blog post..ایسا کیوں ؟