عجیب ہے
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 04 Jul 2008
سرشارئِ وصال حسین تر سہی مگر
جو ہجر نے عطا کی وہ لذت عجیب ہے
جو ہجر نے عطا کی وہ لذت عجیب ہے
امید کی ہر ایک کلی نوچ لی گئی
مایوسیوں کی دل میں بغاوت عجیب ہے
خود زندگی عطا کی مگر خود ہی چھین لی
انسان پر خدا کی عنایت عجیب ہے
خوشیوں سے بچ کر رہنا غموں کی تلاش میں
اپنے ہی آپ سے یہ عداوت عجیب ہے
فرحت شہزاد



