مشتری ہوشیار باش!
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 08 Nov 2008
موجودہ حکومت نے سائبر کرائم آرڈیننس کی تجدید کر دی ہے واضع رہے کہ اس آرڈیننس کو سابق صدر پرویز مشرف نے جاری کیا تھا۔ اب اس تجدید شدہ آرڈیننس کے تحت ایف آئی اے کسی شخص، ادارے کا سسٹم، موبائل، کیمرہ شک کی بنیاد پر تحویل میں لے سکتا ہے۔ اس آرڈیننس کے تحت حکومت نے ٢١ جرائم کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
ان ٢١ جرائم میں چند ایک یہ ہیں۔
بغیر اجازت کسی کی تصویر کھینچنا
انٹرنیٹ یا موبائل کی مدد سے کسی کو ایسا پیغام بھیجنا جسے ناپسندیدہ، غیراخلاقی اور بیہودہ سجمھا جائے۔ (اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ آیا واقعی یہ پیغام غیر اخلاقی ہے یا نہیں اور ناپسندیدہ والی بات سمجھ سے باہر ہے)
ایسی ای میل جس کو وصول کرنے والے نے خواہش نہ کی ہو (سبھی نیٹ یوزر جیل جانے کی تیاری کس لو)
مہلک ہتھیاروں کے بارے میں انٹرنیٹ سے خفیہ معلومات نقل کرنا یا چرانا
سائبر کرائم آرڈیننس کے تحت ان ٢١ مختلف جرائم کے لئے تین سے دس سال قید، بھاری جرمانے اور عمر قید کے علاوہ موت کی سزا بھی شامل ہے اور ان میں کئی ناقابل ضمانت ہیں۔ اس پر عملدرآًمد کا اختیار ایف آئی اے کو دیا گیا جو پہلے ہی اپنی اچھی شہرت کی وجہ سے کافی مشہور ہے۔ اور اب سونے پہ سہاگہ ان لامحدود اختیارات کے ساتھ دیکھیں اس قانون پر کب، کہاں، کیسے اور کس حد تک عمل ہوتا ہے۔








09 Nov 2008 بوقت 3:17 am
میں نے اس سال جنوری میں اس آرڈینینس پر ایک پوسٹ لکھی تھی
کچھ اپنے هی سٹائیل میں
شکریه مصرف صاحب
خاور’s last blog post..اے کاش که