عجیب قوم ہیں ہم!
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 02 Nov 2008
ابھی [[پرویز مشرف]] کی دھول ختم اور تڑپتی روحوں کو سکون نہیں ملا کہ ایک اور مشرف کی آمد کے نغمے گائے جا رہے ہیں۔
ایسا کیوں ہے؟
یقینا یہ سیاستدانوں کی بہت بڑی ناکامی ہے۔
ان سیاستدانوں کے الیکشن منشور کچھ اور ہوتے ہیں اور اقتدار کا ایجنڈا کچھ اور ہوتا ہے۔ جس سے عوام بہت جلد ان سے بددل ہو جاتی ہیں۔ اس وقت عوام اور سیاستدان دو دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک دھڑہ طالبان کے نام پر اپنی سیاست چمکا رہا ہے تو دوسرا طالبان کے تصور اسلام کا مخالف اور حکومت کا حامی و مددگار بلکہ وظیفہ خوار بن چکا ہے۔ مگر حقیقت میں دونوں ہی غلط ہیں دونوں ہی پاکستان اور اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
دراصل عوام نے آج تک کسی سیاستدان کا محاسبہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی سے یہ پوچھا کہ وہ اپنے الیکشن منشور پر کتنی حد تک عمل پیرا ہے۔ اگر عوام سیاستدانوں کا ‘انٹرویو‘ کرتے تو آج صورتحال قطعی مختلف ہوتی۔ ہمارے نظام کی گندگی بڑھتے بڑھتے اب ایک بہت بڑے گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس وقت ہمیں بھل صفائی کی ضرورت ہے کیونکہ جب تک قوم اپنی آستینیں چڑھا کر اور پاجامے تخنوں سے اوپر کر کے اس گندگی کے دھیڑ میں اتر کر اس کی صفائی نہیں کرے گی تب تک آمروں اور مفاد پرست سیاستدانوں سے جان نہیں چھوٹے گی۔
عجیب قوم ہیں ہم !!!!!!!! کنوئیں میں پڑے کتے کو نکالنے کی بجائے پانی نکال کر کنویں کو پاک کرنا چاہتے ہیں۔








02 Nov 2008 بوقت 2:07 pm
کوئ برا مانے یا بھلا مگر ایک بات نوٹ کرلو امریکی بھیڑیا روز اول سے ہی پاکستان پردانت گڑایا ھوا ہے جب تک یہ بھیڑیا دانت گڑایا ھے ایک بڑھ کر ایک پرویز آتے ہی رہینگے اسکا صرف ایک ہی حل ہے ک اس بھیڑیے کی کمر توڑی جاۓ یا سرتوڑاجاۓ جب یہ دانت نکلے گا تبھی پاکستان کا بھلا ہو پاۓگا
02 Nov 2008 بوقت 8:21 pm
دانت نکالے گا کون؟
یہ توہمارے سیاستدانوں کے لئے بلی کے گلے میں گھنٹی ڈالنے والی بات ہے
03 Nov 2008 بوقت 12:06 pm
سیاستدان نہیں نکالنے والے۔ جب تک ہم لوگ خود کچھ نہیں کریں گے اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے، تب تک کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔