تمنا
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 12 Nov 2008
تمنا نے شوق کے آنچل سے جھانک کر پوچھا!
‘‘میں کب پوری ہوں گی‘‘
زندگی بولی ‘‘جو پوری ہو جائے وہ تمنا کہاں؟‘‘
‘‘تب میرے جنم کا مطلب کیا؟‘‘ تمنا گھبرائی۔
‘‘یہی کہ زندہ رہو اور دوسروں کو زندہ رہنا سکھاؤ‘‘
زندگی نے جواب دیا۔
کیا خود ناآسودہ اور نامکمل رہ کر؟
تمنا نے مایوسی سے پوچھا
زندگی نے کہا!
‘‘ہاں! اصل تکمیل وہی ہے جو دوسروں کو مکمل کر دے۔‘‘








12 Nov 2008 بوقت 9:43 pm
بہت اچھے!!
مگر یوں بھی کہہ لیں تمنا کی تکمیل اُس کی اپنی موت ہے۔ یعنی وہ اپنی زندگی کی بقاء کے لئے تمنائی کے اندر بیٹھی رہتی ہے!!! :(
شعیب صفدر’s last blog post..میرا قائد
12 Nov 2008 بوقت 11:22 pm
بہت خوبصورت :)