مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 26 Jan 2009

Random Posts
یہ تحریر 26 Jan 2009 کو 11:13 pm بجے دنیا بھر سے, پاکستانکے زمرے میں شائع کی گئی ۔
آپ اس تحریر پر کیے جانے والے تبصروں سے آگاہ رہنے کے لیے RSS فیڈ استعمال کر سکتے ہیں ۔
آپ اس تحریر پر تبصرہ کر سکتے ہیں اور ٹریک بیک استعمال کر سکتےہیں ۔
27 Jan 2009 بوقت 10:28 am
جناب کس کس کی بات کریں گے ؟ آپ جس چیز کو ہاتھ لگائیں گے اور جس کو کھائیں گے زیادہ احتمال یہی ہو گا کہ اُس کا منافع یہودیوں بلکہ صیہونیوں کو جا رہا ہے ۔ اور کیوں نہ ہو ؟ جس قوم کی اکثریت کی یہ حالت ہو کہ اپنے وطن کی پیدا وار کو گھٹیا سمجھیں لیکن اگر کوئی دکاندار درآمد شُدہ کہہ کر بیچے تو دُگنی قیمت پر خریدیں ۔ ایسی قوم سے آپ کیا توقع رکھ سکتے ہیں ؟
افتخار اجمل بھوپال’s last blog post..طالبِ علم
03 Feb 2009 بوقت 10:40 am
مین اجمل بھائی سے متفق ہوں، یہاں نہ تو لوگ اپنے ملک کی بنی چیز شوق سے خریدتے ہیں اور نہ ہی دوکاندار بیچنا چاہتے ہین۔
آن لائن اخباری رپوٹر’s last blog post..Pakistani cricketers not participating in Indian Premier League