Pakistani



محفوظہ برائے 'ڈیرہ نامہ' موضوع

Dera Ghzi Khan News

پاکستان سوسائٹی ڈنمارک

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 17 Feb 2010

پاکستان سوسائٹی ڈنمارک کی ایک وڈیو، جس میں ہمارے علاقے کی ہردلعزیز شخصیت اور پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے جنرل سیکرٹری سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ صاحب نمایاں نظر آ رہے ہیں۔

زمرہ : وڈیو زون, ڈیرہ نامہ | ابھی تک ایک تبصرہ ہوا ہے »

ڈیرہ بم دھماکہ

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 16 Dec 2009

جہاں آج پورے ملک میں یوم سقوط ڈھاکہ منایا جا رہا ہے وہی ڈیرہ غازی خان سوگ کا سماں ہے۔ کل برپا ہونے والی قیامت میں ٣٥ افراد شہید اور ٩٥ سے زیادہ زخمی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دو کار سوار جن ایک کی بالشت کالی داڑھی تھی، دونوں نے سفید پگڑیاں پہن رکھی تھیں۔ انہوں نے کھوسہ ہاؤس کے آگے بنی دکانوں کے سامنے روڈ پہ گاڑی کھڑی کی اور ٹھیک دو بج کے پنتالیس منٹ پر دھماکہ ہوا جس سے پورا شہر لرز اُٹھا۔ وقوعہ پر ١٨ فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا، شہداء کے اعضاء دور دور تک بکھر گئے، کھوسہ باؤس کے آگے روڈ پر بنی تمام دکانیں زمین بوس ہو گئیں اور کھوسہ ہاؤس کے قریب کی شیخاں والی بستی صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔ دکانوں، بینکوں اور گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ڈی پی او کے مطابق دھماکے میں ایک ہزار کلو مواد استعمال ہوا ہے۔
کھوسہ ہاؤس روڈ ٹریفک چوک کے ساتھ واقع ہے اور یہ شہر کا انتہائی مصروف ترین علاقہ ہے جہاں عام دنوں میں بھی کافی رش رہتا ہے۔ اس واقع کے فوراََ بعد سردار ذوالفقار کھوسہ کا سیاسی بیان آیا کہ یہ انہیں ٹارگٹ کیا گیا جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ان دہشت گردوں کا ٹارگٹ صرف معصوم عوام تھے، اگر انہیں ٹارگٹ کرنے کی کوشش ہوتی تو یقینا وہ گاڑی کوٹھی کے اندر لے جانے کی کوشش کرتے۔
اس دھماکے نے پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں کی کارکردگی کا پول کھول دیا۔ اس دھماکے سے ثابت ہو گیا کہ حکومتی اقدامت صرف بیان بازی تک ہی محدود ہیں۔
کچھ ہی عرصہ قبل راکھی گاج اور بواٹہ سے بارڈر ملٹری پولیس نے بھاری دھماکہ خیز مواد اور ڈیٹونیٹر پکڑا، اسی طرح تریمن چیک پوسٹ پر ٦٠ ہزار کلو دھماکہ خیز مواد پکڑا، یہی سے چند غیر ملکی بھی پکڑے گئے، اسی طرح شادن لنڈ کے علاقے سے بھی بارود سے بھرا ایک ٹرک پکڑا گیا تھا۔ ان حالات میں سیکورٹی ایجنسیوں کو اور سے اور تر اقدامات کرنے چاہیے تھے، اس کے ساتھ ساتھ بارڈر ایریا کی مناسب دیکھ بھال بھی ضروری تھی اور ان سارے اقدمات کی لئے ضروری تھا کہ بارڈر ملٹری پولیس کی نفری میں اضافہ کے ساتھ ان کو جدید اسحلہ سے بھی لیس کیا جاتا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ ڈیرہ پولیس کی نفری بھی خاصی کم ہے، ڈیرہ کی حساس صورتحال کے پیش نظر اس کمی کو فورا پورا کیا جانا چاہیے۔ ان سارے اقدامات کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس اداروں کو فعال کرنا ازحد ضروری ہے۔ کیونکہ دھماکے والی جگہ ایسے محل وقوع پر واقع ہے جہاں پولیس اور ٹریفک پولیس کی نفری چاروں طرف موجود رہتی ہے، انہوں نے اس بغیر نمبر کی گاڑی کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ مالی نقصانات کا ازالہ تو شاید ہو جائے لیکن جانی نقصان کا ازالہ کسی طور ممکن نہیں۔ یہ ساری صورتحال قانون نافظ کرنے والے اداروں کے لئے سوالیہ نشان ہے۔

زمرہ : ڈیرہ نامہ | ابھی تک ایک تبصرہ ہوا ہے »

ڈیرہ آپریشن

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 11 Jul 2009

ڈی پی او ڈیرہ ڈاکٹر رضوان کی سربراہی میں آج صبح پانچ بجے ڈیرہ غازی خان سے تقریبا ٣٠ کلومیٹر دور شادن لنڈ کے علاقہ میں واقع مدرسہ عثمانیہ پر چھاپہ مارا گیا، اس دوران مدرسے میں چھپے دہشت گردوں جن کا تعلق وزیرستان سے بتایا گیا ہے نے فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں ایک دہشتگرد ہلاک جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے، پولیس نے ابھی تک علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔ ایک دوست کے مطابق مدرسے سے ١٤ مارٹر گولے، ٥ خود کش جیکٹس، ١٥ ٹائم فیوز جیکٹس، ١٠ چھوٹے میزائل، ٢٢ ہینڈ گرنیڈ، ٨ راکٹ لانچر، ١٠ کلو دھماکہ خیز مواد اور بے شمار گنیں، گولیاں وغیرہ برآمد کی گئی ہیں۔
میں حیران ہوں کہ آخر اتنا زیادہ اسلحہ یہاں تک آیا کیسے، ہماری پولیس، فوج اور درجنوں دیگر ادارے آخر کیا کر رہے ہیں، دہشت گرد انتہائی آسانی سے اسلحہ ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے ہیں اور بیج میں خوار ہو رہا ہے بیچارہ عام آدمی۔
ایک طرف قانون نافذ کرنے والے ادارے، دوسری طرف دہشت گرد اور درمیان میں عوام جسے چکی میں پڑی گندم کی طرح پیسا جا رہا ہے۔

زمرہ : ڈیرہ نامہ | 5 تبصرے »