Pakistani



محفوظہ برائے 'تعلیم' موضوع

Education

کیا پہلے ہم شیر ہیں؟ ۔ 2

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 01 Mar 2010

کیا پہلے ہم شیر ہیں؟ ۔ 1
بھوک انسان کے قابو میں نہیں، اس کے سامنے جو کچھ بھی آئے وہ ہڑپ کر جاتا ہے اس لئے ہمہ خور کہلاتا ہے۔ جو کچھ نہیں کھاتا وہ کوئی ولی، درویش ہا پھر شوگر کا مریض ہی ہو سکتا ہے۔
وقت نے چند قدم مزید لئے۔ گوشت آگ پر براہ راست بھون کر کھایا جانے لگا، اس سے لذت میں اضافہ ہوا لیکن اس کی تاثیر اور وٹامنز مرنے لگے۔
کھانوں نے مزید ترقی کی۔ مرچ، ادرک، پیاز، ٹماٹر کے ساتھ گھی میں بگھارے ہوئے گوشت کی اصل غذائیت کا مزید ستیاناس مارنے کے لئے گرم مصالحوں نے امریکہ جیسا کردار ادا کیا۔ اب ہنڈیا میں جب چوب چینی، دار چینی، چاروں نمک، ہلدی، فلفل سیاہ، زیرہ سفید، کالی مرچ، مرچ کلاں، لونگ، دھنیا اور دیگر مصالحہ جات کا پسا ہوا آمیزہ ڈالا جاتا ہے تو اس کی لذت میں تو اضافہ ہو جاتا ہے لیکن غذائیت، وٹامنز اور طاقت کا وہی حال ہوتا ہے جو عراق میں صدام حسین یا افغانستان میں طالبان کا ہوا۔

کیا پہلے ہم شیر ہیں؟ ۔ 2

گوشت کی آلودگی کا یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ آئے روز کوئی نہ کوئی نئی ڈش تیار ہوتی ہے اور انجام کار یہ ہوا کہ دن بدن امراض معدہ، اور دل کے مریضوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ شوگر کنٹرول سے باہر ہوتی چلی جا رہی ہے، کولیسٹرول قابو میں نہیں آتا، بلڈ پریشر نے الگ ناک میں دم کر رکھا ہے، مستقل سر درد کی شکایت بڑھ گئی ہے، جگر خون پیدا کرنا بھولتا جا رہا ہے اور ہر چوتھا آدمی جوڑوں کے درد کا رونا روئے جاتا ہے۔ معدے کا السر اور بواسیر اس کے علاوہ ہیں۔ انسان کا یہ انجام صرف اس لئے ہوا ہے کہ یہ لذت اور چسکا بڑھانے کے چکر میں گوشت سے سارے وٹامنز اور غذائیت نچوڑے چلا جا رہا ہے۔ قدرت کی دی ہوئی نعمتوں میں اپنی فنکاری کرنے کا یہ انجام تو ہونا ہی تھا۔ آپ کسی بھی چیز کو آلودہ کر کے دیکھ لیں ان کا انجام برا ہی ہو گا۔ مثال کے طور پر بدلتے ہوئے موسموں کو لیجیئے یہ قدرت کا سب سے حسین اور انمول تحفہ ہے۔ گرمیوں میں ائیر کنڈیشنروں نے گرمی کو آلودہ کر دیا اور سردیوں میں ہیٹروں نے سردی کو آلودہ کر دیا۔ انٹرنلی ائیر کنڈیشنڈ یا انٹرنلی ہیٹیڈ دفاترمیں کام کرنے والے اور کنٹرول ٹمپریچر کی گاڑیوں میں سفر کرنے والے افراد کی قوت مدافعت ایک عام آدمی کے مقابلے میں پچاس فیصد کم ہوتی ہے۔
بات صرف کھانے پینے اور موسموں تک محدود رہتی تو کوئی بات نہیں تھی لیکن ہم نے تو بہت آگے بڑھ کر موسمی تہواروں کو بھی آلودہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ کبھی شب برات پر رات بھر عبادت کی جاتی تھی اور موم بتیاں روشن کی جاتی تھیں لیکن آج آتش بازی کو ہی دعاؤں کی قبولیت کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ کبھی عید کو محمود و ایاز کا مٹانے کا تہوار سمجھا جاتا تھا لیکن آج عیدیں محض غریب طبقے کے لئے خود کشی اور خود سوزی کا تہوار بنتی جا رہی ہیں۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تہوار انتہائی عقیدت و محبت کا تہوار ہے لیکن اس میں بھی جھمر اور دیگر لوازمات شامل کر کے اسے آلودہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یوم پیدائش پر ڈھول کی تھاپ پر جھمر مارتے اور ایک دوسرے پر نوٹ نچھاور کرتے ہوئے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ خدارا آنے والی نسلوں کے لئے عقیدت، محبت اور احترام کے ان تہواروں کو تو اپنی اصل شکل میں رہنے دیں، انہیں تو آلودہ نہ کریں۔
کسانوں کے لئے جشن بہاراں کا تہوار تھا لیکن اس کی نسبت بسنت سے جوڑ کر اسے بھی آلودہ کر دیا گیا اور یہ ویلنٹائن ڈے تو کبھی ہمارے تہواروں میں شامل ہی نہ تھا۔
قارئین کرام! خود شکار کر کے کچا گوشت کھانے والے شیر کو صرف پانچ مرتبہ کسی فائیو سٹار ہوٹل کا “آلودہ“ یعنی روسٹ گوشت کھلا دیں تو وہ بلی بن جاتا ہے اور پھر عمر بھر کسی پر ہاتھ اٹھانے کے قابل نہیں رہتا۔ یہ ایام ویلنٹائن اور بسنت بھی آلودہ تہوار ہیں۔ ہم نے اگر اپنے تہواروں کی حفاظت نہ کی اور یہ آلودہ تہوار پانچ مرتبہ ہی منا لئے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں بلی بننے سے روک نہیں سکے گی۔
لیکن ٹھہریے مجھے یہ بتائیے، کیا پہلے ہم شیر ہیں؟؟
جی نہیں ہم تو صرف امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی ہیں۔

زمرہ : تاریخ, تعلیم, رسم و رواج | ابھی تک ایک تبصرہ ہوا ہے »

کیا پہلے ہم شیر ہیں؟

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 27 Feb 2010

سیدھی سے بات ہے زندہ رہنے کے لئے کھانا ضروری ہے۔ سانس لیتی جو مخلوق سبزی، چارہ شوق سے کھاتی ہے وہ سبزی خور کہلاتی ہے اور جس کی نبض چلنے کا دارومدار محض گوشت پے ہوتا ہے وہ مخلوق گوشت خور کہلاتی ہے۔ بھوک انسان کے قابو میں نہیں، اس کے سامنے جو کچھ بھی آئے وہ ہڑپ کر جاتا ہے اس لئے ہمہ خور کہلاتا ہے۔ جو کچھ نہیں کھاتا وہ کوئی ولی، درویش ہا پھر شوگر کا مریض ہی ہو سکتا ہے۔
ہمہ خوری کے باوجود انسان کی گوشت خوری اور سبزی خوری کا تناسب نکالا جائے تو اس کی شرح ٧٠ اور ٣٠ کی بنتی ہے۔ گوشت انسان کے لئے مرغوب ہو چکا ہے جس کی وجہ سے آلودگی نے بھی اس چسکے کا گھر دیکھ لیا ہے جو انسان کو لگ چکا ہے۔ ابتداء جانوروں کے کچے گوشت سے ہوئی جو آہستہ آہستہ آلودہ ہونا شروع ہو گئی۔ نیوٹریشنسٹ بتاتے ہیں کہ جتنی غذائیت، لذت، وٹامنز اور طاقت کچے یا نیم بریاں گوشت میں ہوتی ہے وہ مکمل پکے ہوئے یا گلے ہوئے گوشت میں نہیں ہو سکتی۔ انسان یہی کچا گوشت عرصہ دراز تک کھاتا رہا، آج بھی مچھیرے بھون کر یا پکا کر مچھلی کھانے کو مچھلی کی توہین سمجھتے ہیں، وسطی افریقہ کے بہت سے قبائل آج بھی کچا گوشت کھاتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ دھوپ میں خشک کیا ہوا گوشت کھانے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔
وقت نے چند قدم مزید لئے۔ گوشت آگ پر براہ راست بھون کر کھایا جانے لگا، اس سے لذت میں اضافہ ہوا لیکن اس کی تاثیر اور وٹامنز مرنے لگے۔ بھنے ہوئے گوشت کے بعد ہنڈیا میں ڈال کر گوشت کو گھی میں بگھار دیا جانے لگا، اس سے بھی چسکے میں تو اضافہ ہوا لیکن وٹامنز اور غذائیت اسی قدر کم ہو گئے۔ بگھارے ہوئے گوشت میں بعدازاں تیز مرچوں، پیاز لہسن اور ادرک کا اضافہ کر کے اس کی طاقت مزید کم کر دی گئی۔ کھانوں نے مزید ترقی کی۔ مرچ، ادرک، پیاز، ٹماٹر کے ساتھ گھی میں بگھارے ہوئے گوشت کی اصل غذائیت کا مزید ستیاناس مارنے کے لئے گرم مصالحوں نے امریکہ جیسا کردار ادا کیا۔ اب ہنڈیا میں جب چوب چینی، دار چینی، چاروں نمک، ہلدی، فلفل سیاہ، زیرہ سفید، کالی مرچ، مرچ کلاں، لونگ، دھنیا اور دیگر مصالحہ جات کا پسا ہوا آمیزہ ڈالا جاتا ہے تو اس کی لذت میں تو اضافہ ہو جاتا ہے لیکن غذائیت، وٹامنز اور طاقت کا وہی حال ہوتا ہے جو عراق میں صدام حسین یا افغانستان میں طالبان کا ہوا۔
کھانے کا مزید بیڑا غرق ان ککوں، باورچیوں، شیفوں اور فارغ بیٹھی گھریلو خواتین نے کیا جنہوں نے پگمنٹس میں ذرا ذرا سی تبدیلی کر کے لاکھوں رنگ بنا دیئے۔ کمپیوٹر کی انسٹنٹ آرٹسٹ، کورل ڈرا یا اڈوب فوٹو شاپ کھول کر دیکھ لیں چاروں پگمنٹس کے باہمی ملاپ اور ان کے تناسب کو بدل بدل کر آُپس میں ملاتے جائیں تو پچیس لاکھ کے قریب رنگ بن جاتے ہیں۔ گوشت کے ساتھ بھی یہی ہوا، کھانے کی کوئی بھی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں سب سے زیادہ ڈشیں گوشت کی ہی ملتی ہیں، ادرک گوشت، آلو گوشت، بھنڈی گوشت، کریلے گوشت، ٹینڈے گوشت، دو پیازہ گوشت، دال گوشت، بینگن گوشت، چنے گوشت وغیرہ وغیرہ حتٰی کہ گوشت گوشت کی ڈش بھی موجود ہے۔
کہا جاتا ہے کہ مغل شہشاہ اکبر اعظم اور شہزادہ سلیم کے دور کا باورچی گوشت کی اڑھائی ہزار مختلف ڈشیں پکا سکتا تھا۔
آلودگی کا یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔۔ بقیہ کل

زمرہ : تاریخ, تعلیم, رسم و رواج | 2 تبصرے »

خودداری

مصنف : فرخ نور :: بتاریخ 09 Feb 2010

غیرت نہ تو خودی ہے نہ ہی اناء، غیرت تو ایک جذبہ ہے جو قوموں کی حمیت کو برقرار رکھتا ہے، نہ کہ قوموں کو بےقرار، یہ ایسا جذبہ ہے کہ اگر قوموں میں بےقراری آجائے تو جراری کی تاریخیں رقم ہوجایا کرتی ہے۔
معاشرہ میں ہائی جیک ہوئے جذبوں میں سے ایک خوبصورت جذبہ “غیرت“ ہے۔ جب غیرت قوموں میں سے رخصت ہو جائے تو وُہ قومیں اقوام میں شمار نہیں ہوا کرتی۔ بلکہ اُن کا شمار کسی بھی مرتبہ میں نہیں رہتا۔ یہ بات صرف اقوام کی حد تک نہیں ہمارا معاشرہ بھی یہی ہمیں سمجھاتا ہے۔ ہمارے رشتوں میں ؛جو رشتے ہاتھ پھیلاتے رہتے ہیں، وُہ رشتے رشتہ داری میں شمار نہیں کیے جاتے۔ اکثر اُنھیں اچھوت کی طرح سمجھا جانےلگتا ہے۔اللہ کسی کو بھی ہاتھ پھیلانے پر مجبور نہ کرے۔ جب انسان کا وزن نہ رہے تو اُسکی بات کا بھی وزن نہیں رہتا، جسکا جہاز ڈوب جائےلوگ اُسی کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔خوددار قومیں اپنا وزن غیرت سے برقرار رکھتی ہیں۔ تبھی خوددار قومیں مر جاتی ہیں مگر اپنی غیرت کا سودا نہیں کیا کرتیں۔ بہت سےقبائل کا ایک مقولہ رہا: ”سر کٹوا سکتے ہیں مگر جھک نہیں سکتے“
ایک فلمی کہانی کچھ یوں تھی: ایک جاگیر دار غریب کسانوں سے زمین خریدنے کی کوشش کرتا ہے مگر کوئی کسان بھی اُسکی بات خاطر میں نہیں لاتا، ایک رات وُہ تمام کھلیانوں میں پکی فصل کوآگ لگواتا ہے۔ اگلی ہی صبح جاگیر دار اظہار ہمدردی میں مدد کوآتا ہے۔ بغیر کسی شرط کےگندم، چاول، دال کی بوریاں بطور خوراک مدد دیتا ہے، و ُہ ایک سال تک ایسے ہی امدادی خوراک دیتا ہے، کچھ عرصہ بعد معمولی سے سود پربحالی امداد کا قرض دیتا ہے، اس عرصہ کے دوران، وُہ گاؤں والوں میں شراب اور جواء کی لَت ڈالتا ہے، پھر اُن خوددار گاؤں والوں کو کام کےعادی سے کام چوری کی عادت پڑتی ہے۔ تمام گاؤں جاگیردار کی جوتیاں چاٹنے کیلیے سب کچھ کرنےکو تیار ہوتا ہے۔ وُہ اپنی عورتوں کو قحبہ خانہ کی نظر کرتے ہیں۔ آخر اُنکی تمام زمینیں قرض وسود کےعوض جاگیردار باآسانی ہتھیاتا ہے۔ ماضی کے غیرت مند وُہ گاؤں والے نشے میں دھت ہیں یا کچھ اپنی بے بسی پر کراہتے ہیں اور کسی مسیحا کےانتظار میں وقت بیتانےلگتے ہیں۔
اسلام میں ہے کہ ایک دوسرے کی مدد کرو، یوں مدد کرو کہ کسی کو محسوس بھی نہ ہونے پائے، مقصد یہ ہے کہ مدد بھی ہوجائے اور کسی کی خوداری کو ٹھیس بھی نہ پہنچ پائے۔
غیرت یہ نہیں کہ غیرت کےنام پر قتل کیا جائے، غیرت تو یہ ہے کہ اپنی خوداری کا قتل نہ کرے۔ایسی خود سوزی سے موت کو گلےلگا لینا زیادہ بہتر ہے۔
غیرت ہے کیا؟ اپنے حق پر کسی کو ڈاکا نہ ڈالنے دینا اور کسی سے اُسکا حق چھیننا گوارہ نہ کرنا۔ اپنی حد میں رہتے ہوئے، پورے شان اور وقار سے زندگی دوسروں کے لیے بسر کرنا۔ کسی بھی حال میں دوسرے کےمال پر نظر نہ رکھنا اور اپنے مال میں سے ضرورت مندوں میں تقسیم کرتے رہنا۔ ہاتھ پھیلانے کی بجائے، خدا کے حضور سر کٹوا لینا کو ترجیح دینا۔ فقیرانہ حالت میں بھی شاہانہ انداز سے زندگی بسر کرنا ہی خودار اقوام کا طرز زندگی ہے۔ خوددار افراد کسی بھی صورت اپنا اُدھار باقی نہیں رکھتی۔ وُہ فوراً ہی کچھ نہ کچھ ادا کر کے معاملہ ہی چکا دیتے ہیں۔

ہمارے خطہ کا شمار غیور اور خودار اقوام میں ہوتا رہا ہے؟ سکندراعظم کےحملہ سے موجودہ دور تک خودداری کی انمول مثالیں تاریخ بنی۔ ابراہیم لودھی اور مرہٹہ ؛عوام پر مظالم کے باوجود غیرت مند شکست خوردہ شخصیات ہیں۔ ٹیپوسلطان، نواب سراج الدولہ، سید احمد شہید کی سوانح حیات خودداری کی علمبردار رہی۔ برصغیرمیں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے سات شاتم رسولوں کو سات عظیم شہداء (غازی علم دین شہید، غازی عبدالقیوم شہید، غازی محمد صدیق شہید، غازی عبداللہ شاہ شہید، غازی عبد الرّشید شہید، غازی میاں محمد شہید، غازی مرید حسین شہید) نے محبت رسول میں جہنم واصل کیا۔
معاشرتی رسم و رواج میں بیٹی کو غیر گھر میں بیاہ دینے کے بعد، وہاں سے پانی نہ پینا، غیر اور دشمن کے مہمان کو بھی اپنا مہمان سمجھ کر بھرپور مہمان نوازی کرنا، کسی بھی انجان کی پکار پر لبیک کہنا، کسی کی جاہ وجلال کے آگے جھکنے کی بجائے اپنے اصولوں پر ڈٹ کر فیصلہ کرنا ہی اس خطہ کی روایات رہی ہیں۔
قائد اعظم ایک خوددار رہنما تھے، اُنھوں نے قوم کو بھی خودداری کی تعلیم دی، جبکہ کہا جاتا ہے کہ گاندھی کی پالیسی انا پرستی کی حد تک رہی۔ اقبال کی خودی میں ہم قائد کی خودداری بھی دیکھتے ہیں۔
انا اور خوداری میں یہی فرق ہے کہ انا اپنی ذات کے لیے ہوتی ہے اور خوداری دوسروں کی بھلائی کے لیے ہوتی ہے۔ خودداری قوموں میں اصلاح کا عمل پیدا کرتی ہے، انا انسان میں بیگاڑ لاتی ہے۔ انا ضد لاتی ہے، خودداری اُصول پرڈٹے رہنا سکھاتی ہے۔ شخصیت وُہ خودی ہے جو زندگی کو منظم بناتی ہے۔
یہ مثالیں صرف کتب یا تاریخ میں نہیں ملتی بلکہ آج بھی حقیقی زندگیوں میں حقیقت کا روپ بھر رہی ہیں، نہ ہی یہ عمل طبقات تک محددو ہے۔ ہمارے ملک ہی کے ایک نامور مزاح نگار کچھ دہائیوں قبل جب بیمار تھے تو اُنھوں نے اپنےحالات کی تنگدستی کے باعث شہر کو خیرباد کہنے کا ارادہ کرلیا، جب وقت کےسپاہ سالار اعظم کو یہ خبر ہوئی تو اُس نے فوری ملاقات کی اور شہر نہ چھوڑنےکی گزارش فرمائی اور عرض کیا کہ آپ ایک درخواست لکھ دیں تو صدر ِپاکستان اُنکا وظیفہ مقرر فرما دیں گے۔ اُنھوں نےاس بات کو اہمیت نہ دی، کچھ عرصہ بعد وُہ جنرل صاحب درخواست کے کاغذات خود لے کر آئے کہ اِن کو پُر کر دیجیے، مگر اُن مزاح نگار نے بات پھر ٹال دی، اگلی مرتبہ جنرل صاحب فارم بھر کر لے آئے اور کہا دستخط فرما دیجیے مگر مزاح نگار نےایسا نہ کیا۔ اُنکا مئوقف تھا، میں کیوں بھیک مانگو؟ اگر صدر مملکت میری مدد فرمانا چاہتے ہیں تو اس کاغذی بھیک کے بغیر فرمائے۔ دراصل اُنکی غیرت کو گوارہ نہ تھا کہ اُنکو کوئی خیرات دی جائے جبکہ حالات تنگ دستی کاشکار تھے۔ آج وُہ تینوں شخصیات حیات نہیں مگر ایک خوداری کی تازہ ترین مثال چھوڑ گئیں۔
تجربہ کار پروفیسر حضرات اپنے زعم میں سیاسیات پر گفتگو میں فرماتے ہیں، کہ حاکم نےقوم کو منگتی قوم بنا دیاہے، مگر کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے، ہمارے رویےبھی کچھ تعمیری نہیں۔ ہم ایک ڈرائیور کو کھانا لینے کے لیئے بھیجتے ہیں، وُہ کھانا لاتا ہے، ہم کھانا ڈالتے ہیں، وُہ ایک پلیٹ آخر میں پھیلائے لاتا ہے اور ہمارا ہی بچا ہوا کھانا ڈالتا ہے اور اُسی انداز سےواپس مڑ کر کہیں باہر بیٹھ کر کھانا کھاتا ہے، ہم یہ اسلام کی تعلیم دیتے ہیں؟ اختلاف یہ نہیں کہ وُہ آخر میں کھانا کیوں ڈالتا ہے۔ اصل بات یہ ہے، ملازم جس انداز میں کھانا لیتا ہے وہاں خودداری کا پہلو کمزوری کا شکار ہوتا ہے۔ ہم اُسکو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کیوں نہیں کھلاتے؟ چلو ساتھ نہ بٹھائے اُسکے حصہ کا کھانا ڈال کر اُس تک پہنچا تو سکتے ہیں۔ پلیٹ پھیلائے لانا خودداری کو دفن کرتا ہے۔ سرکاری ملازمت میں گریڈ کےچکر نے انسان کی سوچ کو سرِکا کر سرکار ہی بنا ڈالا ہے۔ جبکہ اسلامی تربیت کے ماحول میں دسترخوان پر نہ کوئی مالک ہے اور نہ کوئی ملازم۔ آج بھی ایسے کھلےدِل کے افراد ہمارے معاشرے میں بیشمار ہیں۔جو کھانے کےدوران آقا و غلام کا فرق نہیں رکھتے بلکہ ایک ہی پلیٹ میں مل کر کھانا نوش فرماتے ہیں۔
یہ بات ایک دفتر کی حد تک نہیں، ملازمین سے لیکر آقا تک سب ہر روز کچھ نہ کچھ مانگ رہے ہیں، بھکاری کو دیکھیں، واسطےدے کر مانگ رہے ہیں۔ کیا آج اس قوم کی تربیت بھیک میں روپیہ مانگنا ہی ہے۔ شائد ضرورت روپیہ کی نہیں، روپیہ ضرورت ہے۔ کیا یہ تربیت سکول کے اُساتذہ، ملک کے سیاستدانوں کی ہی رہ گئی ہے جو کہ والدین، خاندان، معاشرہ، محلہ اور ہمسایوں کی مشترکہ ذمہ داری بھی ہے۔
ایک گھر میں اگر وقتی طور پر چائے کیلیے اگر چینی یا چائےکی پتی ختم ہو جائے تو کسی دوسرے سےمانگنے کی بجائےمناسب ہے کہ اُسکے بغیر ہی گزارہ کر یں یا بازار سے خرید لیں۔ مگر وُہ ایسی کسی تعاون کی درخواست آئے تو وُہ دینے سے انکار نہ کرے۔ یوں معاشرہ میں مانگنےکی عادت نہ رہےگی۔
ایک درویش کےہاں یہ منظر تھا کہ اُنکا ضروریات زندگی کا سامان ایک گٹھری اور بنیادی طبی امداد سے زیادہ نہ تھا، وُہ جہاں پہنچتے، عقیدت مند تحائف کےساتھ آموجود ہوتے تھے۔ وُہ کچھ تحائف رکھ لیتے اور بعد میں آنے والوں کو وُہ اُنکی ضرورت کے مطابق وُہ تحائف بانٹ دیتے۔ اکثر تو وُہ تحفہ لانے والےکو کہتے فلاں کو بلاؤ، وُہ آتا تو کہتے، یہ اِسکو میری طرف سےدے دو۔اُس درویش کا ایک خاص وصف یہ تھا کہ وُہ کسی کو خالی ہاتھ نہیں لوٹنے دیتا تھا۔ اُسی درویش نے ایک مرتبہ کسی کوکچھ یوں کہا تھا کہ”فقیر کبھی بھی کسی کا اُدھار نہیں رکھتا، کچھ نہیں تو کام کی بات بتا دیتا ہے۔“
یہ ملک پاکستان درویشوں نے مل کر بنایا، آج درویش ہمیں اپنی عملی زندگی سےخودداری کی عملی تربیت دینے میں مصروف عمل ہے۔
ہمیں اپنی ضد کو خوداری کا نام نہیں دینا چاہیے بلکہ اپنی انا کو ”میں “ سے باہر رکھ کر خودداری سے فیصلے کرنے چاہیں۔
(فرخ نور)

زمرہ : تعلیم, رسم و رواج | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »