مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 13 نومبر 2008
اے اللہ ہمارے گناہ معاف فرما دے۔
اے اللہ ہماری خطاؤں کو درگذر فرما۔
اے اللہ ہمیں نیکیوں کی توفیق عطا فرما، ہمارے چھپے اور کھلے گناہ، اگلے پچھلے گناہ معاف فرما، بے شک تیری معافی بہت بڑی ہے۔
اے اللہ اپنی رحمت کے دامن میں چھپا لے۔
اے اللہ ہمیں رات اور دن کے فتنوں سے بچا۔
اے اللہ ہمیں جنوں اور انسانوں کے فتنوں سے بچا۔
اے اللہ زندگی اور موت کے فتنوں سے بچا۔
اے اللہ ہماری آہ زاری سن لے۔
اے اللہ ہماری جسمانی اور روحانی بیماریوں کو صحت عطا فرما۔
اے اللہ ہمیں جسمانی طاقت اور قوت عطا فرما۔
اے اللہ ہم کو مصیبت سے نجات عطا فرما۔
اے اللہ ہمیں حضرت آدم علیہ السلام جیسی توبہ نصیب فرما۔
اے اللہ حضرت یعقوب علیہ السلام جیسی گریہ و زاری نصیب فرما۔
اے اللہ ہمیں ابراہیم علیہ السلام جیسی دوستی نصیب فرما۔
اے اللہ ہمیں ایوب علیہ السلام جیسا صبر نصیب فرما۔
اے اللہ ہمیں داؤد علیہ السلام جیسا سجدہِ شکر نصیب فرما۔
اے اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عمل نصیب فرما۔
اے اللہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسا صدقہ نصیب فرما۔
اے اللہ عمر رضی اللہ عنہ جیسا جذبہ نصیب فرما۔
اے اللہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جیسا غنا عطا فرما اور شرم و حیا نصیب فرما۔
اے اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسی شجاعت و بہادری نصیب فرما۔
اے اللہ آئمہ دین جیسی خدمتِ اسلام نصیب فرما
اے اللہ ہمیں خلفائے راشدین جیسی بھلائیاں نصیب کر، ہمیں پیغمبری زندگی اور پیغمبری موت تحفہ بنا کر بھیج۔
اے اللہ ہمیں موت تحفہ بنا کر بھیج، ہماری موت کو رحمت بنانا زحمت نہ بنانا۔
اے اللہ ہماری قبروں کو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ بنانا۔
اے اللہ ہمیں ایمان اور علم کی دولت سے مالامال کر دے۔
اے اللہ تمام بے نمازیوں کو نمازی بنا دے۔
اے اللہ بے روزگار کو رزقِ حلال عطا فرما۔
اے اللہ گمراہوں کو راہ پر لے آ۔
اے اللہ مفلس کو غنی کر دے۔
اے اللہ مسلمانوں کو حلال روزی نصیب فرما۔
اے اللہ بے اولادوں کو نیک اور صالح اولاد نصیب فرما۔
اے اللہ جو اولاد سے گھبرا گئے ہیں انہیں معاف فرما دے۔
اے اللہ بدکردار کے کردار کو درست فرما دے۔
اے اللہ بد اخلاق کو مکرم الاخلاق فرما دے۔
اے اللہ سلامتی والا دل، ذکر والی زبان اور رونے والی آنکھیں نصیب فرما دے۔
اے اللہ ہمیں دین و دنیا کی عزت نصیب فرما۔
اے اللہ ماں باپ کے نافرمانوں کو ان کا فرمابردار فرما دے۔
اے اللہ بے چینوں کو چین عطا فرما، اجڑے ہوئے گھروں کو آباد کر دے اور جن گھروں میں نااتقافی ہے انکو اتفاق کی دولت سے مالامال کر دے۔
اے اللہ ہمارے بچوں کو پاک دامنی عطا فرما اور انہیں زندگی کا نیک ساتھی نصیب فرما۔
اے اللہ پاکستان کی حفاظت فرما اور اسے دشمنوں اور اپنوں کی چیرہ دستیوں سے محفوط رکھ۔
اے اللہ ہمارے حکمرانوں کو حقائق جاننے، سمجھنے اور اس کی روشنی میں صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ عالم اسلام میں اتحاد و اتقاق عطا فرما۔
اے اللہ عالم اسلام کے حکمرانوں کے ایک دوسرے پر انحصار کرنے کی قوتِ فیصلہ عطا فرما۔
اے اللہ ہماری قبروں کو جہنم کا گڑھا نہ بنا۔
اے اللہ منکرِ نکیر کر سوالات کے وقت ہمیں ثابت قدم رکھنا۔
اے اللہ ہماری زندگی اور موت کے بعد قرآن کو ہمارا مونس و غمگسار بنا دے۔
اے اللہ ہمارے اعمال نامے ہمارے داہنے ہاتھ میں دینا۔
اے اللہ ترازو کا پلڑا نیکیوں سے وزنی کرنا۔
اے اللہ ہمارے چہروں کو قیامت کے دن چمکتا رکھنا۔
اے اللہ پُل صراط ہمارے آسان فرما۔
اے اللہ ہم پر اپنی رحمتوں اور کرموں کی بارش کر دے۔
اے اللہ ہمیں جہنم سے بچا کر جنت الفردوس نصیب فرما۔
اے اللہ ساقیِ کوثر صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے حوض کوثر سے پانی پلانا۔
اے اللہ تو سراپا عطا ہی عطا ہے مگر ہمیں مانگنے کا سلیقہ نہیں۔
اے اللہ ان ٹوٹے پھوٹے لفظوں کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرما۔
Share This
زمرہ : تعلیم, عشق ومعرفت, رسم و رواج, اسلام | 3 تبصرے »
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 18 ستمبر 2008
سترہ سالہ دانیال کے ایک انکار نے اسلام آباد کی اشرافیہ کو حیران نہیں بلکہ پریشان کر دیا۔ انکار کا یہ واقعہ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے ڈرامہ ہال میں پیش آیا جہاں وفاقی دارالحکومت کے ایک معروف انگریزی میڈیم اسکول کی تقریب تقسیم انعامات جاری تھی۔ رمضان المبارک کے باعث یہ تقریب صبح دس بجے سے بارہ بجے کے درمیان منعقد کی گئی اور اتوار کا دن ہونے کے باعث ڈرامہ ہال طلبہ و طالبات کے والدین سے بھرا ہوا تھا۔ ان والدین میں شہر کے معروف لوگ شامل تھے۔ اس تقریب پر مغربی ماحول اور مغربی موسیقی غالب تھی جس میں حیرانگی کی کوئی بات نہ تھی۔ تقریب کی تمام کارروائی انگریزی میں ہو رہی تھی اور انگریزی زبان جہاں بھی جاتی ہے اپنی تہذیب کو ساتھ لے کر جاتی ہے۔ اس دوران اسکول کی طالبات نے جنید جمشید کے ایک پرانے گیت پر رقص پیش کیا۔ یہ گیت ایک سانولی سلونی محبوبہ کے بارے میں تھا جو شہر کے لڑکوں کو اپنا دیوانہ بنا لیتی ہے۔ نو عمر طالبات نے اس گیت پر دیوانہ وار رقص کیا۔ حاضرین میں موجود کئی طلبہ نے اپنے والدین کی موجودگی کی پروا نہ کرتے ہوئے محو رقص طالبات کو چیخ چیخ کر داد دی۔
اس رقص کے بعد اسٹیج سے او لیول اور اے لیول کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے نام پکارے جانے لگے۔ گولڈ میڈل حاصل کرنے والی بعض طالبات اسکارف اور برقعے میں ملبوس تھیں۔ ایک طالب علم ایسا بھی تھا جس کے چہرے پر نئی نئی داڑھی آئی تھی اور جب پرنسپل صاحبہ نے اس کے گلے میں گولڈ میڈل ڈال کر اس کے ساتھ ہاتھ ملانا چاہا تو دبلے پتلے طالب نے نظریں جھکا کر اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ پرنسپل صاحبہ نے پوچھا کہ کیا تم ہاتھ نہیں ملانا چاہتے؟ طالب علم نے نفی میں سر ہلایا اور اسٹیج سے نیچے اتر آیا۔ پھر دانیال کا نام پکارا گیا جو اے لیول مکمل کرنے کے بعد ایک امریکی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے اور صرف گولڈ میڈل حاصل کرنے اپنے پرانے اسکول کی تقریب میں بلایا گیا تھا۔ وہ گولڈ میڈل وصول کرنے کیلئے پرنسپل صاحبہ کی طرف نہیں گیا بلکہ ڈائس پر جا کھڑا ہوا اور مائیک تھام کر کہنے لگا کہ وہ اپنے اسکول کی انتظامیہ کا بہت شکر گزار ہے کہ اسے گولڈ میڈل کیلئے نامزد کیا گیا لیکن اسے افسوس ہے کہ مذکورہ تقریب میں اسکول کی طالبات نے رمضان المبارک کے تقدس کا خیال نہیں کیا اور واہیات گیت پر رقص پیش کیا۔ اس نے کہا کہ مسلمانوں کے ملک میں رمضان المبارک کے تقدس کی پامالی کے خلاف بطور احتجاج وہ گولڈ میڈل وصول نہیں کرے گا۔ یہ کہہ کر وہ اسٹیج سے اتر آیا اور ہال میں ہڑبونگ مچ گئی۔ کچھ والدین اور طلبہ تالیاں بجا کر دانیال کی حمایت کر رہے تھے اور کچھ حاضرین غصے میں پاگل ہو کر اس نوجوان کو انگریزی زبان میں برا بھلا کہہ رہے تھے۔ بوائے کٹ بالوں والی ایک خاتون اپنی نشست سے کھڑی ہو کر زور زور سے چیخیں … ” گیٹ آؤٹ طالبان، گیٹ آؤٹ طالبان “۔
ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دانیال کے مخالفین حاوی ہیں کیونکہ وہ بہت زیادہ شور کر رہے تھے لیکن یہ ہڑبونگ وفاقی دارالحکومت کی اشرافیہ میں ایک واضح تقسیم کا پتہ دے رہی تھی۔ یہ تقسیم لبرل عناصر اور بنیاد پرست اسلام پسندوں کے درمیان تھی۔ پرنسپل صاحبہ نے خود مائیک سنبھال کر صورتحال پر قابو پایا اور تھوڑی دیر کے بعد ہوشیاری سے ایک خاتون دانشور کو اسٹیج پر بلا لیا اور خاتون نے اپنی گرجدار آواز میں دانیال کو ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا کہ تم نے جو کچھ بھی کیا وہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تعلیمات کے خلاف تھا کیونکہ بانیٴ پاکستان رواداری کے علمبردار تھے۔ پچھلی نشستوں پر براجمان ایک اسکارف والی طالبہ بولی کہ بانیٴ پاکستان نے یہ کب کہا تھا کہ مسلمان بچیاں رمضان المبارک میں اپنے والدین کے سامنے سانولی سلونی محبوبہ بن کر ڈانس کریں؟ ایک دفعہ پھر ہال میں شور بلند ہوا اور اس مرتبہ بنیاد پرست حاوی تھے لہٰذا پرنسپل صاحبہ نے مائیک سنبھالا اور کہا کہ طالبات کے رقص سے اگر کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہ معذرت خواہ ہیں۔ اس واقعے نے اسلام آباد میں ایک مغربی سفارت خانے کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ سفارت خانے نے فوری طور پر ایک ماہر تعلیم کی خدمات حاصل کیں اور اسے کہا گیا کہ وہ اسلام آباد کے پانچ معروف انگریزی میڈیم اسکولوں میں او لیول اور اے لیول کے ایک سو طلبہ و طالبات سے امریکی پالیسیوں، طالبان اور اسلام کے بارے میں رائے معلوم کریں۔ اس سروے کے حتمی نتائج ابھی مرتب نہیں ہوئے لیکن مجھے بتایا گیا ہے کہ او لیول اور اے لیول کے طلبہ و طالبات کی ایک بڑی اکثریت امریکہ اور طالبان دونوں سے نالاں ہے لیکن امریکہ کو بڑا دہشت گرد سمجھتی ہے۔ سروے کے دوران بعض طلبہ نے ” خطرناک حد تک “ طالبان کی حمائت کی اور کہا کہ طالبان دراصل امریکہ اور پاکستان حکومت کے ظلم اور بمباری کا ردعمل ہیں اور انہیں دہشت گرد قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم ایسے طلبہ دس فیصد سے بھی کم تھے۔ اس سروے سے مغرب کو کم از کم یہ پتہ ضرور چل جائے گا کہ اسلام آباد کے انگریزی میڈیم اسکولوں میں طالبان کے دس فیصد حامی موجود ہیں۔ یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ طالبان صرف دینی مدارس میں پیدا نہیں ہوتے بلکہ وقت اور حالات انگریزی میڈیم طالبان بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ ذرا سوچئے ! ان دس فیصد میں سے ایک یا دو فیصد طلبہ وہی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیں جو طالبان نے اختیار کر رکھا ہے تو ذمہ دار کون ہو گا؟ ذرا سوچئے ! پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آئے روز امریکی بمباری سے بے گناہ عورتوں اور بچوں کی ہلاکت پر آپ اور میں بے چین ہو جاتے ہیں تو کیا ہمارے پندرہ سولہ سال کے بچے بے چین نہ ہوتے ہوں گے؟ امریکی میزائل حملوں نے نئی نسل میں یہ تاثر عام کیا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی ریاستی دہشت گردی کا سامنا ہے اور پاکستان کی حکومت اس دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ یہ تاثر امریکہ مخالف جذبات کو تیزی سے بھڑکا رہا ہے اور اگر حکومت صورت حال کو سنبھال نہ سکی تو بہت جلد پاکستان میں ایک ایسی امریکہ مخالف عوامی تحریک جنم لے سکتی ہے جس کو نہ تو نئی حکومت روک سکے گی اور نہ ہی فوج روک سکے گی۔
ہماری حکومت کو تذبذب اور گومگو کی کیفیت سے نکلنا ہو گا۔ جب قبائلی علاقوں میں طالبان حکومت کی رِٹ تسلیم نہیں کرتے تو ہماری فوج ان پر ٹینک چڑھا دیتی ہے لیکن جب امریکی طیارے ہماری قومی خودمختاری کا مذاق اڑاتے ہیں تو ہم صرف چند بیانات پر اکتفا کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے ایک بیان دیا کہ امریکہ کو پاکستان پر مزید حملوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس بیان پر انہوں نے خوب داد وصول کی۔ قوم کا خیال تھا کہ قبائلی علاقوں میں تعینات ایک لاکھ فوج امریکیوں کو دوبارہ پاکستان میں نہیں گھسنے دے گی لیکن اگلے ہی دن شمالی وزیرستان میں ایک اور حملہ ہو گیا جس میں ایک دفعہ پھر عورتیں اور بچے مارے گئے۔
اس حملے کے بعد ہمارے وزیراعظم صاحب نے فرمایا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ نہیں ہو سکتی۔ ایک ایٹمی طاقت کے وزیراعظم کا بیان پڑھ کر میرا سر شرم سے جھک گیا۔ آپ امریکہ سے نہیں لڑ سکتے تو نہ لڑیں لیکن کم از کم امریکی فوج کیلئے پاکستان کے راستے سے جانے والی سپلائی تو بند کر دیں۔ امریکی طیاروں کو پاکستان کے راستے سے ایندھن جاتا ہے اور یہ ایندھن پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ امریکہ کی لڑائی اب طالبان اور القاعدہ کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف ہے۔ پاکستانی ریاست نے امریکی دہشت گردی کے خلاف کمزوری دکھائی تو پاکستان کے بڑے شہروں میں شدت پسندی کی لہر ابھر سکتی ہے جو جمہوری اداروں اور سیاسی جماعتوں کو کمزور کر دے گی۔ نئی جمہوری حکومت امریکی دہشت گردی کے خلاف عوامی جذبات کی ترجمانی کرے، مشتعل جذبات نے عوامی تحریک کی شکل اختیار کر لی تو حکومت کے پاس کچھ نہ بچے گا اور ” گیٹ آؤٹ طالبان “ کہنے والے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں طالبان سے بچتے پھریں گے۔
حامد میر ۔ روزنامہ جنگ
Share This
زمرہ : تعلیم, رسم و رواج, پاکستان | 5 تبصرے »
مصنف : فرخ نور :: بتاریخ 01 اگست 2008
سُچ انسان سُچِت ہوتا ہے۔ سچیت نہیں۔ سِچَّھک ہو کر سچوئی سے سُچِنتا ہے۔ یہی سَدا چار اُسکودُنیا میں سجیونی بنا دیتے ہیں۔
سچا انسان سُچا موتی ہوتا ہے۔ سُچے موتی روایت زمانہ نہیں بلکہ زمانے اُنکی روایات ہوتے ہیں۔ زمانہ اُنکی پہچان نہیں وُہ زمانےکی پہچان ہوتے ہیں۔
زمانہ سخن زمانہ شناس ہوتا ہے۔ زمانہ شناس نگاہ شناس ہوتا ہے۔ نگاہ شناس کھرا انسان ہوتا ہے۔ سچا انسان خالص انسان ہوتا ہے۔ قول خالص، عمل خالص، علم خالص، نام خالص، مزاج خالص، رنگ خالص، خالص ہی خالص۔ خلوص کا پیکر کشش ہی کشش۔ وُہ مقناطیسی کھچاؤ سا رکھتا ہے۔
لوگ اُس پہ نگاہ رکھتے ہیں۔ وُہ دُنیا کے عظیم العظیم انسان سے لو لگاتے ہیں۔ اُنکی تمام تر توجہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھرپور ہوتی ہے۔ سچا انسان عاشق رسول رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوتا ہے۔ اُسکی ہر بات عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مکمل (لبریز بھی اور تکمیل بھی) ہوتی ہے۔ وُہ خود عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اِک معمولی سا عملی کردار ہوتا ہے۔
سچےانسان کی سوچ منتشر نہیں مرتکز ہوتی ہی۔ ارتکاز کا نقطہ و نکتہ ذات رسول مقبول کےسواءکچھ نہیں۔
سچا انسان خود تو تعمیری ہوتا ہی۔ اُسکےدائرہ اثر میں زیر اثر افراد بھی تعمیری ہوتےہیں بےضرر ہوتےہیں یہ افراد تخلیق کار ہوتےہیں؛ نقال گُر نہیں۔ یہ نقش کار افرادتمثال گُر نہیں بناتے۔ یہ نقش چھوڑتے ہیں اور نقاش بناتے ہیں۔ گویا تخلیق گو نہیں، تخیل گو نہیں بلکہ تخیل کار اور تخلیق کار ان ہی سے ہوتے ہیں۔
جو عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سےلبریز ہے۔ اُسکا ہر عمل و قول تعمیری خیالات واثرات کا واضح نمونہ ہے۔ نہ صرف وُہ خود مثبت اثرات رکھتا ہے۔ بلکہ حلقہِ دائرہ کو تعمیری سوچ عطاء کرتا ہے۔ خطاء والے کو بھی سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ سچا انسان اعلٰی نمونہ بن کر خوبصورت درسگاہ بنتا ہے۔ جو زمانے کو خوب سیرت بناتی ہے۔ سچوئی زمانے کے محتاج نہیں زمانہ اُنکا محتاج ہوتا ہے۔
اِن سچے انسانوں سے کوئی سچل سرمست بنتا ہے تو کوئی علی ہجویری۔ جن کا سَحر سِحرحلال کی صورت میں سَحرخیز ہے۔ آج بھی کشف المعجوب کی سخن فہمی سدا بہار جیسی سحر خیزی رکھتی ہے۔ یہ تحریر جو خلوص ِقلب و نیت سے سچے انسان کے راست جذبے سے ضبط تحریر میں لائی گئی تھی۔ آج بھی اپنا اثر قلوب پر رکھتی ہے۔ سچے انسان کا سچا پن آج بھی نیک اثرات رکھتا ہے۔
سچا انسان انسانیت سے محبت کرتا ہے۔ اُسکی تنقید تنقید ہوتی ہے، نکتہ چینی نہیں (١)۔ وُہ برائی سے نفرت کرتے ہیں۔ مگر بُرے انسان کی ذات سے نفرت نہیں بلکہ اُسکی تربیت کی کوشش کرتے ہیں۔ وُہ بغض، حسد و کینہ دِل میں نہیں رکھتے۔ وُہ رَشک کرتا ہے۔ وُہ چاہتا ہے جو اَوروں کے پاس ہے۔ وُہ سب کو مل جائے۔ کسی سے چِھن نہ جائے۔ وُہ انسانیت سوز دِل سوز ہوتا ہے۔
سچا انسان ہے کیا؟ سچ بولنے والا وُہ سچ بولنے والا جسکا قول اور عمل یکساں ہوں، تضاد سے پاک ۔جو اللہ ، اُسکے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کو صدق دِل سےتسلیم کر لے۔ تسلیم کرنا یہ ہے کہ جسکو دِل و دماغ قبول کر لیں۔ ایسا انسان امین، صادق، دیانتدار اور شرافت کا عملی کردار ہوگا۔ کھرا انسان مشکل وقت میں بھی حق گو رہتا ہے۔ گویا وُہ کلمہ طیبہ کا عملی اقرار کرتا ہے۔
سانچ لوگ سچی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اُنکی درس و تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ سچا انسان سچی و کھری تعلیمات کا فروغ چاہتا ہے۔ اپنی نمائش، زیبائش اور آرائش کی تمنا نہیں رکھتا۔
اُولیاءکرام ہمیشہ تعمیر اور محبت کی بات کرتے ہیں۔ وُہ لوگوں کو یہ تعلیم دیتے ہیں۔ تعلق غرض سے نہیں دِل کی محبت سے رکھو! شہر کام کی غرض سے مہمان لاتے ہیں مگر سچے انسان دِل کی محبت سے محبت کرنے آتے ہیں۔ جسکی یاد آئے اُسکے شہر چل پڑو۔ شہر ِیثرب میں محبوب کی محبت۔
سچا انسان قابل تنقید نہیں ہوتا نہ ہی اُسکی مکمل قابل تعریف کی جاسکتی ہے (٢)۔ سچا انسان عاشق رسول ہوتا ہے۔ یہی اُسکی اصل خوبی و تعریف ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا سچا و سُچا انسان نہ کبھی کوئی آیا ہے، نہ ہی آئےگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ مبارک کا ہر پہلو، قدم اور عمل صرف اور صرف تعمیری اثرات کی نمایاں مشعل ِراہ ہے۔ غزوات ہو یا تعلیم و تبلیغ ہر معاملہ تعمیری ہی تعمیری۔ اے اللہ ہمیں رسول پاک کی تعلیمات پر تعمیری صورت میں عمل کرنے کی توفیق عطاء فرما۔
اے اللہ ہم سب کو ایک سچا انسان، سچا مسلمان بننے کی توفیق عطاء فرما۔ ہمیں صرف نیک تربیت حاصل کرنے والا ہی نہیں، عملی تربیت دینے والا انسان بھی بنا۔ بطور مسلمان لفظ پاکستانی اور عقیدہ اسلام کی پہچان بھی کروا۔ ہمیں اسلام کی اصل روح سے روشناس کروانے والے عاشقین رسول کی رہنمائی و رہبری عطاء فرما۔ جو پوری دُنیا کی رہنمائی تعمیری فکر سے کریں۔ ہمیں سچ کے نام پر تخریبی سوچ والے بنے بنائے رہنمائوں اور رہبروں کی شر انگیز قیادت سے بچا۔(آمین)
(فرخ)
وضاحت:
(١) تنقید دراصل تکمیل میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ gaps fill کرتی ہے۔ مثبت بات ہے۔ منفی تنقید دراصل نکتہ چینی ہے۔
(٢) اُسکے ذکر میں تنقید اُسکی شان کے برخلاف ہوتی ہے۔
مشکل الفاظ کے معنٰی
ارتکاز / مرتکز ۔ ایک نقطہ پر اکٹھا ہونا
سُچ / سچل ۔ اصلی، صاف، پاک
سدا چار ۔ نیک چال چلن، نیک اخلاق
انسانیت سوز ۔ ہمدردانہ و غم خوانہ انسان دوستی
سُچا ۔ کھرا
گَھڑ ۔ خود سےبنا لینا
تعمیری ۔ Constructive, Positive Approach
سَچُت ۔ بےفکر، فکر سے آزاد
لبریز ۔ بھرپور بھرا ہوا ہونا
تخلیق کار ۔ بنانےوالا
سچوئی ۔ سچائی، راستی
لَو ۔ محب سے توجہ کا مرکز بننا
تخیل کار ۔ خیال پیش کرنےوالا
سچُنتا ۔ مناسب، غور، نیک خیال
منتشر ۔ بکھرا ہوا
تماثیل ۔ مشابہ صورت
سِچَّھک ۔ تعلیم دینے والا، اُستاد
سانچ ۔ سچائی، راستی، درستی، صحیح
تمثال گُر ۔ مصور ، نقاش
سچِیت ۔ ہوشیار، آگاہ، خبردار
نقاش ۔ نقش و نگار بنانےوالا
دِل سوز ۔ ہمدرد دوست
سَحر ۔ صبح
نقال گُر ۔ نقل پر عبور رکھنے والا جو حقیقت کو مسخرا بنا دے۔
زمانہ سخن ۔ عمدگی و خوبصورتی سے آگاہی
سِحرحلال ۔ جامع اور فصاحت والی بات
نقش ۔ چھاپ، صورت
زمانہ شناس ۔ باریک تہوں سے آگاہی
سَحرخیز ۔ صبح کا وقت، تازگی
نقش کار ۔ چھاپ کی صورت بنانے والا
سجیونی ۔ جان دینے والی (شی) آب حیات
سخن فہمی ۔ بات کا درست مطلب سمجھ آنا
نقطہ ۔ مرکز، صفر
سچ ۔ حق بات، راست گوئی
سدا بہار ۔ ہمیشہ تازہ و سرسبز رہنا
نکتہ ۔ باریک بات کی تہ
Share This
زمرہ : تعلیم, عشق ومعرفت, رسم و رواج | 2 تبصرے »