مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 01 Mar 2010
کیا پہلے ہم شیر ہیں؟ ۔ 1
بھوک انسان کے قابو میں نہیں، اس کے سامنے جو کچھ بھی آئے وہ ہڑپ کر جاتا ہے اس لئے ہمہ خور کہلاتا ہے۔ جو کچھ نہیں کھاتا وہ کوئی ولی، درویش ہا پھر شوگر کا مریض ہی ہو سکتا ہے۔
وقت نے چند قدم مزید لئے۔ گوشت آگ پر براہ راست بھون کر کھایا جانے لگا، اس سے لذت میں اضافہ ہوا لیکن اس کی تاثیر اور وٹامنز مرنے لگے۔
کھانوں نے مزید ترقی کی۔ مرچ، ادرک، پیاز، ٹماٹر کے ساتھ گھی میں بگھارے ہوئے گوشت کی اصل غذائیت کا مزید ستیاناس مارنے کے لئے گرم مصالحوں نے امریکہ جیسا کردار ادا کیا۔ اب ہنڈیا میں جب چوب چینی، دار چینی، چاروں نمک، ہلدی، فلفل سیاہ، زیرہ سفید، کالی مرچ، مرچ کلاں، لونگ، دھنیا اور دیگر مصالحہ جات کا پسا ہوا آمیزہ ڈالا جاتا ہے تو اس کی لذت میں تو اضافہ ہو جاتا ہے لیکن غذائیت، وٹامنز اور طاقت کا وہی حال ہوتا ہے جو عراق میں صدام حسین یا افغانستان میں طالبان کا ہوا۔
کیا پہلے ہم شیر ہیں؟ ۔ 2
گوشت کی آلودگی کا یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ آئے روز کوئی نہ کوئی نئی ڈش تیار ہوتی ہے اور انجام کار یہ ہوا کہ دن بدن امراض معدہ، اور دل کے مریضوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ شوگر کنٹرول سے باہر ہوتی چلی جا رہی ہے، کولیسٹرول قابو میں نہیں آتا، بلڈ پریشر نے الگ ناک میں دم کر رکھا ہے، مستقل سر درد کی شکایت بڑھ گئی ہے، جگر خون پیدا کرنا بھولتا جا رہا ہے اور ہر چوتھا آدمی جوڑوں کے درد کا رونا روئے جاتا ہے۔ معدے کا السر اور بواسیر اس کے علاوہ ہیں۔ انسان کا یہ انجام صرف اس لئے ہوا ہے کہ یہ لذت اور چسکا بڑھانے کے چکر میں گوشت سے سارے وٹامنز اور غذائیت نچوڑے چلا جا رہا ہے۔ قدرت کی دی ہوئی نعمتوں میں اپنی فنکاری کرنے کا یہ انجام تو ہونا ہی تھا۔ آپ کسی بھی چیز کو آلودہ کر کے دیکھ لیں ان کا انجام برا ہی ہو گا۔ مثال کے طور پر بدلتے ہوئے موسموں کو لیجیئے یہ قدرت کا سب سے حسین اور انمول تحفہ ہے۔ گرمیوں میں ائیر کنڈیشنروں نے گرمی کو آلودہ کر دیا اور سردیوں میں ہیٹروں نے سردی کو آلودہ کر دیا۔ انٹرنلی ائیر کنڈیشنڈ یا انٹرنلی ہیٹیڈ دفاترمیں کام کرنے والے اور کنٹرول ٹمپریچر کی گاڑیوں میں سفر کرنے والے افراد کی قوت مدافعت ایک عام آدمی کے مقابلے میں پچاس فیصد کم ہوتی ہے۔
بات صرف کھانے پینے اور موسموں تک محدود رہتی تو کوئی بات نہیں تھی لیکن ہم نے تو بہت آگے بڑھ کر موسمی تہواروں کو بھی آلودہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ کبھی شب برات پر رات بھر عبادت کی جاتی تھی اور موم بتیاں روشن کی جاتی تھیں لیکن آج آتش بازی کو ہی دعاؤں کی قبولیت کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ کبھی عید کو محمود و ایاز کا مٹانے کا تہوار سمجھا جاتا تھا لیکن آج عیدیں محض غریب طبقے کے لئے خود کشی اور خود سوزی کا تہوار بنتی جا رہی ہیں۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تہوار انتہائی عقیدت و محبت کا تہوار ہے لیکن اس میں بھی جھمر اور دیگر لوازمات شامل کر کے اسے آلودہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یوم پیدائش پر ڈھول کی تھاپ پر جھمر مارتے اور ایک دوسرے پر نوٹ نچھاور کرتے ہوئے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ خدارا آنے والی نسلوں کے لئے عقیدت، محبت اور احترام کے ان تہواروں کو تو اپنی اصل شکل میں رہنے دیں، انہیں تو آلودہ نہ کریں۔
کسانوں کے لئے جشن بہاراں کا تہوار تھا لیکن اس کی نسبت بسنت سے جوڑ کر اسے بھی آلودہ کر دیا گیا اور یہ ویلنٹائن ڈے تو کبھی ہمارے تہواروں میں شامل ہی نہ تھا۔
قارئین کرام! خود شکار کر کے کچا گوشت کھانے والے شیر کو صرف پانچ مرتبہ کسی فائیو سٹار ہوٹل کا “آلودہ“ یعنی روسٹ گوشت کھلا دیں تو وہ بلی بن جاتا ہے اور پھر عمر بھر کسی پر ہاتھ اٹھانے کے قابل نہیں رہتا۔ یہ ایام ویلنٹائن اور بسنت بھی آلودہ تہوار ہیں۔ ہم نے اگر اپنے تہواروں کی حفاظت نہ کی اور یہ آلودہ تہوار پانچ مرتبہ ہی منا لئے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں بلی بننے سے روک نہیں سکے گی۔
لیکن ٹھہریے مجھے یہ بتائیے، کیا پہلے ہم شیر ہیں؟؟
جی نہیں ہم تو صرف امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی ہیں۔
زمرہ : تاریخ, تعلیم, رسم و رواج | ابھی تک ایک تبصرہ ہوا ہے »
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 27 Feb 2010
سیدھی سے بات ہے زندہ رہنے کے لئے کھانا ضروری ہے۔ سانس لیتی جو مخلوق سبزی، چارہ شوق سے کھاتی ہے وہ سبزی خور کہلاتی ہے اور جس کی نبض چلنے کا دارومدار محض گوشت پے ہوتا ہے وہ مخلوق گوشت خور کہلاتی ہے۔ بھوک انسان کے قابو میں نہیں، اس کے سامنے جو کچھ بھی آئے وہ ہڑپ کر جاتا ہے اس لئے ہمہ خور کہلاتا ہے۔ جو کچھ نہیں کھاتا وہ کوئی ولی، درویش ہا پھر شوگر کا مریض ہی ہو سکتا ہے۔
ہمہ خوری کے باوجود انسان کی گوشت خوری اور سبزی خوری کا تناسب نکالا جائے تو اس کی شرح ٧٠ اور ٣٠ کی بنتی ہے۔ گوشت انسان کے لئے مرغوب ہو چکا ہے جس کی وجہ سے آلودگی نے بھی اس چسکے کا گھر دیکھ لیا ہے جو انسان کو لگ چکا ہے۔ ابتداء جانوروں کے کچے گوشت سے ہوئی جو آہستہ آہستہ آلودہ ہونا شروع ہو گئی۔ نیوٹریشنسٹ بتاتے ہیں کہ جتنی غذائیت، لذت، وٹامنز اور طاقت کچے یا نیم بریاں گوشت میں ہوتی ہے وہ مکمل پکے ہوئے یا گلے ہوئے گوشت میں نہیں ہو سکتی۔ انسان یہی کچا گوشت عرصہ دراز تک کھاتا رہا، آج بھی مچھیرے بھون کر یا پکا کر مچھلی کھانے کو مچھلی کی توہین سمجھتے ہیں، وسطی افریقہ کے بہت سے قبائل آج بھی کچا گوشت کھاتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ دھوپ میں خشک کیا ہوا گوشت کھانے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔
وقت نے چند قدم مزید لئے۔ گوشت آگ پر براہ راست بھون کر کھایا جانے لگا، اس سے لذت میں اضافہ ہوا لیکن اس کی تاثیر اور وٹامنز مرنے لگے۔ بھنے ہوئے گوشت کے بعد ہنڈیا میں ڈال کر گوشت کو گھی میں بگھار دیا جانے لگا، اس سے بھی چسکے میں تو اضافہ ہوا لیکن وٹامنز اور غذائیت اسی قدر کم ہو گئے۔ بگھارے ہوئے گوشت میں بعدازاں تیز مرچوں، پیاز لہسن اور ادرک کا اضافہ کر کے اس کی طاقت مزید کم کر دی گئی۔ کھانوں نے مزید ترقی کی۔ مرچ، ادرک، پیاز، ٹماٹر کے ساتھ گھی میں بگھارے ہوئے گوشت کی اصل غذائیت کا مزید ستیاناس مارنے کے لئے گرم مصالحوں نے امریکہ جیسا کردار ادا کیا۔ اب ہنڈیا میں جب چوب چینی، دار چینی، چاروں نمک، ہلدی، فلفل سیاہ، زیرہ سفید، کالی مرچ، مرچ کلاں، لونگ، دھنیا اور دیگر مصالحہ جات کا پسا ہوا آمیزہ ڈالا جاتا ہے تو اس کی لذت میں تو اضافہ ہو جاتا ہے لیکن غذائیت، وٹامنز اور طاقت کا وہی حال ہوتا ہے جو عراق میں صدام حسین یا افغانستان میں طالبان کا ہوا۔
کھانے کا مزید بیڑا غرق ان ککوں، باورچیوں، شیفوں اور فارغ بیٹھی گھریلو خواتین نے کیا جنہوں نے پگمنٹس میں ذرا ذرا سی تبدیلی کر کے لاکھوں رنگ بنا دیئے۔ کمپیوٹر کی انسٹنٹ آرٹسٹ، کورل ڈرا یا اڈوب فوٹو شاپ کھول کر دیکھ لیں چاروں پگمنٹس کے باہمی ملاپ اور ان کے تناسب کو بدل بدل کر آُپس میں ملاتے جائیں تو پچیس لاکھ کے قریب رنگ بن جاتے ہیں۔ گوشت کے ساتھ بھی یہی ہوا، کھانے کی کوئی بھی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں سب سے زیادہ ڈشیں گوشت کی ہی ملتی ہیں، ادرک گوشت، آلو گوشت، بھنڈی گوشت، کریلے گوشت، ٹینڈے گوشت، دو پیازہ گوشت، دال گوشت، بینگن گوشت، چنے گوشت وغیرہ وغیرہ حتٰی کہ گوشت گوشت کی ڈش بھی موجود ہے۔
کہا جاتا ہے کہ مغل شہشاہ اکبر اعظم اور شہزادہ سلیم کے دور کا باورچی گوشت کی اڑھائی ہزار مختلف ڈشیں پکا سکتا تھا۔
آلودگی کا یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔۔ بقیہ کل
زمرہ : تاریخ, تعلیم, رسم و رواج | 2 تبصرے »
مصنف : فرخ نور :: بتاریخ 08 Sep 2009
جذبہ حُریت ہی قوموں کو بیدار رکھتا ہے، آزادی کی تڑپ ہی دِل میں ولولہ پیدا کئے رکھتی ہے۔ جنگیں جدید ہتھیار سے لیس ہو کر یا تعداد کی کثرت سے نہیں، جذبوں سے جیتی جاتی ہیں۔ ملک کا دفاع ایسے ہی ہوتا ہے، جیسے اپنی بقاء کی جنگ۔ آج جنگ میں ہولناک ہتھیار، الفاظ کا پروپیگنڈہ ہے۔ جس قوم کا مورال گِر جائے، وُہ نفسیاتی طور پہ ہمت ہار بیٹھتی ہے۔ مورال قوم کے جذبوں میں خود اعتمادی اور ولولہ کو، حوصلہ اور برداشت کے ساتھ، برقرار رکھتے ہوئے بڑھاتا ہے۔ جس قوم کا مورال بڑھ جائے، وُہ کاغذ کے نقشہ پر بظاہر ہاری ہوئی بازی بھی جیت لیتی ہے۔
قومی مورال کیا ہی؟ ١٩٤٠ء سے لیکر ١٩٤٧ء تک کا سفر قومی مورال کی تشکیل کا مرحلہ تھا۔ اِسکا واضح عملی مظاہرہ ١٩٦٥ء کی جنگ کے شاندار ایام ہیں۔ پاکستانی قوم کا مورال اُن ساعات میں کچھ یوں تھا:
٦ ستمبر کی تاریکی میں بھارت نے لاہور پر اچانک تین اطراف جسٹر، واہگہ اور بیدیاں سے حملہ کر دیا۔ دشمن بھاری مقدار میں جدید ترین اسلحہ سےلیس تھا۔
ملک بھر میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا گیا۔ ریڈ کراس کے مرکزی دفتر میں خون دینےوالوں کا بے پناہ ہجوم جمع ہوگیا۔ ریڈ کراس کے مراکز میں خون دینےوالوں کے ہجوم میں دھکم پیل یہ تھی کہ ہر کوئی دوسرے سے پہلےخون دینا چاہتا تھا۔ باوجود اسکےکہ ان ہجوموں میں بہت سےلوگ (مرد اور عورتیں) پہلے بھی خون دے گئے تھے۔ ایک روز ڈاکٹر نے زرد رو عورت کا خون لینے سے انکار کر دیا تو وُہ میک اَپ کر کے ”تندرست“ ہو آئی اور ڈاکٹر کو دھوکہ دے کر خون دےگئی۔
کمسن لڑکے وزن پورا کرنے کے لیئے پتلونوں کی جیبوں میں لوہے کے ٹکڑے ڈال لاتے اور خون دے جاتےتھے۔ کہیں ڈاکٹر نے کسی نو سالہ بچی کا خون نہ لیا تو بچی نےگھر جا کر بلیڈ سے اپنی رگ کاٹ ڈالی اور خون سے پیالی بھرنےلگی۔ گھر والوں نے بر وقت دیکھ لیا اور بچی کا خون روک لیا۔ ہائی کورٹ کے ججوں نے ایک روز مل کر خون دیا۔ خون دینے والوں کی قطاریں روز بروز بڑھتی رہیں، گجرات تک کےلوگ خون دینے لاہور آتے۔ شہری محاذ کا یہ عالم ہوا کہ ریڈ کراس والوں نے اندازہ لگایا ہے کہ پانچ دِنوں میں قوم نے اس مقدار سے کہیں زیادہ خون دے دیا ہے جتنی پچھلے پورے سال میں فراہم نہیں ہوسکی تھی۔
لاہور ”جہاد جہاد“ اور” پاکستان زندہ باد“ کےنعروں سےگونج رہا تھا۔ شہر بھارتی توپوں کے پھٹتےگولوں اور اپنی توپوں کےدھماکوں سے بلتا۔ روزمرہ کی زندگی ہیجانی کیفیت کے باجود روزمرہ کی طرح رواں دواں رہی۔
”داتا دربار عورتوں کی دعاؤں سےگونج رہا ہے۔ آج کوئی عورت داتا سے بیٹا نہیں مانگ رہی، سب آج دوپٹے پھیلائے، رو رو کر قوم کے ان بیٹوں کی سلامتی اور فتح کی دعائیں مانگ رہی ہیں جو بی آر بی کےکنارے ان کی آبرو پر جان کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔“
مغرب پسند خیال اور مشرقی ماحول کی لڑکیاں ایک ہی محاذ پہ کفر کے مقابلے میں سینہ سپر ہوگئی ہیں۔ عورتیں گھروں سے نکل آئیں اور نرسنگ، فرسٹ ایڈ اور شہری دفاع کی تربیت گاہوں میں جمع ہوگئیں۔ گھروں میں وُہ غازیوں اور کشمیری مجاہدین کےلیئےسویٹریں بننے لگیں۔ چٹاگانگ میں ایک نوجوان لڑکی فوج کے بھرتی دفتر میں گئی اور درخواست دی کہ وُہ بھرتی ہونا چاہتی ہے اُسےبتایا گیا کہ فوج میں لڑکیوں کو نہیں رکھا جاتا تو اُسکے آنسو نکل آئے۔ ایک بھکارن نے دِن بھر کا مانگا ہوا آٹا اور پیسے قوم کے حوالے کر دیئے۔ کئی عورتوں نے زیورات اور بیٹیوں کےجہیز دفاعی فنڈ میں دے دیئے۔
دیہات میں لوگوں نے اناج کی بوریاں اور بعض دودھ والی گائے، بھینس دے دیں۔ قوم غازیوں کے لیئے خون کے تالاب اور روپے پیسے کے انبار جمع کر چکی تھی۔
پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں ریڈ کراس کےمراکز میں لوگوں نے خون کے علاوہ سگریٹوں، صابن، خوشبودار تیل، تولیوں، کتابوں، رسالوں اور اس نوع کی ضروریات کی چیزوں کےڈھیر لگا دیئے۔ ٹرانسسٹروں کےانبار الگ تھے۔ دفاعی فنڈ کےاعداد و شمار تیزی سے بڑھتے جا رہے تھے۔ اسی طرح بنکوں اور ریڈ کراس کے بلڈ بنک میں روپیہ، دیگر عطیات اور خون دینے والوں کا ہجوم اور زیادہ بڑھتا ہی گیا۔ بعض افراد کا کہنا تھا کہ ”دفاعی فنڈ اور خون کے ذخیروں میں حیران کن رفتار سےاضافہ ہو رہا ہے“ لیکن پاکستانی حیران نہ تھے کیونکہ زندہ قوموں کے ایثار کی رفتار یہی ہوا کرتی ہے۔
مال بردار پرائیویٹ ٹرکوں کی ایسوسی ایشن نے جنگ کے اگلے روز ہی سارے ملک میں سے چالیس ہزار ٹرک حکومت کے حوالے کر دئیے ان ٹرکوں کی ڈرایئور سینہ تان کر مورچوں تک جنگی سامان پہنچانے میں مصروف ہوگئے تھے۔ ٹرکوں کے علاوہ اس ایسوی ایشن نے مجاہد فنڈ کے لیئے چالیس ہزار روپیہ بھی دیا۔
مغربی اور مشرقی پاکستان میں فضائی حملوں کے بعد شہریوں میں جوش و خروش بڑھ گیا تھا۔ کسی چہرے پر خوف اور گھبراہٹ نہ ہوتی۔ پاکستانیوں کے چہروں کے تاثرات یکساں تھے، جیسے ہر چہرہ بزبان خاموشی سےکہہ رہا ہو پاکستان میرا ہے۔ پاکستان کا دفاع میری ذمہ داری ہے۔“
سکول اور کالج ٦ ستمبر کو ہی بند ہوگئےتھے۔لیکن بچےکھیل کود سے بےنیاز، اے۔آر۔پی کی وردیاں پہنےگلیوں، بازاروں اور میدانوں میں خندقیں کھودنے میں مصروف ہوگئے۔ یہ بچےایک دن میں جوان ہوگئے تھے۔ جن ننھے ننھے بچوں کو اور کچھ نہیں سوجھتا، وُہ ”ہندوستان مردہ باد“ اور ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگاتے پھرتے تھے۔ والدین شام کے بعد بچوں کو ڈھونڈتے پھرتےلیکن بچےگلی محلوں میں بلیک آؤٹ کرانے کے لیئے بھاگتے دوڑتے اور وسلیں بجاتے پھرتےتھے۔
بچوں کو طیاروں کی قسمیں، بموں کے وزن، راکٹوں کی مار، توپوں کی قسمیں اور گولوں کے وزن زبانی یاد ہوگئے۔ وُہ طیارے کی آواز سن کر بتا دیتے تھے کہ یہ طیارہ اپنا ہے یا دشمن کا۔راولپنڈی میں ایک لڑکے نےدوسرے کو چاقو مار کر لہولہان کر دیا کیونکہ اُس نےاُسے شاستری کہا تھا۔ چاقو مارنے والےلڑکےنے پولیس کو بیان دیا ہے کہ یہ مجھےہٹلر کہا کرتا تھا لیکن میں نےکبھی برا نہ منایا کیونکہ ہٹلر جنگجو تھا مگر ”شاستری“ جیسی گالی میں برداشت نہ کرسکا۔
گلیوں میں اور سڑکوں پر فلمی گیت الاپنے والے ٹیڈی قوم کی آبرو کے امین بن گئے۔ فلمی گیت مرگئے، دیس کی فضا میں مِلی ترانے اور رزمیہ گیت گونجنےلگے۔ کس قدر ولولہ ہے ان نغموں میں۔ ایک ایک لفظ اور ایک ایک انگ روح میں اتر رہا ہے۔ قوم کو ان نغموں کی کس قدر ضرورت تھی؛ تب پتہ چلا۔
لوگ سڑکوں پرمنتظر کھڑے رہتے۔ پاک فوج کا کوئی مجاہد یا کوئی گاڑی نظر آجاتی تو وُہ اُسےگھیر لیتےتھے۔ ہر کسی کی خواہش ہوتی تھی کہ وُہ اپنےغازیوں کو چائے یا شربت پلانےمیں پہل کرے۔ ہر کوئی انہیں سر آنکھوں پر بٹھانے کو بےتاب ہوتا تھا۔ لیکن جوانوں کو فرصت نہیں کہ دم بھر کر رُک جائیں۔ شہر کےلوگ چلتے ٹرکوں میں مشروب کی بوتلیں، فروٹ، کھانا اور پھول پھینک دیتے ہیں۔ لاہور سیکٹر میں جہاں تک شہریوں کو جانےکی اجازت تھی۔ وہاں انہوں نے فروٹ کے ٹوکروں، زردہ پلاؤ کی دیگوں اور کھانے کے انبار لگا دیئے ہیں۔ وُہ ہر روز ان انباروں میں اضافہ کر آتے۔ سیالکوٹ اور لاہور سیکٹروں میں جو بڑی توپیں پیچھے نصب ہوئیں اُن کےتوپچیوں کو دیہات کی عورتیں کھانا، پانی اور لسی پہنچاتی رہتی۔ توپچی انہیں روکتے۔ کیونکہ انہیں سرکاری طور پر کھانا پہنچتا رہتا تھا۔ اس کےعلاوہ وہاں خطرہ بھی ہوتا تھا لیکن لوگ انہیں ایک ہی جواب دیتے تھے۔”کیا تم کسی ماں کے بیٹے نہیں؟“ لوگ تو اپنی رگوں کا خون نچوڑ کر ان غازیوں کی رگوں میں ڈال دینےکو بےتاب ہوتے۔
ہسپتالوں میں محاذوں کے زخمی مجاہد، ڈاکٹروں اور نرسوں کے لیئے پریشان کن مسئلہ بن گئے ہیں۔ وُہ ہسپتالوں میں رُکنا نہیں چاہتے تھےمحاذ پہ پہنچنا چاہتے تھے۔
ایک روز لاہور والوں نےفضائی جھڑپ دیکھی ۔بھارتی فضائیہ کے چار نیٹ اور دو ہنٹر طیارے پاکستان پر کہیں بمباری کرنے آئےلیکن ہمارے دو ہوا بازوں نے انہیں لاہور کے اوپر ہی روک لیا۔ فضا میں چھ اور دو کا معرکہ ہوا اور زمین پر لاکھوں تماشائیوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ چھتوں اور سڑکوں پر میدانوں اور باغوں میں”پاک فضائیہ زندہ باد“۔ ”وُہ مارا، وُہ مارا“ کےنعرے لگا رہے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں بھارت کا ایک طیارہ جلتا ہوا شالامار سے پرے جا گرا۔ دشمن کا ایک اور طیارہ مجروح ہوا جسے بھارت کی طرف گرتے ہوئے دیکھا گیا۔
کھلے میدانوں میں لاہوریوں کا ہجوم در ہجوم جمع ہو جانا جنگی حماقت تو تھا کہ یہ ہجوم اپنے ہوا بازوں کے لیئےبھی رکاوٹ بنا رہا تھا۔ لیکن اہل شہر کا جذبہ بے پناہ تھا۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ وُہ کونوں کھدروں میں چھپ گئے تو اپنے ہوا باز فضا میں اکیلے رہ جائیں گے اور ان کی ”ہلا شیری“ کرنے والا کوئی نہ ہوگا لاہور والےتماشائی تو نہیں تھے۔ وُہ اس فضائی معرکے میں برابر کے شریک تھے۔
٨ ستمبر کے روز جب ریڈیو نےاعلان کر دیا تھا کہ بھارت پاکستان کے مختلف شہروں میں چھاتہ بردار جاسوس اُتار رہا ہے تو اُس رات پاکستان بھر میں کوئی بھی نہیں سویا۔ لوگ چاقو، چُھریاں، کلہاڑیاں شکاری بندوقیں اور ڈنڈے اُٹھائے رات بھر گلیوں، میدانوں، باغوں اور ریلوے لائنوں پر بھاگتے دوڑتے رہے۔ عورتیں اور بچے بھی ڈنڈوں اور چاقوؤں سے مسلح ہو کر صحنوں میں اور چھتوں پر گھومتے پھرتے رہے۔ تب قوم کو نیند نہیں آتی تھی اور دشمن کو شکست دینے تک قوم کو نیند نہیں آئی۔
نظم و نسق ایسا تھا کہ کوئی فرد بھی کھلےمیدان میں سگریٹ تک نہیں سلگاتا تھا۔ لوگ بلیک آؤٹ کا ”احترام“ دِل و جان سے کر رہے تھے۔ قوم احکام اور ہدایات کا انتظار نہیں کرتی تھی۔ تب بچہ بچہ جان گیا تھا کہ اُسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ کس قدر منظم ہے یہ قوم! بازاروں سےکوئی شے غائب نہیں ہوئی نہ مہنگی ہوئی۔
ملک بھر میں کسی کو خیال نہ تھ اکہ اتوار چھٹی کا دِن ہوتا ہے۔ دفتر بھی کھلے تھے اور بازار بھی قوم بے آرام تھی، بیقرار تھی، بپھری ہوئی تھی، محاذ پر لڑنا چاہتی تھی۔
جمعہ ١١ستمبر قائد اعظم کا یوم وفات تھا ، اُس روز مسجدوں اور گھروں میں قرآن خوانی ہوتی رہی اور ملک کی فضا مجاہدوں کی سلامتی اور فتح کی دعا سےگونج سے رہی تھی توپیں اور طیارےگرج گرج کر اپنے محبوب قائد کی روح کو سلامی دے رہے تھے۔ آج کیا ہم یوم وفات قائد پر قرآن خوانی اپنےگھروں میں کرتے ہیں؟
عرب اپنے مسلمان بھائیوں کے لیئے مرمٹنے کے لیئے بیتاب ہیں۔ خانہ کعبہ میں دعائیں مانگ رہے ہیں اور مالی امداد بھیج رہے ہیں۔
جنگ ختم ہوئی توتمام مساجد میں خدائے ذوالجلال کے حضور شکرانے ادا کیےگئے۔ قوم نے اپنے شہیدوں کی قبروں پر پھول چڑھائے۔ ہسپتالوں میں زخمی مجاہدوں کےگرد تحفوں کے انبار لگا رہے تھے۔ لوگ ایک دوسرے کو مبارک بادیں دے رہے تھے۔ اس لیئے نہیں کہ جنگ ختم ہوگئی تھی۔ بلکہ اس لیےکہ قوم خدا کے حضور سرخرو ہوگئی تھی ۔
رات کی تاریکی میں ، مکمل بلیک آؤٹ میں پاکستانی قوم نے وُہ رموز پالیے تھےجو انہیں اجالوں میں کبھی نظر نہ آئے تھے۔
یہ تمام ایسے واقعات ہے جنھوں نے اس قوم کی تاریخ کو انمول بنا ڈالا۔ ہر فرد نے اپنے حصہ کا وُہ کردار ادا کیا، جو وُہ کر سکتا تھا۔ آج ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ وُہ کیا عناصر تھے، کہ اس قوم پاکستان میں ایثار کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ یہ وُہ معاشرتی تاریخ ہے، جس نے پاکستان کو قومی تشخص عطاء کیا۔ قوموں کی عظمت ایثار سے قائم رہا کرتی ہے۔ ١٩٦٥ء میں ہر فرد کا کردار افسانوی کہانی نہ تھا، حقیقت تھا اِس عہد کا کہ اس وطن کی خاطر ہم جان کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ایسی ہی لازوال قربانیاں قوم پاکستان کو تا قیامت زندہ و جاوید رکھنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں گی۔ آج ایک بار پھر ایسا وقت آن پڑا ہے کہ ہمیں ایسے ہی اَن مٹ ،اَن گنت جذبوں کی ضرورت ہے۔ ہمارا وطن ایک بار پھر بیرونی سازشوں کا شکار ہے، اندرونی طور پر کمزور تر کیا جا رہا ہے اور اب تو اس ملک کا دفاع بھی خطروں کی زد میں محسوس کیا جانے لگا ہے۔ اَشرافیہ ہوش کے ناخن نہ جانے کب لیں گی؟ شائد یہ باتیں کھوکھلے نعروں تک محدود ہو چلی۔ ممکن ہے کوئی اس بناء پر خاموش ہو کہ اُس کے منظر سے ہٹنے کے بعد پچاسوں افراد اُس کی جگہ وفاداری ثابت کرنے کے لیے تیار موجود ہیں۔ اُسکے باغی ہونے سے حالات مزید نازک ہو جائیں گے۔ ہم مسلسل برسوں سے خطروں میں گھرتے چلے جا رہے ہیں، بلی کےشکار کی زد میں ہونے پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ خطرے کے وقت، شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دبائے ہوئے ہیں۔حالات کا سامنا نہیں کر رہے، حالات کو واقعات سے ٹال رہے ہیں۔ آخر کب تک؟ ایک دن سامنا کرنا ہے۔ عام فرد اپنے حصہ کا کردار ادا کرنے سے ڈرتا ہے۔ حقائق جان کر وُہ کئی سوالوں کی زد میں ہوتاہے۔ ذات کے سوالوں کےجواب میں؟ تحفظ کا خوف ہمارے سروں پر چڑھ دوڑا ہے۔
مجھے ایک فرد نے خصوصی ملاقات میں دفاع پاکستان پر لکھنے کے لیے کہا، بلکہ عملی طور پر١٩٦٥ء کی جنگ کا مواد مہیا بھی کیا، جو ١٩٦٦ء میں مضامین، یاداشتوں، ڈائری کی صورت میں چھپا۔ مگر میں راضی نہ تھا، کہ کیا لکھوں! لوگوں کے دِلوں پر باتیں اثر نہیں کرتیں۔ میں وُہ لکھنا چاہتا ہوں کہ دِل پر چوٹ پڑے۔ پڑھنے والے کے اندر وطن عزیز کی محبت جاگ پڑے۔ مگر لوگ آج صرف واہ، واہ تو کر سکتے ہیں مگر بات سمجھتے نہیں۔ اگر سمجھ لیں تو عذر ہزاروں پیش ہو جاتے ہیں۔ خیر میں نے ماضی کے وُہ حقائق پیش کیے جو شائد وقتی طور پر آپکےخیالات پر اثر تو کر جائیں گے، مگر عمل وہی رہےگا جو آپکا مزاج ہے۔ یہ سوچ کر میں نے یہ مضمون ترتیب دے ڈالا۔ آخری پیرا لکھنا ہنوز باقی تھا کہ کسی کا پیغام موصول ہوا۔ ہم اپنے لیئے ایس ایم ایس کا فیصلہ واپس لے سکتے ہیں، تو کیا اس ملک پر منڈلاتےخطرات کے فیصلے دُرست نہیں کروا سکتے۔ میں تب بھی یہ سطور لکھنے کو تیار نہ تھا۔ مگر میرے دِل کو چین نہ آیا، میرے ضمیر نےمجھےجھنجھوڑا۔ میں قومی مورال پر اتنی باتیں لکھتا ہوں ، اور اس ملک کے بقاء کے لیئے ڈر رہا ہوں، اسی اثناء میں مجھےخیال آیا ۔١٩٦٥ء والے جو جذبات عوامی سطح پر افراد میں تھے، وُہ کیوں تھے؟ اُنکے جذبوں میں ڈرنا اور سوچنا معنی نہیں رکھتا۔ اُنکو بس اللہ پر یقین ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان لیبارٹریز کے قریب ١٨ ایکڑ جگہ امریکی سفارت خانہ کی توسیع کے لیئےخریدی گئی ہے، جہاں ٧٠٠ میرین موجود ہیں، ١٠٠٠ میرین کی آمد ہیں۔٢٠٠ گھر اسلام آباد میں کرایہ پر حاصل کر کے جدید سیٹلائیٹ سے لیس کیےگئے ہیں۔” امریکی غنڈہ لشکر“ کالا پانی اپنی سیاہ حرکات کے لیئے چارسدہ کےقریب شب قدر میں زمین حاصل کر چکا ہے۔ افسوس! آج آگاہی کے باوجود بدقسمتی سے، ہمارا ایٹمی اثاثہ سازشی چنگلوں کا شکار ہو رہا ہے۔ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم سلطنت روم کے ماتحت اسرائیلی گورنر ہے، جو ابنیاء کو بھی قیصر روم کے حکم کے ماتحت رہتے ہوئے سولی پر چڑھا ڈالتے تھے۔ کبھی کبھی حالات کو دیکھتے ہوئے سوچتا ہوں، ہمارا حال بنی اسرائیل والا ہی ہے۔ ہم حقائق سے نابلد ہیں۔ مایوسیوں میں اس لیئےگھرتے جا رہے ہیں کہ عملی کوششیں ترک کر چکے۔ اے اللہ اس ملک کے ہر فرد میں موجود جذبہ حب الوطنی کو عملی دھارا بھی عطاء فرما، ہمیں مایوسیوں سے بچا اور وطن کو تحفظ فرمانے میں ہماری مدد فرما۔(آمین)
ایسے موضوعات پر میں لکھنےسے ہمیشہ اس قدر گریز کرتا ہوں کہ کسی کا اصرار بھی مجھ پر اثر نہیں کرتا۔ مگر آج میرے دِل پر چوٹ پڑی اور میں لکھنے پر مجبور ہوا۔ اُس پیغام میں یہ بات بڑی اہم تھی۔ ایس ایم ایس کا ٹیکس ختم ہو سکتا ہے تو کیا ایسے فیصلےدرست نہیں ہوسکتے۔ آج اس قوم کو قومی مورال کی ضرورت ہے۔’ہم زندہ قوم ہے‘، نعرہ لگاتے ہیں، اےاللہ ہمیں زندہ قوم بنا دے۔ ہمیں باضمیر اور غیرت مندی عطاء فرما دے۔
زمرہ : تاریخ, رسم و رواج, پاکستان | ابھی تک ایک تبصرہ ہوا ہے »