Pakistani



محفوظہ برائے 'اسلام' موضوع

Islam

جشن ولادت مبارک

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 27 Feb 2010

مجتبٰی صلی اللہ علیہ وسلم و مرتضٰی صلی اللہ علیہ وسلم
مرحبا
ذکر کن کا ہے، بات کن کی ہے
وہی جو عرش کے حجابات میں ہزاروں برس تک
ستارہ بن کے دمکتے رہے
اور اگر ١٢ ربیع الاول سے ١٢ ربیع الاول تک محیط
٦٣ برس اس کائنات میں نہ ہوتے تو
جہانِ آب و گل، بے وقعت، بے ذائقہ اور بے حسن ہوتا
بلکہ بے وجود ہوتا۔

سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد بہار ہے
حسن ہے، قرار ہے

زمرہ : اسلام | 3 تبصرے »

انتہائی اہم

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 25 Feb 2010

اے اللہ تو درود بھیج محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان کے آل پراور ان کے تمام ساتھیوں پر
اے اللہ مجھے میرے والدین کو تمام زندہ و مُردہ مومن و مسلم مرد و عورتوں کو بخش دے
یہاں تک کہ انہوں نے ہلاکت کے آثار پر بھی اُسے نہ چھوڑا
یہاں تک کہ انہوں نے کھنڈرات میں بھی اُسے نہ چھوڑا
انہیں قید کیا جانے لگا تو بھی اُسے نہ چھوڑا
اپاہچ (لنگڑے لولے) لوگوں نے بھی اسے نہ چھوڑا
قریب البلوغ لڑکوں نے بھی اُسے نہ چھوڑا
بچوں نے بھی اُسے نہ چھوڑا
آپ کیوں اُسے چھوڑ دیتے ہیں؟؟؟

کس لئے؟؟؟

کیا آپ نہیں جانتے کہ وہ نیک اعمال میں سب سے زیادہ پسندیدہ

سب سے بڑی فرمانبرداری

اللہ کے قریب کرنے والی چیزوں میں سب سے افضل ہے

اگر تم نے اس نماز کی حفاظت نہ کی

اور ویسے تم نے نماز نہ پڑھی جیسے تمہارے رب نے حکم دیا

تو ایک دن آنے والا ہے تیری نماز پڑھی جائے گی

اُس وقت تجھ میں یہ طاقت نہ ہوگی کہ فوت شدہ نماز یں پڑھ سکے

تو اِس گھر میں داخل ہوگا    اکیلا

اور تو نہیں پائے گا وہاں سوائے -  تیرے عمل کے

اگر تو پابندی کرنے والا ہے  ۔ اپنے نماز کی

تو تیرا رب تجھے عزت بخشے گا   ۔ تیری موت کے وقت

یہ آدمی مسجد نبوی میں سجدہ کی حالت میں وفات پاگیا
ایک حاجی مکہ میں اس وقت وفات پایا جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دعا کے لئے اٹھایا ہوا تھا
اگر تو – کاہلی کرنے والوں میں سے ہوگا

تو عنقریب مرے گا – گھاٹا پانے والوں کی طرح

اب تو خیال کر کہ آئندہ کبھی تیری نماز چھوٹنے نہ پائے

اللہ عزوجل فرماتا ہے: بے شک نماز مومنوں پر وقت مقررہ پر فرض ہے

اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں سے بنا جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں

اور ان لوگوں میں سے جو اپنی نمازوں پر ہمیشگی اختیار کرتے ہیں

اور  ان لوگوں میں سے جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں

امید کرتا ہوں کہ اپنی دعاؤں میں نہ بھولیں گے اللہ آپ کو بہتر بدلہ عنایت فرمائے
آمين

زمرہ : اسلام | ابھی تک ایک تبصرہ ہوا ہے »

شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 27 Dec 2009

امام حسن اور امام حسین دو بھائی تھے۔ حسن بڑے تھے اور حسین چھوٹے تھے۔ یہ دونوں شہزادے جب فرش زمین پر چلتے اور مدنیہ طیبہ کی گلیوں میں گھومتے تھے، جب مکہ معظمہ میں پھرتے تھے، کبھی احرام پہنے ہوئے، کبھی حلہ یمانی پہنے ہوئے تو ان کا ملاح دور سے دیکھ کر یہ کہتا تھا ‘‘معلوم ہوتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جا رہے ہیں۔
ان کا پورا وجود نورانی تھا اور کیوں نہ ہو کہ

تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا

یہ شہزادے جب مدنیے کی گلیوں سے گزرتے تھے تو درودیوار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو آتی تھی اور کتنی عجیب بات ہے کہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “کیا زمین پر جنت کے نوجوانوں کے سردار کو دیکھنا چاہتے ہو؟“ صحابہ نے عرض کی! “بیشک“ تو ارشاد فرمایا “ جس کو جنت کے نوجوانوں کے سردار کو دیکھنے کی تمنا ہو وہ حسن اور حسین کو دیکھ لے“ چنانچہ فرمایا “الحسن و الحسین سید شباب اھل الجنۃ“ (ترمذی شریف)
یہ دونوں جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ گلشن مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے مہکتے ہوئے پھول ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلشن کے اس مہکتے پھول (حسین) کو بڑی بے دردی سے امت کے ان منافقین، بدبخت اور بدنصیب لوگوں نے کربلا کے میدان مسل دیا۔
کربلا کا واقعہ کیا ہے؟
امام حسین مظلوم تھےاور یزید پلید تھا، بد نصیب اور بدبخت اور شقی القلب تھا، زمین پر چلتا پھرتا شیطان تھا، بدی کی قوتوں کی علامت تھا جو نیکی کی قوتوں سے ٹکرا رہا تھا۔ امام حسین نیکی کی قوتوں کی علمبردار تھے اور رحمانی قوتوں کی نمائندگی فرما رہے تھے۔ یہ رحمانی اور باطنی قوتوں کا مقابلہ تھا۔ حق و باطل کا معرکہ تھا۔ ظالم و مظلوم کا مقابلہ تھا اور اس مقابلہ میں دنیا نے دیکھا کہ مظلوم نے ظالم سے مقابلہ کیا، ظالم ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا اور مظلوم آج بھی مقبول ہے کہ زمین کے ذرے ذرے پہ اس کا ذکر ہو رہا ہے۔
امام عالی مقام، امام حسین رضی اللہ عنہ شہید کربلا، دافع کرب و بلا نیکی کی قوتوں کے ترجمان تھے اور شیطانی قوتوں کے مقابل صف آراء تھے۔ انہوں نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ یزید کی عظیم الشان سلطنت کے سامنے جھکے بھی نہیں اور بکے بھی نہیں۔
ہم لوگ گرمی سے تڑپتے ہیں، پیاس لگتی ہے تو فریج کا ٹھنڈا پانی پیتے ہیں اور ہم میں سے بہت سے لوگ اکثر قرآن مجید پڑھتے ہیں، تلاوت کرتے ہوئے، وظلائف پڑھتے ہوئے زبان خشک ہونے لگتی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ پانی پی لوں تو رک کر ٹھنڈا پانی پی لیتے ہیں اور پھر تلاوت شروع کرتے ہیں۔ لیکن یہ منظر کہیں نظر نہیں آتا کہ ایک شخص تلاوت قرآن کر رہا ہے تیروں کی بارش ہو رہی ہے خون بہہ رہا ہے۔ یہ منظر صرف کربلا والوں ںے دیکھا ہے۔ یہ نظارہ چشم فلک نے صرف کربلا میں دیکھا کہ ایک شخص زخموں سے چور ہے، خون بہہ رہا ہے، تیروں کی بوچھاڑ ہو رہی ہے اور آ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسا سجدہ بھی آپ نے کہیں نہ دیکھا ہو گا تیروں کی برسات ہو رہی ہے، خون بہہ رہا ہے لیکن امام عالی مقام کی جبین اپنے رب کے حضور جھکی ہوئی ہے۔ یہ وہ سجدہ تھا جس کی نظیر صرف نواسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نظر آتی ہے۔
آج ہم حج کرنے جاتے ہیں، آمدنی کیسی ہے، کہاں سے آئی، کس طرح آئی، سرکاری حج ہے یا غیر سرکاری حج، سود کے پیسے ہیں یا رشوت کے، نشے کی کمائی ہے یا اسمگلنگ کی؟ یہ علحیدہ بات ہے لیکن بڑے آرام سے ہوائی جہاز سے جاتے ہیں، ائرکنڈیشنڈ کاروں میں سفر ہوتا ہے، ہوٹل میں قیام ہوتا ہے یا اپنے کسی جاننے والے کے پاس یعنی کتنے آرام اور پرمسرت طریقے سے حج ہوتا ہے۔ لیکن چشم فلک نے ایسا نظارہ کبھی نہیں دیکھا ہو گا کہ وہ جو صبح شام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں کھیلتے تھے۔ جن کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے سجدے سے سر نہیں اٹھایا اور خلاف توقع سجدہ طویل ہو گیا۔ ناز و نعم میں پلے ہوئے حسین جب حج کرنے جاتے تو سواری ہوتی مگر استعمال نہیں فرماتے تھے۔ ایک دو نہیں، پوری زندگی میں امام حسین نے ٢٥ حج پیدل کئے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ “ نیرے اہل بیت سفینہ نوح کی طرح ہیں“ جس نے اہل بیت کے دامن کو تھام لیا اس نے دامن مصطٰفٰے کو تھام لیا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا حقدار ہو گیا۔ اس لئے کہ جنت کی کنجی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہے۔ کیونکہ میرے آقا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ “جنت کی چابیاں میرے دست اقدس میں ہیں“
جنت کی کنجیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست کرم میں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی کی نعمتوں کو لیتے ہیں اور اپنی امت میں تقسیم کرتے ہیں تو امت کو قیامت تک جو نعمت ملتی رہے گی وہ درِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے گی اور ظاہر ہے امام حسن و حسین خون رسول ہیں اس خون کی اللہ تعالٰی کے یہاں کیا قدروقیمت ہو گی اگر امت قدر نہ کرے تو یہ امت پر بات ہو گی۔

اتر جو امۃ قتلت حسینا
شفاعۃ جدہ یوم الحساب

یعنی امت کے وہ لوگ شفاعت کے حقدار کیونکر ہوں گے جنہوں نے امام حسین کو شہید کیا۔

زمرہ : اسلام | 2 تبصرے »