Pakistani



محفوظہ برائے 'قانون، آرڈیننس' موضوع

Law، Ordinance

آئینی پیکیج

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 02 Jun 2008

نئے آئینی پیکیج کے تحت تمام معزول ججوں اورچیف جسٹس صاحبان کو2نومبر والی پوزیشن پر بحال کر دیا جائے گا۔نئے آئینی پیکیج میں صدر مشرف کے3 نومبر2007کے اقدامات کوآئینی تحفظ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

پیپلزپارٹی کی جانب سے تیار کیا گیا 80نکاتی آئینی پیکیج منظرعام پرآگیا ہے جس میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت اعلیٰ عدلیہ کے تمام ججوں کو 2نومبرکی پوزیشن اور سینیارٹی پربحال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

آئینی پیکیج میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹسسز سمیت اعلیٰ عدلیہ کے تمام جج جنہیں3نومبر2007کو کام کرنے سے روک دیا گیاتھا،2نومبر2007کی پوزیشن اور سینیارٹی پر بحال ہوجائیں گے تاہم ریٹائرمنٹ کی عمر مکمل کرنے اور کسی سرکاری ادارے میں کام کرنے والے جج صاحبان اس میں شامل نہیں ہوں گے ۔

آئینی پیکیج کے دیگراہم نکات میں یہ تجاویز دی گئی ہیں ۔ایک بار چیف جسٹس رہنے والا دوبارہ یہ عہدہ حاصل نہیں کرسکے گا۔ججز کی مدت ملازمت کا فیصلہ صلاح مشورہ سے ہوگا،آئین توڑنے والوں پرغداری کے مقدمات چلائے جائیں گے۔اہم عہدوں پرتقرری کے اختیارت وزیراعظم کو دینے کی تجویز ہے جبکہ صدر وزیراعظم کے مشورے پر15دن میں عمل کا پابند ہوگا۔سپریم کورٹ میں چاروں صوبوں کو مساوی نمائندگی دینے اورمقامی حکومتوں سے انتظامیہ کے اختیارات واپس لیکرصوبوں کودینے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے ۔جبکہ قدرتی وسائل کی آمدنی کا50فی صد صوبوں کو دینے اور کنکرنٹ لسٹ ختم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے ۔پیکیج میں خواتین اوراقلیتوں کی نشستوں کو چھوڑ کر17ویں ترمیم ختم کرنے اورسینیٹ میں میں اقلیتوں کیلئے5نشستیں مخصوص کرنے کیلئے اوراین ایف سی میں وفاقی محاصل کی تقسیم آبادی اور وسائل کی بنیاد پر کرنے کا نکتہ بھی شامل ہے ۔وزیراعلیٰ کے مستعفی ہونے پرگورنر سینئر صوبائی وزیرکو حلف لینے کی دعوت دیگا وزیراعظم کے مستعفی ہونے پرسینئر وزیر وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالے گا۔کابینہ کے ارکان نئے وزیراعظم کے انتخاب تک فرائض ادا کرتے رہیں گے۔وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کی قرارداد میں نئے وزیراعظم کا نام بھی دینا ہوگا۔اعلان جنگ کا اختیار وزیراعظم کو دینے کی تجویز ہے۔چیف جسٹس کے از خود نوٹس لینے کے اختیارات پر بعض پابندیوں کی تجویزعدالت عظمیٰ کے از خود نوٹس کے اختیارات پانچ رکنی بینچ استعمال کرسکے گا۔سپریم کورٹ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر68سال مقررکرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

آئینی پیکیج کے تحت آئین کی کئی شقوں میں ترمیم اور صدر سے قومی اسمبلی توڑنے کا اختیار واپس لینے کی بھی تجویز ہے ۔ذرائع کے مطابق آئینی پیکیج میں صدر پرویز مشرف کے3 نومبر کے اقدامات کو قانونی تحفظ دینے اور12 جولائی سے15دسمبر2007 کے درمیان کیے گئے اقدامات کو آئینی تحفظ دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے تاہم اسے تحریری طورپر مسودے میں شامل نہیں کیا گیا۔ بحوالہ روزنامہ جنگ

زمرہ : قانون، آرڈیننس | ابھی تک ایک تبصرہ ہوا ہے »

سائبر کرائم آرڈیننس

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 11 Jan 2008

روزنامہ جنگ کی خبر کے مطابق سائبر کرائم آرڈیننس نافذکر دیا گیا ہے جو  دسمبر 2007ء سے نافذ العمل ہوگا۔ اس سلسلے میں نگران وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر عبداللہ ریاڑ نے کہا ہے کہ سائبر کرائم آرڈیننس نافذکر دیا گیا ہے جس کے تحت سنگین نوعیت کے جرائم کمپیوٹر سے ایٹمی اثاثہ جات کو ہیک کر کے نقصان پہنچانے، دہشت گردی اور فراڈ سمیت موبائل فون کے ذریعے کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے جرائم پر زیادہ سے زیادہ موت کی سزا دی جا سکے گی،انٹرنیٹ اور موبائل فون کے ذریعے دھمکی آمیز پیغامات بھی جرائم میں شامل ہوں گے۔ سائبر کرائم کی سماعت کیلئے 7 رکنی ٹربیونل اگلے ماہ قائم کر دیا جائے گا اورجن ممالک کے ساتھ معاہدہ موجود ہے، ان سے سائبر کرائم کے مرتکب مجرمان کا تبادلہ کیا جا سکے گا۔ جوہری اثاثہ جات، آبدوزوں، طیاروں کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کو ہیک کر کے نقصان پہنچانے سمیت سنگین نوعیت کی دہشت گردی پر موت کی سزا دی جا سکے گی جبکہ 18 نوعیت کے مقدمات کا احاطہ کیا گیا جن پر ٹربیونل سزائیں دے سکے گا۔ ان جرائم کی تشریح بہت وسیع ہے جس میں سائبر سے متعلق تمام نوعیت کے جرائم کا احاطہ ہو جاتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جن جرائم کی ٹربیونل سماعت کریگا، ان میں کمپیوٹر کے ذریعے کسی دوسرے کے کمپیوٹر تک رسائی، ڈیٹا تک رسائی، ڈیٹا کو نقصان پہنچانا، سسٹم کو نقصان پہنچانا، آن لائن فراڈ کرنا جن میں جعلی اے ٹی ایم کارڈز کے ذریعے رقوم نکلوانا اور دوسروں کے کارڈز کے کوڈ استعمال کرنا، الیکٹرونک سسٹم یا آلات کا غلط استعمال، کمپیوٹر اور دیگر آن لائن آلات کے کوڈ تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنے، اینکرپشن کا غلط استعمال، کسی کا کوڈ بدنیتی کی بنا پر استعمال کرنا، سائبرا سٹاکنگ، اسپامنگ، اسپوفنگ، بلااجازت مداخلت کرنا، سائبر دہشت گردی میں شامل ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ ریاڑ نے کہا کہ دنیا بھر کے 41 ممالک میں سائبر کرائمز قوانین نافذ ہیں پاکستان 42 واں ملک بن گیا ہے جبکہ اس قانون پر عملدرآمد کیلئے 60 سے زیادہ ممالک سے تعاون حا صل کیا جاسکے گا۔ ایف آئی اے کا سائبر کرائمز ونگ اس قانون کے تحت مقدمات کا اندراج تحقیقات اور پیروی کی ذمہ داری نبھائے گا۔ سینئر مشیر شریف الدین پیرزادہ کی سربراہی میں کمیٹی نے سفارشات پیش کی ہیں ان کی روشنی میں سات رکنی انفارمیشن کمیونیکشن ٹربیونل قائم ہوگا جس میں سیشن جج کی سطح کے ارکان ہونگے۔ ٹربیونل کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جاسکے گی جبکہ سپریم کورٹ میں ایسے مقدمات کی سماعت کا نظام وضع کیا جائیگا جو ایک ماہ کے اندر قائم کر دیا جائیگا۔ صدر پرویز مشرف کے حکم پر سائبر کرائمز آرڈیننس 31 دسمبر 2007ء سے نافذ العمل ہوگا۔ وفاقی وزیر عبداللہ ریاڑ نے بتایا کہ جرائم میں کمپیوٹرز کے ذریعے معلومات ڈیٹا چوری کرنا ویب سائٹس کو نقصان پہنچانا اور خفیہ دستاویزات تک رسائی جیسے جرائم شامل ہیں۔

زمرہ : قانون، آرڈیننس, ٹیکنالوجی, پاکستان | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »

قائدِ قانون

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 09 Nov 2007

قائد قانون ہی قومِ عقیق کی عمق ہے۔ قانون حکمران ہو تو قوم کی شان ہوتی ہے، جب انسان ایمان کے ساتھ امان بھی رکھے تو یہ ازاں سے اذعان کا ہی اعلان ہے۔ جسکو اِذن ہوتا ہے وُہ ہر حال قانون شکنی سے اعراض کرتا ہے۔ اعتزال میں بھی اعتصام ِ علم”بالادستیءِ قانون“ تھامے رکھتا ہے۔ اسی کو اعتزاز کا اعزاز کہتے ہیں، جو معاشرے کو معاشروں میں معزز بناتا ہے۔ اسی افتخار کے اقبال کو تاریخ ضیافشاں کی ضوفشاں ٹھہراتی ہے۔
قانون ا قدار، اُصول، قاعدہ، ضابطہ اور پابندی ہیں۔ قانون کچھ بھی ہوسکتا ہے، جس میں کچھ حدود مقرر ہو اور انسانیت کی فلاح واضح ہو۔ ہر گھر کا ایک اُصول، رشتہ کی قدر، کھانے کے آداب، بات کرنے کا انداز، لباس پہننے کا سلیقہ، گفتگو کے قواعد، محافل میں شرکت کرنے کے کچھ ضوابط اور مذہبی احکامات کی کچھ پابندیاں لازم ہوتی ہیں۔ یہ وُہ تمام معاملات ہے جو ایک انفرادی انسان کی ذات کا جز ہونا ضروری ہے۔ تبھی وُہ ایک مہذب انسان کہلاتا ہے۔ لائیبریری میں بیٹھنے،  بازار میں خرید و فروخت، سڑک پر چلنا  کے کچھ قاعدے بھی طےشُد ہیں اور قانون بھی مقرر ہیں، جن میں ٹکراؤ بھی نہیں۔ اِسی طرح جب ہم ایک فرد سےگروہ، تنظیم اور قوم کی حد تک چلتے ہیں تو انسان کی مضبوطی سے لے کر معاشرہ کے استحکام اور پھر مملکت کی طاقت اور امّہ کا اتحاد صرف اور صرف اپنے اپنےدائرہ  کے حدود کی مکمل پاسداری میں ہے۔ ہر درجہ کے کچھ اُصول اور قانون ہوتے ہیں۔ قانون احترام  سے ہوتا ہے، احترام قانون  سے نہیں۔
قانون ہمیں حدود سے تجاوز کرنے سے روکتا ہے۔ قانون کی پابندی ہی قانون کی بالادستی  ہے جو پابند نہیں وُہ عہد شکن  ہے جو باغی کہلاتا ہے اور باغی شیطان بھی ہوتا ہے۔ جب کبھی قانون کو توڑا جاتا ہے۔ ادارے، ملک اور قوم کمزور ہو کر انتشار کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کسی قوم کی ترقی کا راز قانون کی حکمرانی اور بالادستی میں مضمر ہے۔ مگر آج یہ بات ہمیں شائد سمجھ نہ آئے کیونکہ ہمیں کسی کی عزت اور قدر کا احساس نہیں۔ قانون کی حکمرانی انسان کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ قانون توڑنے والا قانون نافذ نہیں کرسکتا؛ وُہ صرف قانون شکنی کرنا جانتا ہے۔ کیونکہ اُس کا مزاج ہی شکن افروز ہوتا ہے۔ عہد شکن، مزاج شکن، قانون شکن،  روایت شکن، مذہب شکن مگر وُہ بت شکن نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ بت کدوں سے ہی شکن مزاجیاں بنتی ہیں؛ جو اُسکی شہ سُرخیاں رہتی ہے۔
اسلام نےقانون کی بالادستی کی بنیاد لاالہ الااللہ محمد الرسول اللہ سےسمجھا دی۔ لفظ ’پاکستان‘  کلمہ طیبہ ہی سے ہیں تو پاکستان کا قانون بھی یہی ہوا۔ ذرا سوچیئے! یہ ہمارا اللہ سے وعدہ ہے؟ دین اسلام کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپکو اللہ کی رضا کے تابع کرلینا۔ کیا آج ہم سب اپنے آپکو اللہ کی رضا کے تابع کر چکے ہیں؟ تو پھر قانون کی بالادستی بہت دور ہے۔ کیونکہ قانون کی بالادستی والدین کا احترام اور خدمت کرنے سے شروع ہوتی ہے، اپنےقول کو ہر حال نبھانا، وعدہ کی پاسداری کرنا بھی ہے۔
آج ہمارا قانون اپنی ذات کے لئے نہیں ہوتا دوسروں کی ذات کے لئے ہوتا ہے۔ قانون سزا دینے کے لئے بناتے ہیں معاشرہ کی اصلا ح کے لئے نہیں بناتے بلکہ اصطلاح اپنی جزاء کے لئے کرتے ہیں۔ جبکہ یہ قانون شکنی ہوتی ہے۔ عادل کا انصاف دیانتداری سے ترازو کےدونوں پلڑوؤں کو مساوی کر کے ہم وزن کر دینا ہی قانون کی بالادستی ہے۔ کیا آج ہماری خواہشات قانون کے آگے سرخم کرتی ہیں اگر کر دیں تو قانون کی حکمرانی معاشرہ میں ہوگی۔ جس سے ہمارےگھر، شہر، ملک اور دُنیا بلکہ ہر معاملہ شعبہءزندگی میں امن قائم ہو جائےگا۔ قانون کا احترام well mannered لوگ کیا کرتے ہیں، وُہ افراد اعلٰی ظرف، تہذیب یافتہ عالی خاندانوں کے چشموں چراغ اور مہذب قوم کے نمائندے کہلاتے ہیں۔ جو قانون کا احترام نہ کرسکیں وُہ well mannered  نہیں ہوسکتا۔ جو well-mannered نہیں وُہ نہ تو respected ہو سکتا ہے اور نہ ہی Honoarable ۔
آج ہم قاعدہ کیوں نہیں بناتے کہ ایک کہانی ہے کہ ’چور اپنے اصول کی وجہ سے پکڑا گیا ورنہ چوری تو وُہ کر بیٹھا تھا۔ اصول نے مروا دیا۔ وُہ بے وقوف تھا۔‘حقیقتاً وُہ معاشرہ اور چور نادان نہ تھے نہایت ہی عاقل تھے۔ چوروں کے کچھ لوٹنے کے اُصول بھی ہوتے تھے۔ آج اصول نہیں تبھی اخبارات ڈاکو کے ڈاکے کے ساتھ قتل، ظلم اور زیادتی کی خبر ہیں۔ جہاں قانون کی حکمرانی ہو وہاں چور چوری مجبوری سےکرتا ہے، اور اپنی ضرورت سے بڑھ کر زیادتی نہیں کرتا۔ صرف اپنی ضرورت پوری کرتا ہے، ہوس (دولت، مرتبہ، نگاہ) کی تسکین نہیں کرتا۔
اگر کسی قوم کو کامیاب بننا ہے تو ہرفرد کو اپنے اندر دوسروں کی عزت کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اُصولوں پر ڈٹ جانا؛ چاہے موت واقع ہو جائے مگر ضمیر کا سودا نہ کرے۔ اس کا عملی نمونہ قائد اعظم رول ماڈل کے طور پر ایک مشعلچی کی صورت میں مشعل راہ ہے۔ جب ہم اپنے دل اور مزاج پر اللہ  کی حاکمیت کو تسلیم کریں گے تو قانون کی حکمرانی آہستہ آہستہ ہماری ذات، گھر، خاندان، شہر، معاشرے اور ملک میں نافذ ہو جائےگی۔ ہمیں خود مشعلچی نہیں بننا بلکہ اُس مشعل راہ کو اپنانا ہے جو قائداعظم نےعطاء کی۔
بالادستیءِ قانون انسان کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ہر طرح کا تحفظ جو آپ سوچ سکتے ہیں۔ صحتمند قوم صحتمند سوچ سے ہی ہوتی  ہے اور صحتمند سوچ قانون کی حکمرانی سے ہوتی ہے۔
اے اللہ ہر مسلمان کو اپنے والدین کا احترام کرنے کی توفیق عطاء فرما یہی احترام قانون کی اساس ہے اور ملک پاکستان پر اخلاق کی قدر سے قانون کی بالادستی عطاء فرما دے۔ اسی اغلاق کا اطلاق ہونا باقی ہے۔ یہی اعماق ہیں جنکو عملی طور پر اختیار کر کےسمجھنا اَشد ضروری ہے۔ (فرخ)
عقیق (قیمتی) ، عمق (گہرائی) ، ازاں (آغاز)، اذعان (فرمانبرداری سےاطاعت)، اِذن (اختیار سونپنا)، اعراض (بچنا)، اعتزال (دستبرداری)، اعتصام ِ علم (مضبوطی سےجھنڈا تھامےرکھنا)، اعتزاز (وُہ خوبی جسکا اثر بھی ہو) ، ضیافشاں (روشنی پھیلانا) ، ضوفشاں (روشنی پھیلنا)

زمرہ : قانون، آرڈیننس | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »