مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 26 Nov 2007
ایوب خان کے زمانے میں حبیب جالب نے اپنی ایک سیاسی پارٹی بنائی۔ اس کا نام یاد نہیں رہا۔ جب ان سے ممبر سازی پر سوال کیا جاتا یا دفتر کا پتہ پوچھا جاتا تو اس کا جواب وہ یہ دیتے …نہ دفتر نہ بندہ، نہ پرچی نہ چندہ ۔ اسی دور میں الیکشن آیا تو حبیب جالب صوبائی اسمبلی کے امیدوار بن گئے۔ سب جانتے تھے کہ ووٹ کیسے لیے جاتے ہیں؟ ووٹروں کے بغیر امیدوار بننے کا سبب پوچھا گیا تو جالب کا جواب تھا ”مجھے معلوم ہے کہ ووٹ نہیں ملیں گے لیکن ووٹروں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کا موقع تو مل جائے گا“۔ جالب نے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی مہم چلائی تو علاقے کے ایک بدمعاش نے ان کے خلاف ارادئہ قتل کا پرچہ درج کرا دیا۔ یار لوگ بہت خوش تھے کہ حبیب جالب نے بھی کسی پر قاتلانہ حملہ کیا۔ جلد ہی یہ خوشی مایوسی میں بدل گئی۔ جب پتہ چلا کہ بدمعاش نے خود ہی اپنے آپ کو چاقو سے زخم لگایا اور قاتلانہ حملے کا الزام حبیب جالب پر لگا دیا۔ جالب الیکشن میں تو کامیاب کیا ہوتے؟ اپنے خلاف قتل کا پرچہ کرانے میں کامیاب ہو گئے۔
نذیر ناجی کے کالم سوری! جج صاحب سے
اب تو خیر اچھے خاصے ”مرد“ بھی حکمرانوں کے اشارہ اَبرو پر رقص کرتے نہیں شرماتے اور کئی تو ایسے ہیں کہ کئی حکومتیں گزر گئیں ان کا پیشہ نہیں بدلا لیکن ایک وقت تھا کہ عورتیں اور وہ بھی ڈانسر‘ جنہیں ہمارے ہاں بڑی تحقیر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے‘ اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود حکمرانوں کی محفلوں میں ناچنے سے انکار کردیتی تھیں۔ ایوب خان کا اقتدار عروج پر تھا‘ شاید شاہ ایران کو خوش کرنے کیلئے محفل سجائی گئی۔ اس وقت کی نامور ایکٹریس اور ڈانسر نیلو کو بلایا گیا اس نے انکار کردیا جس پر اسے گرفتار کرلیا گیا حبیب جالب نے لکھا
تو کہ ناواقفِ آدابِ غلامی ہے ابھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
چار مصرعے تھے جو بعد میں فلم ”زرقا“ کا ٹائٹل سانگ بنے‘ گانا مہدی حسن نے گایا۔ فلم نے بزنس کے ریکارڈ توڑ دیئے۔ ریاض شاہد جن کی نیلو سے شادی ہوچکی تھی فلم کے ہدایتکار تھے۔ اس شادی کا ایک نشان آج کا ہیرو شان ہے جو ایک تقریب میں جنرل پرویزمشرف کے سامنے اس طرح رقص کررہا تھا کہ اس کی والدہ بھی کیا کرتی ہوں گی….؟
ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ایک ایسی ہی محفل لاڑکانہ میں سجائی۔ اس وقت کی خوبرو ترین اداکارہ ممتاز کی طلبی ہوئی‘ انکار پر تھانے لے جانے کی دھمکی دی گئی‘ جالب نے جو بھٹو کا معروف عاشق تھا لکھا
قصر شاہی سے یہ حکم صادر ہوا
لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو
اطہر مسعود کے کالم صحافی یا بھانڈ سے
زمرہ : اقتباسات | 2 تبصرے »
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 23 Nov 2007
ایک کُل پاکستان مشاعرے میں ایک فوجی جرنیل صدر بنا دیئے گئے۔ اُن کے رعب اور طنطنے کا کچھ ایسا عالم تھا کہ دس پندرہ منٹ تک سامعین کو کھل کر داد دینے کی ہمت نہ پڑی۔ اتفاق سے ایک شاعر نے بہت ہی اچھا شعر سنایا ۔۔۔۔ سامعین کے درمیان میں سے ایک نوجوان تڑپ کر اٹھا اور بولا
مکرر۔۔۔۔۔۔۔ارشاد فرمائیے
اس کی دیکھا دیکھی کچھ اور لوگوں نے بھی مکرر مکرر کے نعرے بلند کئے۔ صاحبِ صدر نے اسٹیج سیکرٹری سے پوچھا کہ
یہ لوگ کیا چاہا رہے ہیں؟
اسٹیج سیکرٹری نے ادب سے کہا
جناب!! یہ شاعر سے کہہ رہے ہیں کہ دوبارہ یہی شعر سناؤ
اس پر جرنیل صاحب نے اپنے سامنے رکھا مایئک اٹھایا اور یوں گویا ہوئے۔
کوئی مکرر وکرر نہیں ہوگا ۔۔ شاعر صاحب آپ کے والد کے نوکر نہیں ہیں، جس نے سننا ہے تو پہلی بار دھیان سے سنو۔
چشم تماشا، امجد اسلام امجد
زمرہ : اقتباسات | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 20 May 2006
سرائیکی وسیب میں موجود ہندوؤں کو ‘کراڑ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ عموما نجی ساہو کاری سے وابستہ رہے ہیں اور اس حوالے سے کئی لوک کہانیاں وجود میں آئی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ ہندوؤں نے پنچائت بلائی اور آپس میں مشورہ کیا کہ مسلمان مسجدیں بنا رہے ہیں اس لئے ہمیں بھی پوجا کے لئے ایک مندر تعمیر کرنا چاہیے۔ پس انہوں نے مندر بنایا اور اکھٹے ہو کر پوجا کرنے اور بھجن گانے لگے؛
“دیوا تارن آیا، سنو میڈے سادھو!
دیوا تارن آیا او بھائی راما!
دیوا تارن آئے“
( مولا ہمیں ترقی اور خوشحالی دینے آیا ہے بھائیو! سن لو ہمیں ترقی دینے آیا ہے۔ بھائی رام! مولا ہمیں ترقی دینے آیا ہے)
ایک دن مندر میں وہ یہی بھجن گا رہے تھے کہ انہیں خبر ہوئی کہ دور دراز سے کوئی بڑا بیوپاری آیا ہے۔ وہ اپنی پوجا چھوڑ کر فورا باہر آئے اور بیوپاری سے دھڑادھڑ بھاری بھر قیمت والی اشیاء خریدنے لگے۔ جب انہوں نے خریداری مکمل کر لی تو اچانک انہیں اطلاع ملی کہ ان کی خرید کردہ اشیاء کی قیمت گر گئی ہے۔ اس پر سب لوگ اپنا سر پیٹ کر رہے گئے۔ دوبارہ مندر میں گئے اور اپنے گلے میں اجتجاجا پٹہ ڈال کر دیوتا کے آگے یہ بھجن گانے لگے؛
“دیوا گالن آئے، او بھائی سادھو!
دیوا گالن آئے“
( مولا ہمیں برباد کرنے آیا ہے، بھائیو! مولا ہمیں برباد کرنے آیا ہے)
اس بیوپار سے نقصان اٹھانے کے فورا بعد انہیں کسانوں کا لین دین یاد آ گیا۔ اپنا نقصان پورا کرنے کے لئے انہوں نے ایک کسان کو پکڑ لیا اور اسے کہنے لگے؛
“ سن بیلی! ٹکا تیل والا تے ٹکے دا تیل، آناں دال والا تے آنے دی دال“
( سنو بھائی! ایک ٹکا تیل والا اور ایک ٹکے کا تیل، ایک ٹکا دال کا اور ایک ٹکے کی دال)
اس طرح انہوں نے حساب دوگنا کر دیا اور دیگر اشیاء جو کسان نے ان سے خریدی تھیں کی قیمت بتانے لگے کہ دو آنے کا صابن اور دو آنے صابن کے، ٹکے کا مشک اور ٹکا مشک والا، ایک پیسے کی ملتانی مٹی اور ایک پیسہ ملتانی مٹی والا، بارہ آنے کا دوپٹہ اور بارہ آنے دوپٹے کے، آٹھ آنے کی قمیص اور آٹھ آنے قمیص کے، ڈیڑھ روپے کی پگڑی اور ڈیڑھ روپے پگڑی والے، روپے کا کرتا اور روپیہ کرتے کا وغیرہ وغیرہ۔
اس طرح وہ اس کسان کو سارا ادھار بتلا کر کہنے لگے کہ تمھارے ذمے ٢٩ روپے رقم اور ساڑھے تین من غلہ ہے، سو اب سود سمیت تم ٧٠ روپے رقم اور پانچ من غلہ دو گے۔ اس کے بعد انہوں نے کسان اس ادھار کا اسٹامپ بھی لکھوا لیا۔ جب فصل اٹھانے کا وقت آیا تو کسان کی ساری فصل وہ اپنے گدھوں پر لاد کر گھر لے گئے اور جاتے ہوئے اس کہہ گئے ؛
“ آویں تے حساب سمجھ ونجیں“
( گھر آ جانا اور حساب سمجھ لینا)
جب کسان ادھار سے متعلق ان کو دی ہوئی اپنی فصل کی پیداوار کا حساب سمجھنے کے لئے ان کے گھر گیا تو انہوں نے گزشتہ اور موجودہ دو فصلوں کا حساب ملا کر ٥٠ روپے رقم اور بارہ من غلہ مزید کسان کے کھاتے میں لکھ کر اسے خالی ہاتھ واپس بھیج دیا۔
ایف ڈبلیو سکیمپ کی لاطینی رسم الخط میں لکھی گئی سرائیکی کتاب ‘ ملتانی سٹوریز‘ سے انتخاب
زمرہ : اقتباسات, سرائیکی وسیب | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »