Pakistani



محفوظہ برائے 'سرائیکی وسیب' موضوع

Siraiki Wasaib

شادی کی خوبصورت رسمیں ۔ حصہ دوم

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 12 نومبر 2007

حصہ اول پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجیئے۔
شادی کی رسم میں برات (بارات) سب سے اہم اور دلچسپ مرحلہ ہے۔ پہلے وقتوں میں برات سجے سجائے اونٹوں پر جاتی تھی، اونٹوں پر کچاوے رکھ کر اس پہ بیٹھا جاتا تھا اور اونٹوں کی ایک لمبی قطار ہوتی تھی۔ سب سے آگے والے اونٹ کو مرھی کہا جاتا تھا، جس پر دلہن کو بیٹھا کر لایا جاتا تھا، دوسرے تمام باراتی پیدل چلتے تھے صرف خواتین کو اونٹوں پر سواری کرتی تھی۔ دلہا بھی اپنی دلہن کے کچاوے کو سہارا دیئے سارا راستہ پیدل چلتا رہتا تھا۔ اصل بارات یعنی جنج یہی تھی لیکن اب اونٹوں کا دور ختم ہو گیا ہے۔ اس لئے اب باراتیں پیدل، بیل گاڑیوں، ٹریکٹر ٹرالیوں، بسوں اور کاروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ لیکن برات کا اصل حسن پیدل جانے اور آنے والی برات میں ہے۔ سب سے آگے ڈھول نقارے اور بین والے ہوتے ہیں، دلہا اور سربالا اس کے بعد باراتی ہوتے ہیں۔ دوست اور رشتے دار نوجوان سارا راستہ بھنگڑے ڈالتے جاتے ہیں، جہاں جہاں سے برات گزرتی ہے لوگ گھروں سے باہر آ کر اسے دیکھتے ہیں، بچے اور خواتین تو بڑے شوق سے برات دیکھتے ہیں۔ جونہی یہ برات لڑکی والوں کے گھر کے قریب پہنچتی ہے جوش اور جذبے میں مزید تیزی آ جاتی ہے۔ دلہن کے گھر سے ذرا فاصلے پر برات کچھ دیر کے لئے رک جاتی ہے اور لڑکی کے گھر میں موجود خواتین اور بچے دروازے اور دیواروں کے اوپر سے اس کا نظارہ کرتی ہیں۔ ویلیں دینے، بھنگڑا ڈالنے کے بعد اس برات کا لڑکی والے استقبال کرتے ہیں۔ خواتین گھر اور مرد باہر لگے ٹینٹوں، شامیانوں یا درختوں کے نیچے رکھی چارپائیوں، کرسیوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ لڑکی کی ماں اور دیگر خواتین لڑکے کی طرف سے آنے والی خواتین کو دروازے پر روک لیتی ہیں اور اندر سے دروازہ بند کر دیتی ہیں۔ دلہے کی ماں جب تک اندر پھیلائے ہوئے کپڑے جسے جھل کہتے ہیں میں رقم نہ ڈالے دروازہ نہیں کھولا جاتا۔ بعض دفعہ ہلکی پھلکی مذاق بھی کی جاتی ہے اور اندر داخل ہونے والی خواتین کو درختوں کی ٹہنیاں بھی ماری جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ لڑکے والے خوشی سے برداشت کرتے ہیں۔ دلہا کا برادری کی موجودگی میں نکاح پڑھایا جاتا ہے۔ دلہے کے والد کو سب لوگ مبارک باد دیتے ہیں اور پھر دلہا وہاں موجود سب افراد کے پاس سلام کرتا ہے اور لوگ اسے سلامی میں رقم پیش کرتے ہیں۔ پھر نائی سب لوگوں سے ایک مخصوص رقم جو سو سے لیکر ہزار تک کی ہو سکتی ہے بطور نیندر وصول کرتا ہے اور بلند آواز میں کہتا ہے فلاں شخص نے جس کی قوم فلاں اور فلاں جگہ کا رہنے والا ہے نے اتنے سو نیندر اور اتنے روپے ویل دی ہے۔ ایک آدمی رقم وصول کرتا جاتا ہے اور کاپی میں درج کرتا جاتا ہے۔ دلہا کو اس کے بعد دلہن کے گھر لے جایا جاتا ہے۔ (یہاں سے دلہے کو لوٹنے کا عمل شروع ہوتا ہے) جہاں پر دلہن تیار ہو کر گھونگھٹ میں بیٹھی ہوتی ہے، اندر داخل ہوتے ہی دلہے کی سالی اسے دودھ کا گلاس پیش کرتی ہے اور دودھ پلائی وصول کرتی ہے۔ دلہے کی بہن عموماََ چھوٹی بہن دلہے کی لنگی یا قمیض کا ایک کونہ مضبوطی سے باندھ دیتی ہے، اسے پلو بندھائی کہتے ہیں۔اور یہ خواہش ہر بہن کو ہوتی ہے، پلوبندھائی کے غوض چھوٹی بہن منہ مانگی رقم وصول کرتی ہے۔ جہاں دلہن بیٹھی ہوتی ہے اس کے کچھ فاصلے پہ ایک مضبوط پیندے والا مٹی کا برتن رکھا جاتا ہے، دلہے کو ایڑی کے زور پر اسے پہلی ٹھوکر میں توڑنا ہوتا ہے اگر دلہا اس میں ناکام رہے تو ساری لڑکیاں اس پہ زور زور سے ہنستی ہیں اور دلہے کو شرمساری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد دلہے کو جوتا اتار کر دلہن کے پاس بیٹھنے کو کہا جاتا ہے وہ جونہی جوتا اتارتا ہے، تاک میں بیٹھی ہوئی سالی جوتا چھپا دیتی ہے۔ ننگے پاؤں چلنے کے خوف سے دلہا کچھ دیکر ہی اپنی جان چھڑواتا ہے۔ اس کے بعد رخصتی کا وقت آ جاتا ہے۔ ماں باپ دل پر ہاتھ رکھ کر آنسوؤں اور نیک دعاؤں کے ساتھ لاڈوں سے پلی بیٹی کو رخصت کر دیتے ہیں۔ دلہا والے دلہن کو لیکر ہنسی خوشی ناچتے گاتے ہوئے اپنے گھر کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔
گھر پہنچنے سے قبل کسی دربار پر پہنچ کر دعا بھی کی جاتی ہے۔ سسرال میں دلہن اپنے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے دروازہ پکڑ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ اسے موہاڑی پکڑنا کہتے ہیں۔ اس موقع پر دلہن کا سسر یا خاوند دلہن کو کہتا ہے فلاں گائے یا بھینس تمھاری ہے، نقد رقم دینے کا بھی رواج ہے۔ پھر دلہن کمرے کے اندر داخل ہوتی ہے۔ گھونگھٹ اٹھانے سے قبل دلہن دلہے سے گھنڈ کھلائی لیتی ہے۔
شادی کے ساتوین دن  دلہن کی ماں اپنے رشتے داروں کے ہمراہ اپنی بیٹی کے گھر آتی ہے اور اپنی بیٹی اور داماد کو اپنے ساتھ لے آتی ہے اسے ست واڑہ کہتے ہیں۔ دوسرے دن دلہن اور دلہا واپس اپنے گھر چلے جاتے ہیں۔ اس طرح آنے جانے اور میل ملاپ   کا سلسلہ پوری زندگی چلتا رہتا ہے۔
 — ختم شد —

زمرہ : رسم و رواج, سرائیکی وسیب | 3 تبصرے »

شادی کی خوبصورت رسمیں

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 07 نومبر 2007

جنرل مشرف کی طرف سے ملک میں لگائی گئی ایمرجنسی کی وجہ سے کنواروں کے مزے ہو گئے ہیں۔ ہر طرف سے بینڈ، باجوں اور شہنائیوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔ ماحول اور موسم کے مطابق آجکل شادیوں کی رسمیں زوروں پر ہیں۔ یہاں ڈیرہ غازی خان میں ہر جمعرات، جمعہ اور ہفتے کی راتوں میں آدھے شہر کی سڑکیں ٹینٹوں اور قناعتوں کی وجہ سے بند ہوتی ہیں۔ خود مجھے ایک ماہ سے مسلسل ہر ہفتے دو تین شادیوں میں شرکت کرنی پر رہی ہے، اس وجہ سے میں نے سوچا کہ کیوں نہ آپ کو سرائیکی خطے میں شادی کی خوبصورت رسمیں متعارف کرائی جائیں۔
شادی ایک خوبصورت بندھن اور مقدس فریضہ ہے۔ سرائیکی خطے کے لوگ عرصہ دراز سے اس کی ادائیگی اپنے روایتی طریقے سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔ سائنس اور کمپیوٹر کے اس تیز رفتار دور میں جہاں خود انسان متاثر ہوا ہے وہاں ان  رسموں میں بھی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں مگر ان رسموں کی بنیاد وہی زمانہ قدیم والی ہی ہیں۔
جس گھر میں لڑکی پیدا ہوتی ہے ماں، باپ اسی دن سے اس کی رخصتی کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ بیٹیاں پرایا دھن ہوتی ہیں۔ ماں ہر وقت بیٹی کے اچھے نصیب کی دعائیں کرتی رہتی ہے۔ سرائیکی خطہ پسماندگی اور غربت کا شکار ہے اس لئے دیہی خواتین اپنی جمع پونجی اور مال مویشی پال کر آہستہ آہستہ ‘ڈاج‘ یعنی جہیز اکٹھا کرتی رہتی ہیں، کیونکہ ایک ہی وقت میں وہ پورا انتظام نہیں کر سکتے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیٹی کی تربیت، اسے ہنرمند بنانے اور کھانے پینے میں مہارت پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ جب لڑکی جوان ہو جاتی ہے تو ماں باپ پہلی فرصت میں مناسب ‘ور‘ یعنی رشتہ ملتے ہی اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے کر دیتے ہیں۔ شادی کی رسومات کئی مرحلوں اور دنوں پر مشتمل ہوتی ہیں لیکن مل جل کر کام کرنے کی وجہ سے بڑی آسانی سے تمام مراحل طے ہو جاتے ہیں۔ سب سے پہلے لڑکے کے گھر سے اس کی ماں یا کوئی قریبی رشتے دار عورت لڑکی والوں کے گھر جاتی ہے۔ لڑکی کو ہر لحاظ سے دیکھ کر، گھر اور دیگر چیزوں کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔ اگر لڑکی پسند آ جائے تو اپنے گھر والوں خصوصاََ شوہر کو رضا مند کیا جاتا ہے۔ ادھر لڑکی کی ماں اپنے شوہر سے رشتے کے بارے میں بات کرتی ہے۔ اس کے بعد خواتین کا ایکدسرے کے گھر میں آنا جانا، تحفے تحائف دینا شروع ہو جاتا ہے۔ بالآخر جب دونوں خاندان رشتہ کرنے پر راضی ہو جاتے ہیں تو ایک رات مخصوص کر دی جاتی ہے، اُس رات لڑکے والے اپنے چند قریبی رشتے داروں کے ہمراہ لڑکی والوں کے گھر آتے ہیں اور اس رات شادی کی تاریخ طے کی جاتی ہے جسے گنڈھیں باندھنا کہتے ہیں۔ اس موقع پر گڑ، بتاشے یا لڈو بانٹتے ہیں۔ تاریخ ایک سے دو ماہ کے اندر رکھی جاتی ہے اور زیادہ تر چاند کی تاریخ پر شادیاں رکھی جاتی ہیں، چاند کی چودھویں کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔
سردی اور گرمی میں مہمانوں کو ٹھہرانے کے لئے مسئلہ ہوتا ہے اس لئے کوشش کی جاتی ہے کہ شادی ٹھنڈے میٹھے موسم یعنی اکتوبر، نومبر یا فروری، مارچ میں کی جائے۔ تاریخ طے ہوتے ہی دونوں طرف سے شادی کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ مکانوں کو میں چکنی مٹی یا رنگ روغن سے سجایا جاتا ہے۔ شادی سے چند دن قبل لڑکے کے گھر والے، لڑکی کے گھر والوں کو لیکر بازار جاتے ہیں جہاں سے لڑکی اور لڑکے کے لئے کپڑے، میک اپ کا سامان اور زیور وغیرہ خریدا جاتا ہے۔ اس سامان کو ‘وڑی‘ کہتے ہیں اور یہ لڑکے والوں کے خرچے پر ہوتا ہے۔ لڑکی والے بھی باقی ماندہ جہیز کی چیزیں خریدتے ہیں۔
شادی سے دو روز قبل خواتین کا ایک فنکشن ہوتا جسے مینڈھی کہتے ہیں۔ لڑکے کے گھر سے بہت بڑی تعداد میں خواتین ڈھولک بجاتی ہوئی اور خوشی کا اظہار کرتی ہوئی لڑکی والوں کے گھر آتی ہیں۔ یہاں پر ‘جھمر‘ یعنی جھومر ڈالی جاتی ہے اور ڈھولک پر خوشی کے گیت گائے جاتے ہیں۔ دلہن کو باہر صحن میں لایا جاتا ہے اور ایک بزرگ خاتون دلہن کے بالوں میں گندھی ہوئی مینڈھی یعنی بالوں کے بل کھولتی ہیں۔ شادی سے قبل لڑکیاں اپنے بالوں کو رسی کی طرح بل دے کر باندھے رکھتی ہیں۔ مینڈھی سے لیکر شادی تک دلہن بلاضرورت کمرے سے باہر نہیں نکلتی۔
لڑکے والوں کے گھر شادی سے ایک دن قبل رشتے دار اکھٹے ہو جاتے ہیں جن  کی رہائش کے لئے نزدیکی ہمسائیوں کے گھروں سے چارپائیاں، بستر اور دیگر سامان اکٹھا کیا جاتا ہے۔ اس خاص موقع پر ہمسائے بہت تعاون کرتے ہیں۔ جن لوگوں کو رات کا بلاوا ہوتا ہے وہ اکثر دور کے رشتے دار ہوتے ہیں، اس لئے وہ سرشام ہی آ جاتے ہیں۔ شادی کے بلاوے کے لئے علاقے کا نائی ہر گھر جا کر دعوت دیتا ہے کہ فلاں دن مینڈھی، فلاں دن جاگا اور فلاں دن رخصتی اور ولیمہ ہے۔
جس دن شادی ہوتی ہے اس رات گھر میں جاگا منعقد کیا جاتا ہے۔ خواتین لڈی، جھومر اور بھنگڑے ڈالتی ہیں اور مراثن گانے گاتی ہے، مرد حضرات باہر چوپال میں ڈھول کی تھاپ پر جھومر اور بھنگڑے ڈالتے ہیں۔
یہ فنکشن رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ شادی والے دن گھر والے برات ‘بارات‘  کے لئے کھانے کے انتظام میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اکثر شادیوں میں دلہن کا گھر نزدیک ہونے کی وجہ سے کھانا اور برات ایک ہی دن ہوتے  ہیں۔ سرائیکی خطے میں اکثر شادیاں اسی وسیب میں کی جاتی ہیں، برادری سے باہر یا دور بہت کم شادیاں ہوتی ہیں۔ کھانے کا انتظام حسب توفیق کیا جاتا ہے۔ عام طور پر سالن روٹی یا گوشت چاول پکائے جاتے ہیں۔ جانور ذبح کرنا، دیگیں پکانا اور تقسیم کرنا سب کام مل جل کر کیا جاتا ہے۔ جوں جوں مہمان آتے جاتے ہیں انہیں عزت و احترام سے بیٹھا کر کھانا پیش کیا جاتا ہے۔ خواتین صحن میں بچھی ہوئی چٹائیوں پر بیٹھ کر کھانا کھاتی ہیں۔ کھانا کھا کر بارات کی روانگی کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تک دلہا ‘دولہا‘ پھٹے پرانے کپڑوں میں دلہن کے گھر جا کر وہی نئے کپڑے پہنتا تھا مگر اب رواج بدل گیا ہے۔ دلہا کو پوری برادری سر پر خوشبودار تیل لگاتی ہے۔ دلہا کے ساتھ ایک آدمی مستقل طور پر رہتا ہے جسے سربالا کہتے ہیں۔ دلہا کے ہاتھ میں تلوار، کلہاری، بندوق، چاقو، یا لوہے کی کوئی چیز ضرور ہوتی ہے۔ اس کے بعد کسی مسجد کے سامنے جا کر دلہے کے ہاتھ میں اس  کا دادا، چچا یا قریبی بزرگ رشتے دار گانا پہناتے ہیں، یہ لال رنگ کے دھاگوں سے بنا ہوا ہوتا ہے۔ تمام لوگ دعا مانگتے ہیں۔ دلہا کو پوری برادری کے درمیان کھڑا کیا جاتا ہے اور درود شریف پڑھ کر پگڑی کو پھونک ماری جاتی ہے اور نائی دلہے کو نئے کپڑے پہناتا ہے۔ اس موقع پر ڈھول اور نقارہ پر خاص دھن بجائی جاتی ہے۔ مراثی اور نائی کو ہر شخص ویل دیتا ہے اور باقاعدہ باآواز بلند اعلان کیا جاتا ہے کہ دلہے کے نام پر دلہے کے فلاں رشتےدار یا شخص نے اتنے روپے ویل دی۔ دلہا کے کپڑے سفید،  ساتھ میں پگڑی اور ایک لنگی ضرور ہوتی ہے۔ اس موقع پر دلہے کے دوست اور رشتےدار نوٹوں کے ہار ڈالتے ہیں۔ اس کے بعد بارات روانہ ہو جاتی ہے۔
حصہ دوم پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجیئے

زمرہ : رسم و رواج, سرائیکی وسیب | 5 تبصرے »

سرائیکی وسیب کی محرومیاں، نئے بجٹ کی روشنی میں۔2

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 28 جون 2007

ظہوراحمد دھریجہ مزید لکھتے ہیں: وزارت خزانہ حکومت پاکستان نے خوشحال پاکستان پروگرام کے تحت 68555.989ملین کی لاگت کے 88منصوبے منظور کئے۔ ان 88منصوبوں میں بدحال سرائیکی علاقے کے لئے کچھ نہیں۔ وزارت خزانہ کا اپنا آئین شاید پاکستان کے بدحال علاقوں کو خوشحال بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔ وزارت تعلیم کے 103منصوبے جو 44179.103ملین کی لاگت سے مکمل ہوں گے۔ ان میں فورٹ منرو کیڈٹ کالج کے علاوہ سرائیکی وسیب کے لئے کچھ نہیں۔ وزارت صحت کے 100منصوبے 95549.418ملین کی لاگت سے مکمل ہوں گے، بجٹ کتاب کا مطالعہ کریں تو صحت کے ان 100منصوبوں میں اسلام آباد، کراچی اورلاہور کے منصوبہ جات کی بھرمار ہے، ایسے لگتا ہے کہ بیمار صرف ان شہروں میں رہتے ہیں باقی سارا ملک بیماریوں سے پاک ہو چکا ہے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت 124منصوبے 37295.676ملین کی لاگت سے مکمل کرے گی، سرائیکی علاقے وہاڑی سے تعلق اور سرائیکی وسیب سے بے پناہ محبت کرنے والے وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی نواب اسحاق خان خاکوانی کو شاید اس بات کا علم نہیں ہو سکا کہ ان 124منصوبوں میں سے سرائیکی وسیب کے لئے ایک بھی نہیں اگر ان کو اس کا علم ہوتا تو وہ بجٹ کا اعلان سنتے ہی استعفیٰ دے کر گھر آجاتے۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت نے 23856.902 ملین کے 141منصوبوں میں سرائیکی وسیب کو 79ملین این ایف سی کالج کے لئے بہبود آبادی نے 21345.053ملین کے 30منصوبوں میں ملتان کیمپ آفس کے لئے محض پانچ ملین۔ سوشل ویلفیئرکی وزارت نے 4865.577ملین کے 77منصوبوں میں سے سرائیکی وسیب کو ڈیرہ غازی خان، رحیم یارخان، اوکاڑہ اور جھنگ سنٹروں کی مرمت کے لئے (سب کو ملا کر) صرف 61ملین دیئے۔ محنت و افرادی قوت کی وزارت نے 657.015ملین کے 13منصوبوں میں سرائیکی وسیب کو ایک بھی نہیں دیا۔ اس طرح وزارت ماحولیات کے 24299.921ملین کے 48منصوبے، وزارت ثقافت کے 20منصوبے تخمیناً لاگت 2190.761ملین، اور منسٹری آف سپورٹس کے 1081.305ملین کے 39منصوبوں میں سے سرائیکی وسیب کے لئے کچھ نہیں۔ ملتان کے سکندر خان بوسن کی وزارت خوراک و زراعت بھی 19162.946ملین کے 63منصوبوں میں سے کوئی منصوبہ سرائیکی وسیب کودینے کی سخاوت سے خالی ہے۔ پلاننگ کمیشن کا ہر کام پلاننگ کے مطابق ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ پلاننگ کمیشن نے اپنے 49688.669ملین کے 35منصوبوں میں سے سرائیکی وسیب کے لئے کسی ایک منصوبے کوبھی ہوا نہیں لگنے دی۔ وزارت صنعت و پیداوار کے 21منصوبے تخمینہ لاگت 17681.624ملین کی وزارت تجارت کے 9منصوبے تخمیناً لاگت 9515.961ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے 52منصوبے تخمیناً لاگت 5576.247اور نارکوٹکس کنٹرول کے 15منصوبے جن کا تخمینہ لاگت 3037.477ملین ہے، میں سے سرائیکی وسیب کا کوئی حصہ شامل نہیں۔ احمد پورشرقیہ کی مردم خیز دھرتی کے سپوت محمد علی درانی کی وزارت اطلاعات و نشریات میں 6051.880ملین کے 45منصوبوں میں صرف ملتان ٹی وی اسٹیشن کے لئے 280ملین رکھے گئے ہیں، اس رقم سے نہ جانے زمین کی رقم ادا ہوگی، بلڈنگ بنے گی یا پھر مشینری آئے گی، ملتان ٹیلی ویژن کا افتتاح ہوئے بھی دو سال گزر گئے مگر ہر طرف خاموشی ہے اگر یہی حال اور یہی رفتار رہی توملتان ٹیلی ویژن کی خاموشی اگلے پانچ سالوں میں بھی ختم نہ ہو سکے گی۔ محمد علی درانی توجہ کریں کم ازکم یہاں ریکارڈنگ شروع کرائیں، یہاں عملہ بھرتی کریں اور یہاں سے پروگرام چلوائیں تاکہ ملتان ٹیلی ویژن کے افتتاح کا مذاق توختم ہو۔ یاد ہے جاوید جبار صاحب وزیر اطلاعا ت تھے ہم ان سے ملے اور ٹیلی ویژن اسٹیشن والوں کی طرف سے سرائیکی وسیب کی حق تلفیوں کی بات کی تو انہوں نے فوری آرڈر کیا۔ دوسرے دن نیلام گھر اور میوزک پروگراموں کی ریکارڈنگ کے لئے لاہور ٹی وی والے ملتان آرٹس کونسل پہنچے ہوئے تھے اسی طرح اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے 45منصوبے 1236.025ملین سے مکمل ہوں گے مگر سرائیکی وسیب کے لئے کوئی منصوبہ نہیں۔ لاء اینڈ جسٹس ڈویژن میں بھی 19992.516ملین سے سرائیکی وسیب کے نصیب میں کوئی حصہ نہیں آیا۔ریونیو ڈیپارٹمنٹ جو 5کروڑ آبادی پر وسیع خطہ سرائیکستان سے سب سے زیادہ ریونیو حاصل کرتا ہے، اس نے 12229.296ملین کے 69منصوبے منظور کرائے اس میں سرائیکی وسیب کوساہیوال، ملتان اور بہاولپور کے کسٹم ہاؤسزکی مرمت کے لئے محض 82ملین ملیں گے ٹیکسٹائل انڈسٹری اور شوگر انڈسٹری جس کی مجموعی خام پیداوار کا 80فیصد سرائیکی وسیب مہیا کرتا ہے اس انڈسٹری کا صنعت کار جو اس علاقے کے غریبوں کا خون چوس رہا ہے، کی حکومت مسلسل سرپرستی کررہی ہے۔ شوگر مافیا نے انڈسٹری سرائیکی وسیب میں قائم کی ہے مگر مقامی لوگوں کو روزگارنہیں دیتے۔ ٹیکسٹائل والے کپاس یہاں سے حاصل کرتے ہیں انڈسٹری اپر پنجاب یا پھر کراچی میں قائم کرتے ہیں۔ ٹیکسٹائل کی وزارت نے بھی 24952.701ملین کے چھ منصوبے منظور کرائے مگرسرائیکی وسیب کے لئے ایک نہیں۔ محروم اور پسماندہ علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے کے دعوے نقش بر آب ثابت ہورہے ہیں۔ صدر پرویز مشرف یقینا پسماندہ علاقوں کی ترقی کے خواہش مند ہوں گے۔ بیورو کریسی کے روائتی ہتھکنڈوں اور پسماندہ علاقوں کی نااہل قیادت کے باعث زمینوں کی زرخیزی وسائل کی فراوانی کے باوجود سرائیکی وسیب کے لوگ بھوک افلاس اور جہالت سے خودکشیاں کر رہے ہیں، اعلیٰ تعلیمی ادارے نہ ہونے سے مدارس سے طالبان کو بڑی کھیپ سرائیکی وسیب سے میسر آرہی ہے، معاملہ خودکشیوں سے بڑھ کر خودکش حملوں کی طرف جارہا ہے، ہمارے حکمران اورعالمی برادری سرائیکی وسیب کے اس اہم مسئلے کی طرف توجہ کرے اور سرائیکی وسیب کی حق تلفیوں کا ازالہ کرے۔ اسی میں ملک و قوم کی بہتری ہے۔ بنگالی رہنما مولانا عبد الحمید بھاشانی نے ایک بجٹ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے علاقے میں غربت اور پسماندگی ہے اسے نظر انداز نہ کریں وگرنہ یاد رکھنا چاہئے کہ زیادتیوں اور حق تلفیوں کے نتیجے میں لوگوں کی صرف سوچ ہی نہیں بدلتی بلکہ جغرافیے بھی بدل جاتے ہیں۔ہمارے عاقبت نا اندیش ارباب اختیار نے مولانا بھاشانی کی اس بات کو دیوانے کی بڑ سمجھا مگر وقت نے ان کی بات سچ ثابت کر دی، آج پھر اس بات کی ضرورت ہے کہ محروم طبقات کی فریادوں پر توجہ دی جائے تاکہ کل کسی اور بھاشانی کو یہ نہ کہنا پڑے کہ ”زیادتیوں اور حق تلفیوں کے نتیجے میں لوگوں کی صرف سوچ ہی نہیں بدلتی بلکہ جغرافیے بھی بدل جاتے ہیں“۔ فقط والسلام نہایت ادب سے ظہور احمد دھریجہ،ملتان خوش آئند فیصلے؟ ایک نیوز ایجنسی کی اطلاع کے مطابق صدرجنرل پرویز مشرف نے موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ صدر منتخب ہونے کا فیصلہ ترک کردیا ہے اور قبل از وقت انتخابات کرا کرنئی اسمبلیوں سے منتخب ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر نے اپنے اس فیصلے سے وزیراعظم شوکت عزیز اور چودھری شجاعت کو بھی اعتماد میں لیا ہے۔ حکومت کی ایک اتحادی جماعت کے انتہائی معتبر ذرائع نے بتایاہے کہ امریکا، یورپی یونین اور دیگر عالمی اداروں کے شدید دباؤ، 9مارچ اور12مئی کے واقعات اورملک میں پیدا شدہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں مقتدر حلقوں کی مشاورت کے بعد صدر مشرف نے موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہونے کا فیصلہ ترک کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جولائی میں قومی اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دی جائیں گی اوراکتوبر میں عام انتخابات کرائے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق صدر کو قریبی دوستوں نے مشورہ دیا ہے کہ موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہونے کی صورت میں اپوزیشن اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے دے دے گی جس سے ملک کی سیاسی صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ صدر کو قریبی دوستوں نے مزید یہ بھی بتایا کہ اگران حالات میں وہ موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہوبھی جاتے ہیں تواپوزیشن صدرکوتسلیم نہیں کرے گی اوراپوزیشن کی چلنے والی یہ تحریک آئندہ عام انتخابات کے بعد بھی جاری رہے گی۔ ذرائع کے مطابق امریکا کے اعلیٰ عہدیداروں نے بھی صدر جنرل پرویزمشرف کو یہی مشورہ دیا کہ وہ موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب نہ ہوں اگر صدر مشرف نے ایسا کیاتوامریکا کے لئے بھی مشکل پیدا ہوجائے گی کہ وہ اس کی حمایت جاری رکھے تاہم امریکی عہدیداروں نے صدر جنرل پرویز مشرف کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ انہیں آئندہ اسمبلیوں سے منتخب کرانے کے لئے امریکا اپنا رول ادا کرے گا، ذرائع کے مطابق قبل از وقت انتخابات کرانے کی وجہ سے کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ بھی واپس لے لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف قوم سے خطاب کریں گے جس میں وہ نئے انتخابات کرانے اور خطے کودرپیش چیلنجوں کے حوالے سے قوم کو اعتماد میں لیں گے۔ ذرائع کے مطابق صدرجنرل پرویز مشرف آئندہ صدارتی انتخابات سے قبل وردی اتار دیں گے اورا ٓئندہ صدارتی الیکشن بغیر وردی کے لڑیں گے۔ اصلاحات تواوربھی بہت سی مطلوب ہیں لیکن متذکرہ صدر خبر میں جن فیصلوں کا تذکرہ کیا گیا ہے اس مرحلے پران کا ہونا بھی غنیمت ہے۔

بشکریہ ۔۔ ارشاد احمد حقانی صاحب روزنامہ جنگ

زمرہ : سرائیکی وسیب | 3 تبصرے »


 
Close
E-mail It