مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 13 نومبر 2008
اے اللہ ہمارے گناہ معاف فرما دے۔
اے اللہ ہماری خطاؤں کو درگذر فرما۔
اے اللہ ہمیں نیکیوں کی توفیق عطا فرما، ہمارے چھپے اور کھلے گناہ، اگلے پچھلے گناہ معاف فرما، بے شک تیری معافی بہت بڑی ہے۔
اے اللہ اپنی رحمت کے دامن میں چھپا لے۔
اے اللہ ہمیں رات اور دن کے فتنوں سے بچا۔
اے اللہ ہمیں جنوں اور انسانوں کے فتنوں سے بچا۔
اے اللہ زندگی اور موت کے فتنوں سے بچا۔
اے اللہ ہماری آہ زاری سن لے۔
اے اللہ ہماری جسمانی اور روحانی بیماریوں کو صحت عطا فرما۔
اے اللہ ہمیں جسمانی طاقت اور قوت عطا فرما۔
اے اللہ ہم کو مصیبت سے نجات عطا فرما۔
اے اللہ ہمیں حضرت آدم علیہ السلام جیسی توبہ نصیب فرما۔
اے اللہ حضرت یعقوب علیہ السلام جیسی گریہ و زاری نصیب فرما۔
اے اللہ ہمیں ابراہیم علیہ السلام جیسی دوستی نصیب فرما۔
اے اللہ ہمیں ایوب علیہ السلام جیسا صبر نصیب فرما۔
اے اللہ ہمیں داؤد علیہ السلام جیسا سجدہِ شکر نصیب فرما۔
اے اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عمل نصیب فرما۔
اے اللہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسا صدقہ نصیب فرما۔
اے اللہ عمر رضی اللہ عنہ جیسا جذبہ نصیب فرما۔
اے اللہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جیسا غنا عطا فرما اور شرم و حیا نصیب فرما۔
اے اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسی شجاعت و بہادری نصیب فرما۔
اے اللہ آئمہ دین جیسی خدمتِ اسلام نصیب فرما
اے اللہ ہمیں خلفائے راشدین جیسی بھلائیاں نصیب کر، ہمیں پیغمبری زندگی اور پیغمبری موت تحفہ بنا کر بھیج۔
اے اللہ ہمیں موت تحفہ بنا کر بھیج، ہماری موت کو رحمت بنانا زحمت نہ بنانا۔
اے اللہ ہماری قبروں کو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ بنانا۔
اے اللہ ہمیں ایمان اور علم کی دولت سے مالامال کر دے۔
اے اللہ تمام بے نمازیوں کو نمازی بنا دے۔
اے اللہ بے روزگار کو رزقِ حلال عطا فرما۔
اے اللہ گمراہوں کو راہ پر لے آ۔
اے اللہ مفلس کو غنی کر دے۔
اے اللہ مسلمانوں کو حلال روزی نصیب فرما۔
اے اللہ بے اولادوں کو نیک اور صالح اولاد نصیب فرما۔
اے اللہ جو اولاد سے گھبرا گئے ہیں انہیں معاف فرما دے۔
اے اللہ بدکردار کے کردار کو درست فرما دے۔
اے اللہ بد اخلاق کو مکرم الاخلاق فرما دے۔
اے اللہ سلامتی والا دل، ذکر والی زبان اور رونے والی آنکھیں نصیب فرما دے۔
اے اللہ ہمیں دین و دنیا کی عزت نصیب فرما۔
اے اللہ ماں باپ کے نافرمانوں کو ان کا فرمابردار فرما دے۔
اے اللہ بے چینوں کو چین عطا فرما، اجڑے ہوئے گھروں کو آباد کر دے اور جن گھروں میں نااتقافی ہے انکو اتفاق کی دولت سے مالامال کر دے۔
اے اللہ ہمارے بچوں کو پاک دامنی عطا فرما اور انہیں زندگی کا نیک ساتھی نصیب فرما۔
اے اللہ پاکستان کی حفاظت فرما اور اسے دشمنوں اور اپنوں کی چیرہ دستیوں سے محفوط رکھ۔
اے اللہ ہمارے حکمرانوں کو حقائق جاننے، سمجھنے اور اس کی روشنی میں صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ عالم اسلام میں اتحاد و اتقاق عطا فرما۔
اے اللہ عالم اسلام کے حکمرانوں کے ایک دوسرے پر انحصار کرنے کی قوتِ فیصلہ عطا فرما۔
اے اللہ ہماری قبروں کو جہنم کا گڑھا نہ بنا۔
اے اللہ منکرِ نکیر کر سوالات کے وقت ہمیں ثابت قدم رکھنا۔
اے اللہ ہماری زندگی اور موت کے بعد قرآن کو ہمارا مونس و غمگسار بنا دے۔
اے اللہ ہمارے اعمال نامے ہمارے داہنے ہاتھ میں دینا۔
اے اللہ ترازو کا پلڑا نیکیوں سے وزنی کرنا۔
اے اللہ ہمارے چہروں کو قیامت کے دن چمکتا رکھنا۔
اے اللہ پُل صراط ہمارے آسان فرما۔
اے اللہ ہم پر اپنی رحمتوں اور کرموں کی بارش کر دے۔
اے اللہ ہمیں جہنم سے بچا کر جنت الفردوس نصیب فرما۔
اے اللہ ساقیِ کوثر صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے حوض کوثر سے پانی پلانا۔
اے اللہ تو سراپا عطا ہی عطا ہے مگر ہمیں مانگنے کا سلیقہ نہیں۔
اے اللہ ان ٹوٹے پھوٹے لفظوں کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرما۔
Share This
زمرہ : تعلیم, عشق ومعرفت, رسم و رواج, اسلام | 3 تبصرے »
مصنف : فرخ نور :: بتاریخ 01 اگست 2008
سُچ انسان سُچِت ہوتا ہے۔ سچیت نہیں۔ سِچَّھک ہو کر سچوئی سے سُچِنتا ہے۔ یہی سَدا چار اُسکودُنیا میں سجیونی بنا دیتے ہیں۔
سچا انسان سُچا موتی ہوتا ہے۔ سُچے موتی روایت زمانہ نہیں بلکہ زمانے اُنکی روایات ہوتے ہیں۔ زمانہ اُنکی پہچان نہیں وُہ زمانےکی پہچان ہوتے ہیں۔
زمانہ سخن زمانہ شناس ہوتا ہے۔ زمانہ شناس نگاہ شناس ہوتا ہے۔ نگاہ شناس کھرا انسان ہوتا ہے۔ سچا انسان خالص انسان ہوتا ہے۔ قول خالص، عمل خالص، علم خالص، نام خالص، مزاج خالص، رنگ خالص، خالص ہی خالص۔ خلوص کا پیکر کشش ہی کشش۔ وُہ مقناطیسی کھچاؤ سا رکھتا ہے۔
لوگ اُس پہ نگاہ رکھتے ہیں۔ وُہ دُنیا کے عظیم العظیم انسان سے لو لگاتے ہیں۔ اُنکی تمام تر توجہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھرپور ہوتی ہے۔ سچا انسان عاشق رسول رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوتا ہے۔ اُسکی ہر بات عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مکمل (لبریز بھی اور تکمیل بھی) ہوتی ہے۔ وُہ خود عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اِک معمولی سا عملی کردار ہوتا ہے۔
سچےانسان کی سوچ منتشر نہیں مرتکز ہوتی ہی۔ ارتکاز کا نقطہ و نکتہ ذات رسول مقبول کےسواءکچھ نہیں۔
سچا انسان خود تو تعمیری ہوتا ہی۔ اُسکےدائرہ اثر میں زیر اثر افراد بھی تعمیری ہوتےہیں بےضرر ہوتےہیں یہ افراد تخلیق کار ہوتےہیں؛ نقال گُر نہیں۔ یہ نقش کار افرادتمثال گُر نہیں بناتے۔ یہ نقش چھوڑتے ہیں اور نقاش بناتے ہیں۔ گویا تخلیق گو نہیں، تخیل گو نہیں بلکہ تخیل کار اور تخلیق کار ان ہی سے ہوتے ہیں۔
جو عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سےلبریز ہے۔ اُسکا ہر عمل و قول تعمیری خیالات واثرات کا واضح نمونہ ہے۔ نہ صرف وُہ خود مثبت اثرات رکھتا ہے۔ بلکہ حلقہِ دائرہ کو تعمیری سوچ عطاء کرتا ہے۔ خطاء والے کو بھی سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ سچا انسان اعلٰی نمونہ بن کر خوبصورت درسگاہ بنتا ہے۔ جو زمانے کو خوب سیرت بناتی ہے۔ سچوئی زمانے کے محتاج نہیں زمانہ اُنکا محتاج ہوتا ہے۔
اِن سچے انسانوں سے کوئی سچل سرمست بنتا ہے تو کوئی علی ہجویری۔ جن کا سَحر سِحرحلال کی صورت میں سَحرخیز ہے۔ آج بھی کشف المعجوب کی سخن فہمی سدا بہار جیسی سحر خیزی رکھتی ہے۔ یہ تحریر جو خلوص ِقلب و نیت سے سچے انسان کے راست جذبے سے ضبط تحریر میں لائی گئی تھی۔ آج بھی اپنا اثر قلوب پر رکھتی ہے۔ سچے انسان کا سچا پن آج بھی نیک اثرات رکھتا ہے۔
سچا انسان انسانیت سے محبت کرتا ہے۔ اُسکی تنقید تنقید ہوتی ہے، نکتہ چینی نہیں (١)۔ وُہ برائی سے نفرت کرتے ہیں۔ مگر بُرے انسان کی ذات سے نفرت نہیں بلکہ اُسکی تربیت کی کوشش کرتے ہیں۔ وُہ بغض، حسد و کینہ دِل میں نہیں رکھتے۔ وُہ رَشک کرتا ہے۔ وُہ چاہتا ہے جو اَوروں کے پاس ہے۔ وُہ سب کو مل جائے۔ کسی سے چِھن نہ جائے۔ وُہ انسانیت سوز دِل سوز ہوتا ہے۔
سچا انسان ہے کیا؟ سچ بولنے والا وُہ سچ بولنے والا جسکا قول اور عمل یکساں ہوں، تضاد سے پاک ۔جو اللہ ، اُسکے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کو صدق دِل سےتسلیم کر لے۔ تسلیم کرنا یہ ہے کہ جسکو دِل و دماغ قبول کر لیں۔ ایسا انسان امین، صادق، دیانتدار اور شرافت کا عملی کردار ہوگا۔ کھرا انسان مشکل وقت میں بھی حق گو رہتا ہے۔ گویا وُہ کلمہ طیبہ کا عملی اقرار کرتا ہے۔
سانچ لوگ سچی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اُنکی درس و تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ سچا انسان سچی و کھری تعلیمات کا فروغ چاہتا ہے۔ اپنی نمائش، زیبائش اور آرائش کی تمنا نہیں رکھتا۔
اُولیاءکرام ہمیشہ تعمیر اور محبت کی بات کرتے ہیں۔ وُہ لوگوں کو یہ تعلیم دیتے ہیں۔ تعلق غرض سے نہیں دِل کی محبت سے رکھو! شہر کام کی غرض سے مہمان لاتے ہیں مگر سچے انسان دِل کی محبت سے محبت کرنے آتے ہیں۔ جسکی یاد آئے اُسکے شہر چل پڑو۔ شہر ِیثرب میں محبوب کی محبت۔
سچا انسان قابل تنقید نہیں ہوتا نہ ہی اُسکی مکمل قابل تعریف کی جاسکتی ہے (٢)۔ سچا انسان عاشق رسول ہوتا ہے۔ یہی اُسکی اصل خوبی و تعریف ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا سچا و سُچا انسان نہ کبھی کوئی آیا ہے، نہ ہی آئےگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ مبارک کا ہر پہلو، قدم اور عمل صرف اور صرف تعمیری اثرات کی نمایاں مشعل ِراہ ہے۔ غزوات ہو یا تعلیم و تبلیغ ہر معاملہ تعمیری ہی تعمیری۔ اے اللہ ہمیں رسول پاک کی تعلیمات پر تعمیری صورت میں عمل کرنے کی توفیق عطاء فرما۔
اے اللہ ہم سب کو ایک سچا انسان، سچا مسلمان بننے کی توفیق عطاء فرما۔ ہمیں صرف نیک تربیت حاصل کرنے والا ہی نہیں، عملی تربیت دینے والا انسان بھی بنا۔ بطور مسلمان لفظ پاکستانی اور عقیدہ اسلام کی پہچان بھی کروا۔ ہمیں اسلام کی اصل روح سے روشناس کروانے والے عاشقین رسول کی رہنمائی و رہبری عطاء فرما۔ جو پوری دُنیا کی رہنمائی تعمیری فکر سے کریں۔ ہمیں سچ کے نام پر تخریبی سوچ والے بنے بنائے رہنمائوں اور رہبروں کی شر انگیز قیادت سے بچا۔(آمین)
(فرخ)
وضاحت:
(١) تنقید دراصل تکمیل میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ gaps fill کرتی ہے۔ مثبت بات ہے۔ منفی تنقید دراصل نکتہ چینی ہے۔
(٢) اُسکے ذکر میں تنقید اُسکی شان کے برخلاف ہوتی ہے۔
مشکل الفاظ کے معنٰی
ارتکاز / مرتکز ۔ ایک نقطہ پر اکٹھا ہونا
سُچ / سچل ۔ اصلی، صاف، پاک
سدا چار ۔ نیک چال چلن، نیک اخلاق
انسانیت سوز ۔ ہمدردانہ و غم خوانہ انسان دوستی
سُچا ۔ کھرا
گَھڑ ۔ خود سےبنا لینا
تعمیری ۔ Constructive, Positive Approach
سَچُت ۔ بےفکر، فکر سے آزاد
لبریز ۔ بھرپور بھرا ہوا ہونا
تخلیق کار ۔ بنانےوالا
سچوئی ۔ سچائی، راستی
لَو ۔ محب سے توجہ کا مرکز بننا
تخیل کار ۔ خیال پیش کرنےوالا
سچُنتا ۔ مناسب، غور، نیک خیال
منتشر ۔ بکھرا ہوا
تماثیل ۔ مشابہ صورت
سِچَّھک ۔ تعلیم دینے والا، اُستاد
سانچ ۔ سچائی، راستی، درستی، صحیح
تمثال گُر ۔ مصور ، نقاش
سچِیت ۔ ہوشیار، آگاہ، خبردار
نقاش ۔ نقش و نگار بنانےوالا
دِل سوز ۔ ہمدرد دوست
سَحر ۔ صبح
نقال گُر ۔ نقل پر عبور رکھنے والا جو حقیقت کو مسخرا بنا دے۔
زمانہ سخن ۔ عمدگی و خوبصورتی سے آگاہی
سِحرحلال ۔ جامع اور فصاحت والی بات
نقش ۔ چھاپ، صورت
زمانہ شناس ۔ باریک تہوں سے آگاہی
سَحرخیز ۔ صبح کا وقت، تازگی
نقش کار ۔ چھاپ کی صورت بنانے والا
سجیونی ۔ جان دینے والی (شی) آب حیات
سخن فہمی ۔ بات کا درست مطلب سمجھ آنا
نقطہ ۔ مرکز، صفر
سچ ۔ حق بات، راست گوئی
سدا بہار ۔ ہمیشہ تازہ و سرسبز رہنا
نکتہ ۔ باریک بات کی تہ
Share This
زمرہ : تعلیم, عشق ومعرفت, رسم و رواج | 2 تبصرے »
مصنف : فرخ نور :: بتاریخ 16 اکتوبر 2007
خدا کی کائنات حُسن کائنات ہے۔ آپ غور کرتے چلے جائیں آپکو جواب ملتے ہی چلے جائیں گے۔ آپ تھک جائیں گے مگرسوال آپکی نگاہوں کے سامنے خود بخود حل ہو رہے ہوں گے۔ یہ خدا کا ایسا مربوط ربط ہے کہ جس میں رابطے ہی رابطےنظر آتے ہیں۔
انسان کےجسم سے لےکر پانی کے بہاؤ تک دارالحکومتوں سے لے کر اللہ کے ولیوں تک مستقل مربوط ایسا نظام نظر آتا ہے جس میں ذرہ ذرہ رابطے میں ربط ہی پیدا کرتا چلا جا رہا ہے۔ ہر ربط میں مناسب مرکز ہے۔
اِنسانی جسم میں خون پیدا ہوتا ہے۔ جسم کےخلیوں تک خون کا مستقل بہاؤ ہوتا ہے۔ سانس لیتے ہیں ہوا پھیپھڑوں میں جاتی ہے۔ جسم کےخلیوں میں موجود خون کی صفائی و تازگی کا عمل سر انجام ہوتا ہے۔ خوراک کھاتے ہیں ایک ایک خلیہ کو یہ خوراک قوت مہیا کرتی ہے خون کا حصہ بنتی ہے۔ گردے سےفضلہ بھی بنتا ہے۔ ہمارے جسم میں سات گلینڈز بھی اپنے اپنے حصہ کا مخصوص کردار و فعل سرانجام دیتے ہیں۔ ہمارے جسم کے بنیادی مراکز وُہ سات گلینڈز کے اعضاء ہیں۔
پانی دریاؤں سے سمندروں میں اپنے مخصوص راستوں سے ہوتا ہوا گرتا ہے۔ کبھی خیال کیا کہ کنواں میں پانی کیسے آیا۔ زمین میں ہر جگہ تو پانی موجود نہیں۔ دراصل یہ قدرتی کارخیزوں کا ایک سلسلہ سا ہی ہے۔ سمندر میں بھی سمندر ہے۔ زمین میں (زمین کی سطح کےنیچے) بھی دریا، ندی ، نالے ہمارے جسم کی شریانوں اور وریدوں کی ہی طرح بہہ رہے ہیں۔ مثل مشہور ہے ”پیاسا کنواں کے پاس آتا ہے۔“ غور کیجئیے”کنواں پیاسے کے پاس آتا ہے۔“ زمین کے اندر پانی بہہ رہا ہے۔ یہ پانی اسی طرح بہہ رہا ہے جیسےہمارے جسم کی رگوں میں خون بہہ رہا ہے۔ اگر کنواں کی کھدائی بڑی رگوں میں ہوتی ہے تو کنواں پانی سے بھرا رہتا ہے۔ پتھر سے چشمہ پھوٹ پڑتا ہے۔ یہ پانی ہماری شریانوں تک جاتا ہے۔ کبھی غور کیا۔ گندہ پانی بھی صاف پانی کا حصہ بن جاتا ہے۔ زمین کے نیچے پانی بہہ رہا ہے۔ تو سمندر کے پانی کےنیچے ایک اور زمین ہے۔ آتش فشاں کا لاوہ بھی تو زمین کے اندر کی نہروں سے ہی جوالا مُکھی کےدامن تک پہنچ کر اکٹھا ہوتا ہے۔ یہ انسانی جسم کے بے شمار نظاموں کی طرح mix-up نہیں ہوتے۔ مربوطیت قائم رہتی ہے۔
گائے کا دودھ دینے کا عمل کتنا مربوط ہے۔ خون بھی بہہ رہا ہے، چارہ ہضم بھی ہورہا ہے، پھیپھڑے اور گردے بھی اپنا فعل سرانجام دے رہے ہیں، دودھ دینےکا عمل بھی جاری ہے۔ مگر کبھی کوئی چیز آپس میں ملی نہیں۔ یہ اللہ ہی کی حکمت ہے۔
تمام شہر مرکزی شہروں سےصرف ربط ہی نہیں ہوتے، مرکزی شہر تمام شہروں کو رابطے میں رکھتے ہیں۔ دارالحکومت ایک ربط کے ذریعے ملک بھر میں اتحاد اور اتفاق کا ربط پیدا کرتا ہے۔ دِل کمزور ہو جائے تو جسم متاثر ہوتا ہے۔ مرکز کے حالات خراب ہوں تو ملک کمزور ہوتا جاتا ہے۔ اسی سلسلہ میں اِن مرکزوں کے بھی مرکز ہوتے ہیں۔ جو خطوں کےمراکز کہلاتے ہیں۔ یہاں پر خدا کا نظام ہے خطوں کے مرکز بدلتے رہتے ہیں کبھی مگدھ کی ریاست مرکز تھی تو کبھی نندا(١) اور پھر دِلی مرکز رہا، مدینہ سے دمشق اور پھر بغداد بنا عظیم مرکز، لندن، ماسکو اور واشنگٹن مرکز رہ چکے، ثمرقند، غزنی، کابل اور استنبول ماضی کا حصہ کا بن چکے، نیا مرکز بھی تو کوئی ہے کوئی نیا دارالحکومت۔
آپ پاکستان کے نقشہ کو دیکھئیے ہمارے سیاسی مفکر یورپی یونین کی طرز کا ایک وفاقی اتحاد سوچ رہے ہیں۔ کبھی وہ ثقافتی و لسانی مماثلت کی بناء پرسارک کو دیکھتے ہیں اور کبھی ملی و دینی حوالے سےعرب یونین کو سوچتے ہیں، خاموش قوموں کے بغض اور اشخاصیات کے لالچ اقتدار میں کر جاتے ہیں۔ وُہ غلط سوچتے ہیں وہ بیچ میں کچھ بھول جاتے ہیں۔ تاریخ کا جغرافیہ صحیح سمجھ نہیں پاتے۔ اسلام اس خطہ میں مغرب سےآیا تھا مشرق سےنہیں۔ ہندوستان کا سنہری دور مغل دور کہلاتا ہے۔ مستحکم سلطنتیں وسط ایشیاء سےآئی تھیں۔ ہم بیچ کے بےساحل ممالک کو نظر انداز کر جاتے ہیں۔ اِن خطوں کے جغرافیہ سے ہمارے خطہ کا جو ربط ہے۔ وُہ ایسا مربوط ربط ہے کہ یہ کسی اور خطہ سےمنسلک رہ کر مضبوط نہیں ہوسکتے۔ ان سات ستان (قازقستان، کرغیزستان، اُزبکستان، تاجکستان، ترکمانستان، افغانستان اور پاکستان) ممالک کی مضبوطی صرف اور صرف پاکستان کی مضبوطی میں ہے۔ ہمیں سیاسی طور پر اِس جانب سوچنا ہوگا۔ یہ بیچ کا وُہ راستہ ہے جس کا تاج ہمیشہ اللہ کی جانب سے ہمیشہ ہمارے سر پر رہےگا۔ بس ہمیں یہاں سوچ کر ایک جلد مضبوط فیصلہ کرنا ہے۔ اِن تمام قوموں کی ایک قومیت ہیں اور مشترکہ قومیت پاکستان ہے اور پاکستان سےمراد اِسلام ہے۔
انبیاء کا سلسلہ چلا۔ اللہ کہتا ہے کہ اُس نے ہر خطہ میں اپنے پیغمبر بھیجے۔ یہ اللہ کا بڑا ہی systematic نظام تھا۔ ہم برصغیر کی تاریخ کو دیکھ لیں تو ہم پر اللہ کی یہ بات کھل جائےگی۔ (آرٹیکل کےاختتام تک بات کو مختلف حوالوں سےسمجھنےکی کوشش کیجیئےگا۔ یہاں صرف اولیاءکرام کا تذکرہ نہیں بلکہ کئی پہلو ہیں جن کو تحریر نہیں کر رہا مگر وہ اس میں موجود ہیں۔) مکہ اور مدینہ سے اسلام بغداد تک جا پہنچا، مرکز بدلا، علم کا گہوارہ بنا، اُولیاءکرام کی آمد ہوئی۔ حضرت علی کی اُولاد کے ایک بڑے حصہ نے حالات کے باعث خراسان و ہرات ہجرت کیں اور پھر سلطان محمود غزنوی کے ہمراہ برصغیر پر حملہ آور ہونا اور پھر یہاں خاموشی سےسکونت اختیار کر جانا۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی نے اُولیاءکرام کو برصغیر بھیجا ہر علاقے کےلیئے ایک بڑے ولی اللہ مقرر ہیں ایک انگریز مورخ نےکہا تھا ہندوستان پر کوئی شخص حکومت نہیں کر رہا ایک قبر کر رہی ہے اور وہ مزار شیخ الہند خواجہ معین الدین چشتی کا ہے۔ اسی طرح لاہور میں داتا گنج بخش یہ بڑے نام ہیں۔آپ اُولیا کی تواریخ پڑھیئے تو آپ جانیں گے کہ ہر ولی اللہ نے ہر ولی اللہ کو کوئی نہ کوئی نامزدگی و علاقہ سپرد کیا۔ (ایک مادی حکومت ہے جو بادشاہوں کی ہوا کرتی ہے اور اُولیاء کی یہ روحانی حکومت ہوتی ہے۔) اور یہ سلسلہ آج تک چلا آ رہا ہے۔ یہ ایک ایسا مربوط نظام ہے کہ ہمارے لیئے راہیں کھلتی ہیں۔
آج کچھ متعصب لوگ لاہور کو ایک عیاش شہر سمجھتے ہیں۔ تقسیم در تقسیم، نظریہ پاکستان پر چند متعصب افراد نے جواب میں لاہور شہر پر جو غلیظ کیچڑ اُچھالا اُنکے لیئےبھی جواب ہے۔
لاہور شہر کے بارہ دروازے ہیں۔ ہر دروازہ کے احاطہ میں کم از کم ایک تکیہ (Rest House) موجود ہے۔ جس کےساتھ اکھاڑی، بیٹھکیں منسلک تھی۔ اِن تکیوں کے میزبان اللہ والے ہوا کرتےتھے۔ یہ سلسلہ کئی صدیاں چلا اب تکییّ ویران ہیں دروازے بھی ویران ہیں۔ اِس شہر میں اُولیاءکرام تشریف لاتے تھے اور اِسکو مسکن بنا لیتے۔ شاہ حسین زنجانی پھر شاہ اسمعیل انکے بعد حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش ایک سلسلہِ ربط ہے۔ جو آج تک رُکا نہیں۔ غور کیجئیے شاہ حسین زنجانی کی جس روز وفات ہوئی اُس سےاگلے روز حضرت علی ہجویری اپنے مرشد کے ارشاد کے مطابق لاہور پہنچے تو جنازہ آ رہا تھا۔ آپ شاہ حسین زنجانی کےجنازہ میں شریک ہوئے۔ آپ دونوں پیر بھائی تھے۔
یہ سلسلوں کے ربط سمجھنے کی بات ہے یہ کہاں سے شروع ہوتے ہیں۔ صدیوں سے یہ معاملات چلے آ رہے ہیں۔ ہر بڑا بزرگ اپنے مرشد کے ارشاد کے مطابق حکم دیےگئے علاقےمیں قیام پذیر ہوتا ہے۔ بری امام نے چکوال سے اسلام آباد کو اپنا مرکز ِمسکن بنا لیا۔ تخلیق پاکستان کے دوران لاہور شہر میں ادیبوں کا ایک مسکن چل پڑا اور یہ میلا کبھی روحانیت کی صورت میں اور کبھی دینی معاملات کےحوالے سے بڑھتا ہے، اکثر اس میلے میں ادبی رنگ غالب ہوجاتا ہے۔ علامہ اقبال قدرت اللہ شہاب، واصف علی واصف، اشفاق احمد اور آج غامدی اپنے اپنے رنگ میں محفلیں سجھائے ہوئے ہیں اور یہ محفلیں اس شہر کے اختتام تک جاری رہنی چاہیں۔ اللہ کرے یہ محفلیں گمنام افراد سے جاری رہے (نامور نام دوسروں کو خوش رکھنےکی خاطر، بات گول رکھتے ہیں۔)
یہ اللہ کے پیدا کردہ سلسلے بڑے ہی نرالے ہوتے ہیں۔ اِن میں بڑا ہی ربط ہوتا ہے۔ اللہ نےہماری تربیت کس طرح کرنی ہے، کون نامزد ہے ہم نہیں جانتے، یہ اُسکےسلسلے ہیں بس وہی جانتا ہے۔
دیکھئیے لاہور شہر کےتکیوّں کا سلسلہ رُکا تو ادیبوں کا اور اللہ والوں کا یہ ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔ جو شہر لاہور تک محدود نہیں رہا۔ پوری دُنیا کےلیئے یہ سلسلہ شروع ہوگیا۔
قرآن میں اللہ نےجگہ جگہ اپنےمربوط سلسلہِ ربط کا واضح ذکر کیا۔ گائے سے دودھ پیدا ہونے کا تذکرہ جو قرآن میں بیان ہے، کائنات کا ذرہ ذرہ ایک مربوط سلسلہ کا واضح اظہار ہے۔ موسموں کا بدلنا، سورج، چاند کا مقررہ وقت پر حرکت کرنا۔ پہاڑوں ، دریائوں، سمندروں، نباتات، حیوانات اور حیات کے سلسلے اللہ کی قدرت ہی کےمظہر ہیں۔
ہم بس سلسلوں کی کڑیا ں ہیں۔ اپنے اپنے حصہ کا کام کرتے ہیں اور پھر اِس دُنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ ایک پیدائشی معذور بچہ ہمارے لیئے اللہ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ اُس بچے کے ذریعے ہمیں محبت کرنا سکھاتا ہے۔ اُس بچے کی موت ہماری زندگی بدل دیتی ہے۔ وُہ ہمیں انسانیت سے محبت سکھاتا ہے۔ وُہ ذریعہ بنتا ہے۔ کہ ہم اللہ اور اُسکے رسول سے محبت، عشق کی صورت میں کرنا سیکھیں۔
بس آپ کائنات کے سلسلوں پر غور کیجئیےگتھیاں سلجھنا شروع ہو جائیں گی۔ آپ یہ جان پائیں گے کہ زندگی کا اقرار لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ میں ہے۔ اپنے آپکو اللہ کی رضا کے تابع کر لینا۔ اللہ سے راضی ہوجانا۔ ہم اللہ سے راضی تو اللہ ہم سے راضی ہے۔ یہی اصل میں ہمارا مربوط سلسلہِ ربط ہے۔
(١) مگدھ: یہ ہندوستان کی شمالی ریاست کا علاقہ ہے۔
(٢) نندا: سکندر اعظم کے حملہ کے بعد ہندوستان کا دارلحکومت، موجودہ راولپنڈی ڈویژن کا ضلع چکوال کٹاس راج اسی دور سےمتعلق ہے۔
(فرخ)
Share This
زمرہ : تاریخ, عشق ومعرفت, اسلام | 6 تبصرے »