مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 09 نومبر 2008
سائبر کرائم آرڈیننس کے ساتھ ہی حکومت پاکستان نے ہیکنگ اور کریکنگ حملوں کی روک تھام اور اس میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لئے سائبر کرائم کی ایک ویب سائٹ لانچ کی ہے۔ اس سائٹ پر سائبر کرائم کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہے۔ گو کہ اس سائٹ پر ابھی کام جاری ہے مگر اس پر ایک پسندیدہ یا ناپسندیدہ کام یہ ہوا ہے کہ اس پر سائبر کرائم کا نشانہ بننے والوں کے لئے ایک عدد فارم رکھا گیا جسے Incident Reporting Form کا نام دیا گیا ہے۔ اگر آپ کسی قسم کی ہیکنگ یا کریکنگ کا نشانہ بنے ہیں یا آپ کے کمپیوٹر، نیٹورک یا ویب سائٹ پر کسی ہیکر نے حملہ کر کے نقصان پہنچایا ہے یا آپ کو غلط قسم کی کوئی میل موصول ہوئی ہے تو آپ یہ فارم بھر کر اپنا کیس ریکارڈ کروا سکتے ہیں۔ متعلقہ محکمہ اس رپورٹ کی روشنی میں ہیکرز یا کریکرز کو پکڑنے کی پوری کوشش کرے گا۔
اس ویب پر ہیکنگ اور کریکنگ سے بچاؤ، کاپی رائٹ اور سائبر کرائم کے متعلق قانونی معلومات کے علاوہ ڈاؤنلوڈ کے لئے بےپناہ مواد موجود ہے۔ جسے پڑھنے کے بعد آپ اپنے کمپیوٹر، کریڈٹ کارڈ، ڈیٹا، ویب سائٹ اور ایمیل اکاؤنٹ کی حفاظت بخوبی کر سکتے ہیں۔
Share This
زمرہ : ٹیکنالوجی, موبائیل زون, قانون، آرڈیننس | ابھی تک ایک تبصرہ ہوا ہے »
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 02 جون 2008
پی ٹی سی ایل نے رات 11 بجے سے لیکر صبح چھ بجے تک تمام لوکل کالز فری کرنے کا اعلان کردیاہے جس کے تحت یہ سروس آج (اتوار) یکم جون سے شروع ہوگی۔ پی ٹی سی ایل کے ایس ای وی پی کمرشل ڈاکٹر صادق الجادرکے مطابق آئی ٹی کے شعبے میں انقلاب کے بعد پی ٹی سی ایل نے گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان پیکج ‘ ملک بھر میں لوکل کالز ‘ کم سے کم کال ریٹس ‘ کم سے کم لائنٹ‘ بہترین سروس مہیا کرنے میں اہم اقدامات کئے۔ بحوالہ روزنامہ جنگ
Share This
زمرہ : ٹیکنالوجی, موبائیل زون, پاکستان | 4 تبصرے »
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 11 جنوري 2008
روزنامہ جنگ کی خبر کے مطابق سائبر کرائم آرڈیننس نافذکر دیا گیا ہے جو دسمبر 2007ء سے نافذ العمل ہوگا۔ اس سلسلے میں نگران وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر عبداللہ ریاڑ نے کہا ہے کہ سائبر کرائم آرڈیننس نافذکر دیا گیا ہے جس کے تحت سنگین نوعیت کے جرائم کمپیوٹر سے ایٹمی اثاثہ جات کو ہیک کر کے نقصان پہنچانے، دہشت گردی اور فراڈ سمیت موبائل فون کے ذریعے کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے جرائم پر زیادہ سے زیادہ موت کی سزا دی جا سکے گی،انٹرنیٹ اور موبائل فون کے ذریعے دھمکی آمیز پیغامات بھی جرائم میں شامل ہوں گے۔ سائبر کرائم کی سماعت کیلئے 7 رکنی ٹربیونل اگلے ماہ قائم کر دیا جائے گا اورجن ممالک کے ساتھ معاہدہ موجود ہے، ان سے سائبر کرائم کے مرتکب مجرمان کا تبادلہ کیا جا سکے گا۔ جوہری اثاثہ جات، آبدوزوں، طیاروں کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کو ہیک کر کے نقصان پہنچانے سمیت سنگین نوعیت کی دہشت گردی پر موت کی سزا دی جا سکے گی جبکہ 18 نوعیت کے مقدمات کا احاطہ کیا گیا جن پر ٹربیونل سزائیں دے سکے گا۔ ان جرائم کی تشریح بہت وسیع ہے جس میں سائبر سے متعلق تمام نوعیت کے جرائم کا احاطہ ہو جاتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جن جرائم کی ٹربیونل سماعت کریگا، ان میں کمپیوٹر کے ذریعے کسی دوسرے کے کمپیوٹر تک رسائی، ڈیٹا تک رسائی، ڈیٹا کو نقصان پہنچانا، سسٹم کو نقصان پہنچانا، آن لائن فراڈ کرنا جن میں جعلی اے ٹی ایم کارڈز کے ذریعے رقوم نکلوانا اور دوسروں کے کارڈز کے کوڈ استعمال کرنا، الیکٹرونک سسٹم یا آلات کا غلط استعمال، کمپیوٹر اور دیگر آن لائن آلات کے کوڈ تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنے، اینکرپشن کا غلط استعمال، کسی کا کوڈ بدنیتی کی بنا پر استعمال کرنا، سائبرا سٹاکنگ، اسپامنگ، اسپوفنگ، بلااجازت مداخلت کرنا، سائبر دہشت گردی میں شامل ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ ریاڑ نے کہا کہ دنیا بھر کے 41 ممالک میں سائبر کرائمز قوانین نافذ ہیں پاکستان 42 واں ملک بن گیا ہے جبکہ اس قانون پر عملدرآمد کیلئے 60 سے زیادہ ممالک سے تعاون حا صل کیا جاسکے گا۔ ایف آئی اے کا سائبر کرائمز ونگ اس قانون کے تحت مقدمات کا اندراج تحقیقات اور پیروی کی ذمہ داری نبھائے گا۔ سینئر مشیر شریف الدین پیرزادہ کی سربراہی میں کمیٹی نے سفارشات پیش کی ہیں ان کی روشنی میں سات رکنی انفارمیشن کمیونیکشن ٹربیونل قائم ہوگا جس میں سیشن جج کی سطح کے ارکان ہونگے۔ ٹربیونل کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جاسکے گی جبکہ سپریم کورٹ میں ایسے مقدمات کی سماعت کا نظام وضع کیا جائیگا جو ایک ماہ کے اندر قائم کر دیا جائیگا۔ صدر پرویز مشرف کے حکم پر سائبر کرائمز آرڈیننس 31 دسمبر 2007ء سے نافذ العمل ہوگا۔ وفاقی وزیر عبداللہ ریاڑ نے بتایا کہ جرائم میں کمپیوٹرز کے ذریعے معلومات ڈیٹا چوری کرنا ویب سائٹس کو نقصان پہنچانا اور خفیہ دستاویزات تک رسائی جیسے جرائم شامل ہیں۔
Share This
زمرہ : ٹیکنالوجی, قانون، آرڈیننس, پاکستان | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »