Pakistani



محفوظہ برائے 'شعروادب' موضوع

Urdu & Siraiki Adab, Poetry Collection

بستی کو الزام نہ دو گھر لٹنے کا

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 12 Nov 2009

بستی کو الزام نہ دو گھر لٹنے کا
گھر کے بھی کچھ لوگ لُٹیرے ہوتے ہیں
سونے کی زنجیر گلے میں مت ڈالو
کچھ سانپوں کے رنگ سنہرے ہوتے ہیں

ذرہ حیدرآبادی

زمرہ : شعروادب | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »

اب تو لمحوں کی بھی فرصت نہیں، آرام کہاں؟

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 11 Nov 2009

لے کے آیا ہے کہاں وقت کا گرداب مجھے
کر دیا اپنے ہی خیالات نے غرقاب مجھے

پھر مخاطب ہوں شبِ ہجر کی تنہائی سے
اے سحر! اور کوئی گی کوئی خواب مجھے

درد ہی درد ملے ہاتھ کی ریکھاؤں میں
کم نصیبی نے دئیے حیف یہ اسباب مجھے

اب تو لمحوں کی بھی فرصت نہیں، آرام کہاں؟
زندگی اور سکھائے گی کچھ آداب مجھے

خشک سالی کا یہ عالم ہے کہ شاہین اب تو
اپنے دریا میں بھی پانی ملے، نایاب مجھے

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

زمرہ : شعروادب | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »

عید وطن

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 21 Sep 2009

اس طور اب کے گزری ہے اہل چمن کی عید
جیسے وطن سے دور غریب الوطن کی عید

دست جمیل رنگ حنا کو ترس گئے
بوئے سمن کو ڈھونڈتی ہے پیرہن کی عید

عارض ہیں زخم زخم تو آنکھیں لہو لہو
دیکھی نہ ہو گی دوستو اس بانکپن کی عید

گل رنگ قہقوں کی فصیلوں سے دور دور
نالہ بلب گزر گئی غنچہ دہن کی عید

اے ساکنان دشت جنوں کس نشے میں ہو
شعلوں کی دسترس میں ہے سرو و سمن کی عید

زمرہ : شعروادب, پاکستان | 5 تبصرے »