مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 26 Dec 2008

توں ہانویں تاں
اتھ رونق ہئی
اتھ خشیاں ہن
اتھ ہاسے ہن
اتھ ہر کئی کھل تے ملدا ہا
اتھ مل تے ہر کئی کھلدا ہا
توں گئیں تاں سانول
ایں لگدے
اتھوں خشیاں گئین
اتھوں ہاساں گئین
ہر چہرہ مونجھ توں مونجھا ہے
ہے اکھ ہر کہیں دی نم رہندی
در در تے ماتم ہے
پیا ہر کئی وین ولیندا ہے
تیڈی روہی رات کوں روندی ہے
دیدار تیڈے کوں لوہندی ہے
تیڈا تھر ہے سارا صدمے وچ
تیڈا گھر ہے سارا صدمے وچ
ہک وار ولا دیدار کرا
ساڈی اُجڑی جھوک تے پھیرا پا
رازش لیاقت پوری
زمرہ : شعروادب | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 18 Dec 2008
اس وقت ڈیرہ غازی خان کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں موسم سرما کی بارشیں ہو رہی ہیں۔ موسم کے مطابق ایک نظم حاضر ہے، اس نظم کے ساتھ ساتھ بارش انجوائے کیجیئے۔
یہ بارشیں بھی تم سے ہیں
جو برس گئی تو بہار ہیں
جو ٹھہر گئی تو قرار ہیں
کبھی آ گئی یونہی بے سبب
کبھی چھا گئی یوں ہی روزِ شب
کبھی شور ہیں کبھی چپ سی ہیں
یہ بارشیں بھی تم سے ہیں
کسی یاد میں کسی رات کو
اک دبی ہوئی سی راکھ کو
کبھی یوں ہوا کہ بجھا دیا
کبھی خود سے خود کو جلا دیا
کبھی بوند بوند میں غم سی ہیں
یہ بارشیں بھی تم سے ہیں
زمرہ : شعروادب | 2 تبصرے »
مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 08 Dec 2008

عیداضحٰی پر قریب آئی جو قربانی کی رات
چلتے چلتے ایک بکرا کہہ گیا مجھ سے یہ بات
عید یہ پیغام لے کر آئی ہے، حج کیجیئے
آج اپنی خامیوں کو آپ خود جج کیجیئے
ذبح کی جے مجھ کو یوں شانِ مسلمانی کے ساتھ
ذبح ہو جائے نہ خود مقصد بھی قربانی کے ساتھ
مجھ کو قرباں کر کے یہ پوچھے نہ آئندہ کوئی
اے عزیزو! میرے حصے کی کلیجی کیا ہوئی ؟
ایک صاحب گھر مری اک ران پوری لے گئے
کھال باقی تھی سو مصری خان پوری لے گئے
کتنی بیجا بات ہے میرے خریدارِ عزیز !
ذبح کر کے گوشت کر لیتے ہیں ڈبوں میں فریز
آپ سے یہ ‘دست و پا بستہ‘ گذارش ہے مری
گوشت جو میرا بچے، تقسیم کر دیجیئے فری
لب پہ قربانی کی نیت، دل میں خوشبوئے کباب
میری قربانی، وسیلہ ہے اطاعت کے لئے
اس کی شہرت کیوں ہو صرف اپنی اشاعت کے لئے
ایسی قربانی سے کیا خوش ہو گا ربِ جلیل
رسمِ قربانی ہے باقی، اُٹھ گیا عشقِ خلیل
گامزن وہ شخص ہے اللہ کے احکام پر
آپ سے مجھ کو شکایت ہے کہ قربانی کے ساتھ
گوشت کیسا، پوست پر بھی صاف کر دیتے ہیں ہاتھ
میں تو کہتا ہوں کہ قربانی مری انمول ہو
آپ کہتے ہیں کہ بریانی میں بوٹی گول ہو
برف خانوں میں جو میرے گوشت کا اسٹال ہے
یہ تو قربانی نہیں ہے، میرا استحصال ہے
میرا سر، میری زباں، میری کلیجی، میرے پائے
سب غریبوں کو دیئے جائیں یہی ہے میری رائے
میرا گردہ اس کا حصہ ہے جو خود بے گردہ ہو
میرا دل اس کے لئے ہے جس کا دل افسردہ ہو
عید کہتی ہے بڑھاؤ حوصلے احباب کے
آپ ‘کھچڑا‘ کھائے جاتے ہیں شکم کو داب کے
فرض قربانی کا مقصد جذبہ ایثار ہے
آپ کہتے ہیں کہ یہ دنبہ بہت تیار ہے
آپ معدہ کی ڈپو میں عید کا کوٹا لئے
سُوئے صحرا جا رہے ہیں ہاتھ میں لوٹا لئے
غیر اسلامی اگر ہے جو چُھری مجھ پر گری
میری قربانی نہیں یہ ہلاکت ہے میری
مر گیا میں آپ کو کھانے کی آسانی ہوئی
اس کو قربانی کہا جائے؟ یہ قربانی ہوئی
زمرہ : شعروادب | 2 تبصرے »